تحریر: شمائلہ فیصل
ایک پل کو اپنی آنکھیں بند کریں اور دور کسی گاوں کا تصور کریں تو سب سے پہلے کیا چیز نظروں کے سامنے آتی ہے؟؟؟ یقیناً کسی گھنے پیڑ کی چھاوں میں کھڑا کنواں سب کی نگاہوں میں گھوم جاتا ہے، کبھی ہمارے گاوں کی صبحیں کنویں کے گرد جاگتی تھیں ۔پرندوں کی چہچہاٹ ، مٹی کی خوشبو اور کنویں کے تازہ پانی سے لبریز نکالے جانے والے پہلے ڈول کی آواز دلوں کو زندگی سے بھر دیا کرتی ، یہ کنویں محض پانی کا ذریعہ نہیں تھے بلکہ ہماری تہذیب وثقافت کا آئینہ بھی تھے
گاؤں کی چوپال کے بیچوں بیچ کھڑا کنواں ہماری تہذیب، روایت اور اقدار کا استعارہ تھا۔ وہ کنواں جہاں دن چڑھتے ہی عورتیں گھڑے اور مٹکے لیے جمع ہوتیں، جہاں ہنسی کے قہقہے پانی کی چھلکار سے گھل مل جاتے، جہاں مسافر ایک پیالہ پانی سے اپنی پیاس بجھاتا اور کسان دن بھر کی مشقت کے بعد سستانے بیٹھتا۔ کنواں صرف زمین کے سینے سے پھوٹتی شفاف لہروں کا نام نہیں تھا بلکہ معاشرتی رشتوں کی ڈور، باہمی اعتماد اور سماجی جڑت کا نشان بھی تھا۔
اسی کنویں کے گرد بٹنے والے قصے، محبت بھرے بول، پرانی لوک گیت اور باہمی یگانگت کی خوشبو آج ہمارے اجتماعی حافظے کا حصہ ہیں۔ یہ محض پانی کا چشمہ نہیں بلکہ ایک ایسی روایت تھی جو ہمیں اپنی جڑوں، اپنے ورثے اور اپنی اقدار سے جوڑے رکھتی تھی۔ لیکن افسوس کہ وہی کنواں جو کبھی زندگی کا سرچشمہ تھا، آج دھیرے دھیرے ہماری یادوں کے دھندلکوں میں گم ہوتا جا رہا ہے
کنواں ہمارے گاؤں کی روح ہوا کرتا تھا۔ وہ محض ایک گڑھا یا پانی کا ذخیرہ نہیں بلکہ ایک مرکز تھا جہاں محبت، تعلق اور روایت بہتی تھی۔ یہی وہ مقام تھا جہاں نسلوں نے ایک دوسرے کے قصے سنے، پرانی کہانیاں یاد رکھیں اور نئی یادیں رقم کیں۔ کنویں کا پانی نہ صرف پیاس بجھاتا بلکہ رشتوں کی پیاس کو بھی سیراب کرتا تھا۔
آج ماضی کی اس ہی خوبصورت روایت کو اگر جدت سے جوڑ دیا جائے تو ہم اپنی آنے والے نسلوں کے لیے بہت کچھ کر سکتے ہیں ۔۔۔
غور طلب بات یہ ہے کہ پاکستان کی زمین ایک عجیب المیے کی شکار ہے۔ یہاں بارش ہو تو شہر ڈوب جاتے ہیں، سیلاب آئے تو کھیت کھلیان اجڑ جاتے ہیں، مگر جب دھوپ تیز ہو اور ہوائیں خشک ہوں تو پینے کے لیے ایک بوند کو ترسنا پڑتا ہے۔ یہ تضاد ہی ہمارے بحران کی جڑ ہے۔ قدرت ہر سال ہمیں اربوں لیٹر میٹھا پانی دیتی ہے، مگر ہم اپنی نااہلی اور کوتاہی سے اسے سمندر کے حوالے کر دیتے ہیں۔ دوسری طرف ہمارے ٹیوب ویل زمین کا آخری قطرہ تک نچوڑ رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر کب تک ہم اس دوہرے عذاب کا شکار رہیں گے؟
ہم نے ہمیشہ ڈیموں کی بات کی، نعرے لگائے، منصوبے بنائے، مگر یا تو وہ سیاسی تنازعات میں دب گئے یا دہائیوں پر محیط خواب بن گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ ڈیم اپنی جگہ اہم ہیں لیکن فوری اور ہر جگہ ممکن نہیں۔ ایسے میں ایک متبادل مگر انقلابی حل دنیا ہمارے سامنے رکھ رہی ہے: Aquifer Wells یا Recharge Wells—یعنی ایسے کنویں جو بارش اور سیلابی پانی کو فلٹر کر کے زمین کے بطن میں اتار دیتے ہیں، جہاں یہ محفوظ خزانے کی طرح جمع ہو جاتا ہے۔
یہ کوئی خیالی منصوبہ نہیں۔ بھارت کے شہر چنئی میں جب 2002 میں بارش کے پانی کو لازمی طور پر زمین میں محفوظ کرنے کا قانون بنایا گیا تو چند برسوں میں خشک کنویں لبریز ہونے لگے، اور زیر زمین پانی کی سطح چھ سے آٹھ میٹر بلند ہو گئی۔ آسٹریلیا کے شہر پرتھ میں "Groundwater Replenishment Scheme” سالانہ 28 ارب لیٹر پانی زمین کے اندر محفوظ کرتا ہے۔ امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا میں تو اس منصوبے کو "Flood-MAR” کا نام دیا گیا ہے، جہاں سیلابی پانی کو منظم طریقے سے کھیتوں اور کنوؤں کے ذریعے ایکویفرز تک پہنچایا جاتا ہے۔ یہ سب مثالیں چیخ چیخ کر کہہ رہی ہیں کہ مسئلے کا حل ممکن ہے—بس نیت اور حکمتِ عملی چاہیے۔
پاکستان میں بھی امید کی کرنیں موجود ہیں۔ اسلام آباد کے کچنار پارک میں لگایا گیا ایک ریچارج ویل چند ہی ماہ میں لاکھوں گیلن پانی زمین میں محفوظ کر چکا ہے۔ سی ڈی اے نے اعلان کیا ہے کہ وہ سو مزید ویلز لگائے گا تاکہ بارش کے پانی کو ضائع ہونے کے بجائے محفوظ کیا جا سکے۔ لاہور میں WWF نے دس بڑی مساجد کے نیچے ایسے نظام نصب کیے ہیں جہاں وضو اور بارش کا پانی زمین کو لوٹا دیا جاتا ہے۔ یہ چھوٹے چھوٹے اقدامات ثابت کرتے ہیں کہ اگر چاہا جائے تو بڑے خواب بھی حقیقت میں ڈھل سکتے ہیں۔
اس منصوبے کے بے شمار فوائد ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ سیلابی پانی کا زور ٹوٹتا ہے اور تباہی کم ہوتی ہے۔ دوسرا یہ کہ زمین کی گرتی ہوئی واٹر ٹیبل کو سہارا ملتا ہے اور ٹیوب ویل کا دباؤ گھٹتا ہے۔ تیسرا فائدہ یہ ہے کہ شہروں میں بارش کے دوران سڑکوں پر کھڑے پانی کا حل بھی نکل آتا ہے، کیونکہ یہی پانی ذخیرہ ہو کر بعد میں باغات اور شہری سبزے کو سینچ سکتا ہے۔ اور سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ نظام کم خرچ ہے اور چند مہینوں میں فعال ہو سکتا ہے، برعکس اُن ڈیموں کے جو دہائیوں پر محیط ہوتے ہیں۔
لیکن اس کے لیے کچھ احتیاطیں بھی ضروری ہیں۔ اگر صنعتی یا گندے نالوں کا پانی بغیر صفائی کے ریچارج کر دیا جائے تو زیر زمین آلودگی بڑھ سکتی ہے۔ اسی لیے فلٹر، سیٹلمنٹ ٹینکس اور مانیٹرنگ لازمی ہونی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ بلدیاتی سطح پر قوانین وضع کرنے کی ضرورت ہے کہ ہر نئی عمارت اور ہاؤسنگ سوسائٹی بارش کے پانی کو لازماً زمین میں محفوظ کرے۔
پانی اب ہماری آنے والی نسلوں کے لیے سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ اگر ہم نے آج ان ریلوں کو قید نہ کیا تو کل ہماری زمین بنجر ہو جائے گی اور ہماری قوم پیاسی۔ ڈیم ضرور بننے چاہییں، مگر جب تک وہ خواب کی شکل میں ہیں، ہمیں فوری اور حقیقت پسندانہ حل کی طرف جانا ہو گا۔ Aquifer Wells نہ صرف ایک متبادل ہیں بلکہ آنے والے کل کا لازمی تقاضا ہیں۔ اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے—سیلاب کو تباہی کے طور پر یاد رکھیں یا اسے زندگی کا سرمایہ بنا لیں
وہ کنویں جو کبھی گاؤں کی صبحوں کو زندگی بخشتے تھے آج پھر ہمیں آواز دے رہے ہیں ۔ فرق یہ ہے کہ اب یہ صدا گھڑوں کی کھنک کے لیے نہیں بلکہ زمین کی پیاس کے لیے ہے۔ اگر ہم نے وقت کی اس پکار کو سن لیا تو بارش کے قطرے محض پانی نہیں رہیں گے، وہ امید کا چراغ، زندگی کا تحفہ اور آنے والی نسلوں کی بقا کا ترانہ بن جائیں گے۔ اور اگر ہم نے اسے نظرانداز کیا تو یہی قطرے ہماری داستان کا نوحہ لکھیں گے۔ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے—چراغ جلانا ہے یا نوحہ لکھنا ہے۔
آج کا سوال یہی ہے کہ کیا ہم اپنے ماضی کے کنویں کو محض یادوں کا استعارہ بننے دیں گے یا اسے اپنے مستقبل کا سہارا بھی بنائیں گے۔ وقت ہمیں یہ سکھا رہا ہے کہ پانی اب صرف ایک قدرتی تحفہ نہیں رہا بلکہ ہماری بقا کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ اگر ہم نے بارش اور سیلاب کے قطروں کو زمین کی امانت نہ بنایا تو آنے والی نسلیں پیاس اور پچھتاوے کے سوا کچھ نہ پائیں گی۔ مگر اگر ہم نے روایت کو جدت سے جوڑ لیا تو یہی قطرے کل کے چراغ بنیں گے—روشنی اور زندگی کے چراغ۔





















