راولپنڈی میں ڈینگی کے مزید 5 تازہ کیسز سامنے آگئے

راولپنڈی، جو پنجاب میں ڈینگی سے سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں سے ایک ہے

راولپنڈی میں ڈینگی وائرس کا پھیلاؤ تیزی سے بڑھ رہا ہے، اور حالیہ اطلاعات کے مطابق شہر میں مزید پانچ نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جس سے متاثرہ افراد کی تعداد 59 تک پہنچ گئی ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور صحت کے حکام کی جانب سے ڈینگی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بھرپور کوششیں جاری ہیں، لیکن مون سون کی بارشوں اور ناقص صفائی کے حالات نے صورتحال کو مزید سنگین کر دیا ہے۔ اس رپورٹ میں راولپنڈی میں ڈینگی کی تازہ صورتحال، حکومتی اقدامات، اور اس سے نمٹنے کے لیے کیے جانے والے عملی اقدامات پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔

ڈینگی کیسز میں اضافہ

راولپنڈی، جو پنجاب میں ڈینگی سے سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں سے ایک ہے، میں رواں سال ڈینگی وائرس کے کیسز میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ضلعی صحت اتھارٹی (DHA) کے مطابق، 23 اگست 2025 تک شہر میں ڈینگی کے 59 مصدقہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جن میں سے پانچ نئے کیسز گزشتہ 24 گھنٹوں میں سامنے آئے ہیں۔ ان کیسز میں سے 28 مریضوں کو شہر کے مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ باقی مریض یا تو گھروں میں قرنطینہ میں ہیں یا صحت یاب ہو کر ڈسچارج ہو چکے ہیں۔ خوش قسمتی سے، رواں سال اب تک راولپنڈی میں ڈینگی سے کوئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی، لیکن صورتحال کی سنگینی نے حکام کو ہائی الرٹ پر رکھا ہے۔

نئے کیسز کی اطلاعات راولپنڈی کے گنجان آباد علاقوں جیسے گنگل، رحمت آباد، دھامہ سیداں، ڈھوک کالا خان، اور مرید چوک سے موصول ہوئی ہیں۔ ان علاقوں میں مون سون کی بارشوں کے بعد پانی کے جماؤ اور ناقص نکاسی آب کے نظام نے ڈینگی مچھر کے لاروا کی افزائش کے لیے سازگار حالات پیدا کیے ہیں۔ ڈینگی کی وجہ بننے والا ایڈیس ایجپٹی مچھر صاف اور کھڑے پانی میں افزائش کرتا ہے، جو گھروں، دکانوں، اور حتیٰ کہ قبرستانوں میں جمع شدہ پانی میں پروان چڑھتا ہے۔

ہسپتالوں میں انتظامات اور مریضوں کی منتقلی

راولپنڈی کے تین بڑے سرکاری ہسپتالوں—ہولی فیملی ہسپتال، بے نظیر بھٹو ہسپتال، اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال—میں ڈینگی کے مریضوں کے لیے خصوصی وارڈز قائم کیے گئے ہیں۔ ان ہسپتالوں میں 28 مریض زیر علاج ہیں، جن میں سے کچھ کی حالت تشویشناک لیکن مستحکم بتائی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ، فوجی فاؤنڈیشن ہسپتال اور نجی ہسپتالوں میں بھی ڈینگی کے مریضوں کا علاج جاری ہے۔ ضلعی صحت اتھارٹی کے سی ای او ڈاکٹر احسان گھنی نے بتایا کہ ہسپتالوں میں مریضوں کے لیے مناسب انتظامات کیے گئے ہیں، اور ڈاکٹروں کی ٹیمیں 24 گھنٹے مریضوں کی دیکھ بھال کر رہی ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر قریبی ہسپتال سے رجوع کریں تاکہ بروقت علاج ممکن ہو سکے۔

ڈینگی لاروا کی دریافت

ضلعی انتظامیہ نے ڈینگی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے وسیع پیمانے پر سرویلنس آپریشن شروع کیا ہے۔ اب تک 11 لاکھ 44 ہزار 746 مقامات کی جانچ کی جا چکی ہے، جن میں سے 93,453 مقامات سے ڈینگی مچھر کے لاروا برآمد ہوئے ہیں۔ ان مقامات میں گھریلو واٹر ٹینکس، ٹائر شاپس، زیر تعمیر عمارات، اور کباڑ خانوں کے علاوہ قبرستان اور دیگر کھلے مقامات شامل ہیں جہاں پانی جمع ہونے سے مچھر کی افزائش ہو رہی ہے۔ ڈپٹی کمشنر حسن وقار چیمہ نے ہدایت کی ہے کہ ہائی رسک علاقوں میں روزانہ معائنہ کیا جائے، اور لاروا کی موجودگی کی صورت میں فوری ایکشن لیا جائے۔

سرویلنس ٹیموں نے شہر کو پانچ زونز، سات سیکٹرز، اور 32 کلسٹرز میں تقسیم کیا ہے، جہاں 508 انڈور اور 1,788 آؤٹ ڈور ٹیمیں مسلسل کام کر رہی ہیں۔ ان ٹیموں نے گھر گھر جا کر واٹر کنٹینرز، پھولوں کے گملوں، اور دیگر ممکنہ افزائشی مقامات کی جانچ کی ہے۔ اس کے علاوہ، تھرڈ پارٹی سروے ٹیمیں بھی تعینات کی گئی ہیں تاکہ سرویلنس کے معیار کو یقینی بنایا جا سکے۔ اگر کسی علاقے میں لاروا ملتا ہے، تو متعلقہ عملے کے خلاف فوری تادیبی کارروائی کی جاتی ہے۔

سخت انتظامی اقدامات

ڈینگی سے بچاؤ کے لیے بنائے گئے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (SOPs) کی خلاف ورزی پر ضلعی انتظامیہ نے سخت اقدامات اٹھائے ہیں۔ اب تک 2,895 مقدمات درج کیے گئے ہیں، جن میں زیادہ تر مقدمات ٹائر شاپس، کباڑ خانوں، اور زیر تعمیر عمارات کے مالکان کے خلاف ہیں جہاں لاروا کی افزائش پائی گئی۔ اس کے علاوہ، 1,222 مقامات کو سیل کیا گیا ہے، جن میں دکانیں، گودام، اور دیگر کاروباری مراکز شامل ہیں۔ حکام نے 2,996 چالان جاری کیے ہیں اور مجموعی طور پر 62 لاکھ 52 ہزار روپے کے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ کسی بھی سیل شدہ جگہ کو دوبارہ کھولنے کی اجازت صرف ان کے دفتر سے مل سکتی ہے، اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔

راولپنڈی کے تعلیمی اداروں میں بھی ڈینگی سے بچاؤ کے لیے سخت اقدامات کیے گئے ہیں۔ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے تمام سرکاری اور نجی اسکولوں میں کیمیکل سپرے پر پابندی لگا دی ہے اور طلبہ کے لیے فل آستین کے یونیفارم کو لازمی قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ، ہر اسکول میں صبح کے وقت ایک "زیرو پیریڈ” متعارف کرایا گیا ہے، جو ڈینگی سے بچاؤ کی سرگرمیوں کے لیے مختص ہے۔

عوام کے لیے ہدایات

ضلعی صحت اتھارٹی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ڈینگی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے فعال کردار ادا کریں۔ ڈاکٹر احسان گھنی نے زور دیا کہ گھروں میں پانی کے ذخائر کو ہفتہ وار صاف کیا جائے، پھولوں کے گملوں اور واٹر ٹینکس کو ڈھانپ کر رکھا جائے، اور کھڑے پانی کو فوری طور پر ہٹایا جائے۔ انہوں نے تجویز دی کہ شہری مچھر بھگانے والی کریمیں، سپرے، یا نیٹ کا استعمال کریں، خاص طور پر صبح اور شام کے اوقات میں جب مچھر زیادہ فعال ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ، مکمل آستین والے کپڑوں کا استعمال اور رات کے وقت مچھر دانی کا استعمال بھی تجویز کیا گیا ہے۔

حکام نے عوام سے کہا ہے کہ وہ ڈینگی کی علامات—جیسے تیز بخار، سر درد، جوڑوں کا درد، آنکھوں کے پیچھے درد، اور جلد پر دھبے—کے ظاہر ہونے پر فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ بروقت تشخیص اور علاج ڈینگی کی سنگین پیچیدگیوں، جیسے ڈینگی ہیمرجک فیور یا شاک سنڈروم، کو روک سکتا ہے۔

پس منظر

راولپنڈی گزشتہ کئی برسوں سے ڈینگی کا گڑھ رہا ہے۔ 2024 میں شہر میں 5,652 ڈینگی کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے 11 اموات ہوئیں۔ اس کے مقابلے میں، 2025 میں اب تک کیسز کی تعداد کم ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ مون سون سیزن کے دوران کیسز میں تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے۔ گزشتہ سالوں کے اعدادوشمار کے مطابق، راولپنڈی اور اس کے قریبی شہر مری میں ڈینگی کے کیسز ہر سال بارشوں کے بعد عروج پر ہوتے ہیں۔ 2022 میں پاکستان بھر میں 25,932 کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے زیادہ تر ستمبر میں رپورٹ ہوئے، جب مون سون اور سیلاب نے حالات کو مزید خراب کر دیا تھا۔

راولپنڈی کی گنجان آبادی، ناقص نکاسی آب کا نظام، اور کھڑے پانی کے ذخائر ڈینگی مچھر کی افزائش کے لیے سازگار حالات پیدا کرتے ہیں۔ خاص طور پر گھریلو واٹر کنٹینرز، جو اکثر کھلے رہتے ہیں، لاروا کی افزائش کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔ ایک مطالعے کے مطابق، 2017 میں راولپنڈی کے شہری علاقوں میں ڈینگی کا پھیلاؤ گھروں میں کھلے پانی کے ذخائر کی وجہ سے تھا، اور اس کی روک تھام کے لیے مچھر بھگانے والی اشیاء کا استعمال اور پانی کے ذخائر کو ڈھانپنا ضروری ہے۔

راولپنڈی میں ڈینگی کے بڑھتے ہوئے کیسز ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ شہر ڈینگی کے خلاف جنگ میں ایک اہم محاذ ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سخت اقدامات، جیسے مقدمات کا اندراج، جرمانے، اور سرویلنس، قابل ستائش ہیں، لیکن کیسز کی تعداد میں مسلسل اضافہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ان اقدامات کی افادیت محدود ہے۔ مون سون کی بارشوں نے حالات کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے، اور ناقص صفائی اور نکاسی آب کے نظام نے ڈینگی مچھر کی افزائش کو روکنے میں بڑی رکاوٹ پیدا کی ہے۔

حکام کی جانب سے سرویلنس اور لاروا کے خاتمے کی کوششیں قابل قدر ہیں، لیکن ان کی کامیابی کا انحصار عوام کی شرکت پر ہے۔ بدقسمتی سے، بہت سے شہری اب بھی احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں کر رہے، جیسے کہ پانی کے ذخائر کو ڈھانپنا یا گھروں سے کھڑا پانی ہٹانا۔ اس کے علاوہ، بعض علاقوں میں لاروا کی موجودگی کے باوجود متعلقہ عملے کی غفلت بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، جیسا کہ گزشتہ سالوں میں تھرڈ پارٹی سروے میں سامنے آیا تھا۔

راولپنڈی میں ڈینگی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے چند اہم اقدامات کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے، عوامی آگاہی مہمات کو مزید موثر بنانے کی ضرورت ہے، جو مقامی مساجد، اسکولوں، اور سوشل میڈیا کے ذریعے چلائی جا سکیں۔ دوسرا، نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے اور شہری صفائی پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے، کیونکہ کھڑا پانی ڈینگی کی افزائش کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ تیسرا، ہسپتالوں میں ڈینگی وارڈز کی گنجائش بڑھانے اور طبی عملے کی تربیت کو جاری رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ مریضوں کو بروقت علاج مل سکے۔

مزید برآں، ڈینگی کے ساتھ ساتھ دیگر بیماریوں جیسے ملیریا اور پولیو کے بڑھتے ہوئے خطرات نے راولپنڈی کے صحت کے نظام پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ پولیو کے ماحولیاتی نمونوں کی حالیہ رپورٹس، جن میں راولپنڈی سے ٹائپ 1 وائرس کی تصدیق ہوئی، اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ شہر کو ایک جامع صحت حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ اگر حکام اور عوام مل کر کام نہ کریں، تو ڈینگی کے کیسز میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جو نہ صرف صحت کے نظام بلکہ معیشت اور سماجی ڈھانچے پر بھی منفی اثرات مرتب کرے گا۔

راولپنڈی کی موجودہ صورتحال ایک موقع ہے کہ شہری اور حکام مل کر اس چیلنج سے نمٹیں۔ اگر بروقت اور موثر اقدامات اٹھائے گئے، تو نہ صرف ڈینگی کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے بلکہ شہر کو مستقبل میں اس طرح کی وباؤں سے بچانے کے لیے ایک مضبوط نظام بھی بنایا جا سکتا ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہر شہری اپنی ذمہ داری نبھائے اور ڈینگی کے خلاف اس جنگ میں فعال کردار ادا کرے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین