ماں کے دودھ سے برڈ فلو بچے میں منتقل ہونے کا امکان؟ ماہرین نے آگاہ کردیا

برڈ فلو، بنیادی طور پر سانس کے ذریعے پھیلتے ہیں

برڈ فلو (Avian Influenza) کے بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی سطح پر ماہرین کی تشویش میں اضافہ کیا ہے، خاص طور پر اس کے ڈیری فارمز اور جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے کے امکانات کے حوالے سے۔ ایک اہم سوال جو ماہرین اور عوام کے ذہنوں میں گردش کر رہا ہے کہ کیا ماں کے دودھ کے ذریعے بچے میں برڈ فلو منتقل ہو سکتا ہے؟ حالیہ تحقیقات اور ماہرین کی رائے نے اس موضوع پر روشنی ڈالی ہے، لیکن حتمی شواہد ابھی تک ناقص ہیں۔ اس رپورٹ میں ماں کے دودھ سے برڈ فلو کی منتقلی کے امکانات، متعلقہ مطالعات، اور ڈیری فارمز سے جڑے خطرات کی تفصیلات پیش کی جائیں گی۔

موجودہ معلومات

ماہرین کے مطابق، فی الحال ماں کے دودھ کے ذریعے بچے میں برڈ فلو (خاص طور پر H5N1 وائرس) کی منتقلی کے کوئی مستند اور حتمی شواہد موجود نہیں ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) اور دیگر ممتاز صحت کے اداروں نے واضح کیا ہے کہ فلو وائرسز، بشمول برڈ فلو، بنیادی طور پر سانس کے ذریعے پھیلتے ہیں۔ یعنی کھانسی، چھینک، یا ہوا میں موجود رطوبت کے ذرات کے ذریعے یہ وائرس ایک سے دوسرے فرد تک منتقل ہوتا ہے۔ ماں کا دودھ عام طور پر اس عمل کا حصہ نہیں ہوتا۔

اس کے برعکس، ماں کا دودھ بچوں کے لیے ایک قدرتی تحفظ کا ذریعہ ہے۔ اس میں موجود اینٹی باڈیز اور غذائی اجزا نومولود کے مدافعتی نظام کو مضبوط بناتے ہیں، جو انہیں مختلف بیماریوں سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ماں کا دودھ بچوں کو برڈ فلو جیسے وائرسز سے لڑنے کی اضافی قوت فراہم کر سکتا ہے، بشرطیکہ ماں خود اس وائرس سے متاثر نہ ہو۔ تاہم، اس موضوع پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ اس کے ممکنہ خطرات کو مکمل طور پر سمجھا جا سکے۔

ڈیری فارمز اور برڈ فلو

برڈ فلو کے پھیلاؤ سے متعلق سب سے بڑی تشویش ڈیری فارمز سے جڑی ہے، جہاں حالیہ رپورٹس نے اس وائرس کی موجودگی کی نشاندہی کی ہے۔ امریکی ڈیری فارمز میں برڈ فلو (H5N1) کی موجودگی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، خاص طور پر گایوں کے تھنوں اور کچے دودھ میں۔ یہ دریافت ماہرین کے لیے ایک چونکا دینے والا انکشاف تھا، کیونکہ روایتی طور پر برڈ فلو پرندوں سے انسانوں یا دیگر جانوروں میں منتقل ہوتا رہا ہے، لیکن اس کا ممالیہ جانوروں میں پھیلاؤ ایک نیا رجحان ہے۔

امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (CDC) کے مطابق، کچے دودھ میں برڈ فلو وائرس کی موجودگی پائی گئی ہے، لیکن پیسٹورائزیشن (pasteurization) کے عمل سے یہ وائرس مکمل طور پر ختم ہو جاتا ہے۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کمرشل دودھ، جو پیسٹورائزیشن کے عمل سے گزرتا ہے، استعمال کے لیے محفوظ ہے۔ تاہم، کچے دودھ یا غیر پیسٹورائزڈ ڈیری مصنوعات کا استعمال خطرناک ہو سکتا ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں برڈ فلو کی موجودگی کی اطلاعات ہیں۔

دودھ کے ذریعے منتقلی کے اشارے

جانوروں پر کی گئی کچھ ابتدائی مطالعات نے ماں کے دودھ کے ذریعے برڈ فلو کی منتقلی کے امکانات کی طرف اشارہ کیا ہے۔ چوہوں اور دیگر ممالیہ جانوروں پر کیے گئے تجربات سے پتا چلا کہ متاثرہ ماں جانور اپنے دودھ کے ذریعے اپنے بچوں میں برڈ فلو وائرس منتقل کر سکتی ہے۔ ان مطالعات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وائرس دودھ میں موجود ہو سکتا ہے، لیکن یہ نتائج صرف جانوروں پر مبنی ہیں اور انسانوں میں اس کی تصدیق کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

حال ہی میں medRxiv نامی جریدے میں شائع ہونے والی ایک تحقیق نے انسانی دودھ کے غدود (mammary glands) کے ٹشوز کا مطالعہ کیا۔ اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ برڈ فلو وائرس سے جڑے ریسیپٹرز (receptors) انسانی دودھ کے غدود کے ٹشوز میں موجود ہیں۔ یہ دریافت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ نظریاتی طور پر ماں کے دودھ کے ذریعے برڈ فلو کی منتقلی ممکن ہو سکتی ہے۔ تاہم، ماہرین نے زور دیا کہ یہ صرف ایک امکان ہے اور اس کی تصدیق کے لیے عملی شواہد درکار ہیں۔

