تہران / عمان (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر خطرناک مرحلے میں داخل ہوگئی ہے جہاں ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اردن میں واقع اہم امریکی فوجی اڈے الازرق ایئربیس پر 12 بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق یہ حملہ ایران پر ہونے والی حالیہ امریکی کارروائیوں کے جواب میں کیا گیا۔ پاسدارانِ انقلاب کا مؤقف ہے کہ امریکی حملوں میں ایرانی فوجی تنصیبات، صنعتی مراکز، تفریحی مقامات اور متعدد حساس علاقوں کو نشانہ بنایا گیا تھا جس کے بعد جوابی کارروائی ناگزیر ہوگئی۔
ایرانی حکام کے مطابق میزائل حملوں کا ہدف اردن کے صوبہ زرقا میں واقع الازرق ایئربیس تھا جہاں امریکی ساختہ جدید جنگی طیارے ایف-35، ایف-16 اور ایف-15 تعینات تھے۔
ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ حملے کے نتیجے میں اڈے کی متعدد تنصیبات اور کئی جنگی طیارے تباہ ہوگئے تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع یا امریکی حکام کی جانب سے تاحال تصدیق نہیں کی گئی۔
الازرق ایئربیس اردن کے دارالحکومت عمان سے تقریباً 100 کلومیٹر دور واقع ایک اہم فوجی تنصیب ہے۔ یہ اڈہ نہ صرف اردنی فضائیہ کے مختلف فائٹر اسکواڈرنز کا مرکز ہے بلکہ ماضی میں امریکا اور نیٹو اتحادی افواج بھی اسے خطے میں عسکری آپریشنز کیلئے استعمال کرتی رہی ہیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق الازرق ایئربیس کو شام اور عراق میں شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کیلئے بھی اہم مرکز کی حیثیت حاصل رہی ہے۔
علاقائی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر ایرانی دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ خطے میں امریکی فوجی تنصیبات پر ہونے والے اہم ترین حملوں میں شمار ہوگا۔
دوسری جانب اردنی حکام کی جانب سے واقعے پر کوئی تفصیلی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا جبکہ امریکی فوج نے بھی ایرانی دعوؤں پر فوری ردعمل نہیں دیا۔
ماہرین کا خیال ہے کہ موجودہ صورتحال میں غلط معلومات اور جنگی پروپیگنڈے کے امکانات بھی موجود ہیں، اس لیے حتمی حقائق سامنے آنے تک احتیاط سے تجزیہ کرنا ضروری ہے۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی اب خطے کے دوسرے ممالک کو بھی براہِ راست متاثر کرنے لگی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اردن جیسے اتحادی ملک میں امریکی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے اور اس کے ممکنہ اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
عوامی ردعمل
سوشل میڈیا پر اس خبر کے بعد شدید بحث جاری ہے۔ بعض صارفین ایرانی کارروائی کو جوابی دفاع قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر حلقے خطے میں بڑھتی ہوئی جنگی صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
ماہرین کی رائے
دفاعی اور بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے اور اہم تنصیبات مزید خطرات سے دوچار ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ عسکری تصادم کے بجائے سفارتی راستہ اختیار کریں تاکہ ایک وسیع علاقائی بحران سے بچا جا سکے۔
مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی کئی تنازعات کا شکار ہے۔ ایسے حالات میں کسی بھی نئی فوجی محاذ آرائی کے نتائج نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کیلئے سنگین ثابت ہو سکتے ہیں۔
میری رائے میں اس نوعیت کے دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہ ہونے تک محتاط رویہ اختیار کرنا ضروری ہے۔ جنگی حالات میں معلوماتی جنگ بھی شدت اختیار کر لیتی ہے، اس لیے حقائق اور دعوؤں میں فرق کو سمجھنا انتہائی اہم ہے۔





