ماہرین کی تجاویز

ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ برڈ فلو کے حوالے سے غیر ضروری خوف و ہراس سے بچیں۔ چونکہ ماں کے دودھ کے ذریعے برڈ فلو کی منتقلی کے کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں، ماں کا دودھ بچوں کے لیے ایک محفوظ اور غذائیت سے بھرپور ذریعہ ہے۔ تاہم، وہ مائیں جو برڈ فلو سے متاثر ہونے کا خدشہ رکھتی ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں اور مناسب احتیاطی تدابیر اختیار کریں، جیسے کہ دودھ پلانے سے پہلے ہاتھ دھونا اور ماسک کا استعمال۔

ڈیری فارمز سے متعلق خطرات کے پیش نظر، ماہرین نے صارفین کو ہدایت کی ہے کہ وہ صرف پیسٹورائزڈ دودھ اور ڈیری مصنوعات استعمال کریں۔ کچے دودھ کے استعمال سے گریز کرنا خاص طور پر ضروری ہے، کیونکہ اس میں برڈ فلو سمیت دیگر نقصان دہ جراثیم موجود ہو سکتے ہیں۔

عالمی تشویش

برڈ فلو (H5N1) حالیہ برسوں میں عالمی صحت کے لیے ایک بڑھتا ہوا خطرہ بن کر سامنے آیا ہے۔ 2025 میں امریکی ڈیری فارمز میں اس وائرس کی موجودگی نے اس کی منتقلی کے نئے راستوں پر تشویش کو بڑھا دیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق، برڈ فلو کے انسانوں میں منتقل ہونے کے کیسز نایاب ہیں، لیکن جب یہ منتقل ہوتا ہے تو اس کی شرح اموات کافی زیادہ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اس وائرس کی نگرانی اور تحقیق کو اولین ترجیح دے رہے ہیں۔

پاکستان جیسے ممالک میں، جہاں ڈیری فارمز اور پولٹری انڈسٹری معیشت کا ایک اہم حصہ ہیں، برڈ فلو کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔ مقامی ماہرین نے تجویز دی ہے کہ پولٹری اور ڈیری فارمز میں باقاعدہ ٹیسٹنگ اور ویکسینیشن پروگرامز شروع کیے جائیں تاکہ اس وائرس کے پھیلاؤ کو محدود کیا جا سکے۔

ماں کے دودھ کے ذریعے برڈ فلو کی منتقلی کے بارے میں موجودہ معلومات محدود ہیں، لیکن یہ موضوع صحت عامہ کے ماہرین کے لیے ایک اہم تحقیقاتی میدان ہے۔ فی الحال، ماں کا دودھ بچوں کے لیے ایک محفوظ اور مفید ذریعہ سمجھا جاتا ہے، اور اس کے فوائد اس کے ممکنہ خطرات سے کہیں زیادہ ہیں۔ تاہم، ڈیری فارمز میں برڈ فلو کی موجودگی نے اس وائرس کے پھیلاؤ کے نئے امکانات کو جنم دیا ہے، جو عالمی سطح پر تشویش کا باعث ہے۔

جانوروں پر کی گئی مطالعات اور انسانی دودھ کے غدود کے ٹشوز میں ریسیپٹرز کی موجودگی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ نظریاتی طور پر ماں کے دودھ سے برڈ فلو کی منتقلی ممکن ہو سکتی ہے۔ لیکن اس کی تصدیق کے لیے بڑے پیمانے پر کلینیکل ٹرائلز اور طویل مدتی تحقیق کی ضرورت ہے۔ اس دوران، عوام کو غیر ضروری خوف سے بچنا چاہیے اور ماہرین کی ہدایات پر عمل کرنا چاہیے۔

پاکستان کے تناظر میں، جہاں کچا دودھ بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے، ڈیری فارمز میں برڈ فلو کی موجودگی کی نگرانی کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ مقامی پولٹری اور ڈیری انڈسٹری کو ویکسینیشن اور ٹیسٹنگ پروگرامز کے ذریعے مضبوط کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ اس کے علاوہ، عوام میں آگاہی مہمات چلا کر کچے دودھ کے خطرات اور پیسٹورائزڈ مصنوعات کے استعمال کی اہمیت کو اجاگر کیا جانا چاہیے۔

آخر میں، برڈ فلو ایک عالمی صحت کا چیلنج ہے، اور اس سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون، تحقیق، اور احتیاطی تدابیر ناگزیر ہیں۔ ماں کے دودھ سے متعلق موجودہ خلا کو پُر کرنے کے لیے مزید سائنسی مطالعے کی ضرورت ہے، لیکن اس وقت تک ماں کا دودھ بچوں کے لیے ایک محفوظ اور غذائیت سے بھرپور انتخاب ہے۔ یہ رپورٹ ہمیں اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ صحت عامہ کے مسائل سے نمٹنے کے لیے سائنسی تحقیق اور عوامی آگاہی کا امتزاج ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین