(عبدالااعظم شینواری)لنڈی کوتل کا تاریخی سرائے بازار، جو کبھی اپنی رونقوں اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے مشہور تھا، آج ٹاؤن میونسپل ایڈمنسٹریشن (ٹی ایم اے) کی بدانتظامی اور مبینہ کرپشن کی وجہ سے گندگی اور بدبو کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکا ہے۔ بازار کی گلیوں میں پھیلے کچرے کے ڈھیر اور ناقص صفائی کے نظام نے نہ صرف مقامی تاجروں اور خریداروں کی زندگی اجیرن کر دی ہے بلکہ اس تاریخی ورثے کی شان کو بھی داغدار کر دیا ہے۔ تاجر اور رہائشی حکام سے فوری انکوائری اور سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ اس بازار کو تباہی سے بچایا جا سکے۔
تاریخی بازار کی تباہی
لنڈیکوتل کا سرائے بازار، جو تقریباً 2,700 دکانوں پر مشتمل ہے، روزانہ سینکڑوں خریداروں اور زائرین کا مرکز رہتا ہے۔ یہ بازار نہ صرف مقامی معیشت کا اہم ستون ہے بلکہ اس کی تاریخی اہمیت بھی خطے کے ثقافتی ورثے کی عکاسی کرتی ہے۔ تاہم، آج اس بازار کی حالت انتہائی مخدوش ہو چکی ہے۔ گلیوں میں کچرے کے ڈھیر، بدبو، اور گندگی نے بازار کو ایک غیر صحت مند اور ناقابل برداشت جگہ بنا دیا ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ گندگی کی وجہ سے سانس لینا مشکل ہو گیا ہے، اور خریداروں کی تعداد میں بھی کمی واقع ہو رہی ہے، جو مقامی کاروبار کے لیے نقصان دہ ہے۔
مقامی دکانداروں نے بتایا کہ گندگی کے ڈھیر نہ صرف ماحول کو آلودہ کر رہے ہیں بلکہ مختلف بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ بھی بڑھا رہے ہیں۔ بازار کی یہ حالت نہ صرف صحت عامہ کے لیے خطرہ ہے بلکہ اس کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت کو بھی خطرے میں ڈال رہی ہے۔ تاجروں نے افسوس کا اظہار کیا کہ یہ بازار، جو کبھی خطے کی شناخت تھا، آج بدانتظامی کی تصویر بن چکا ہے۔
ٹی ایم اے کی بدانتظامی اور کرپشن کے الزامات
تاجروں نے ٹی ایم اے حکام پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں، جن کے مطابق ادارہ بازار کی صفائی کے بجائے صرف دکانداروں اور ریڑھی بانوں سے پیسے وصول کرنے میں مصروف ہے۔ اطلاعات کے مطابق، ٹی ایم اے اہلکار ہر ریڑھی بان سے روزانہ 50 روپے اور 100 سے زائد سرکاری دکانوں سے ماہانہ کرایہ باقاعدگی سے وصول کرتے ہیں۔ تاہم، یہ رقم بازار کی صفائی یا بہتری کے لیے استعمال نہیں ہو رہی، جس نے تاجروں میں شدید غم و غصہ پیدا کیا ہے۔
ایک مقامی تاجر نے کہا، ’’ہم ہر ماہ ٹی ایم اے کو بھاری رقوم ادا کرتے ہیں، لیکن اس کے بدلے ہمیں گندگی اور بدبو کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ یہ پیسہ کہاں جا رہا ہے؟ کیا یہ حکام کی جیبوں میں جا رہا ہے؟‘‘ تاجروں کا الزام ہے کہ ٹی ایم اے ایک ’’کرپٹ مافیا‘‘ کی شکل اختیار کر چکا ہے، جسے عوامی سہولیات یا صفائی سے کوئی سروکار نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس ادارے کے ذمہ داران کے خلاف فوری تحقیقات کی جائیں تاکہ بدعنوانی کا پردہ فاش ہو سکے۔
حکام کی خاموشی
اس سنگین صورتحال کے حوالے سے ٹی ایم او شہباز خان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن انہوں نے کوئی جواب دینے سے گریز کیا۔ یہ خاموشی تاجروں کے الزامات کو مزید تقویت دیتی ہے کہ ٹی ایم اے حکام اپنی ذمہ داریوں سے جان بوجھ کر لاتعلق ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حکام کی یہ لاپرواہی ناقابل قبول ہے اور اس سے بازار کی معاشی اور سماجی اہمیت کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
تاجروں اور عوام کا مطالبہ
بازار کے تاجروں اور رہائشیوں نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ ٹی ایم اے کے کرپٹ اہلکاروں کے خلاف فوری انکوائری شروع کی جائے اور ذمہ داران کو کڑی سزا دی جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ اٹھائے گئے تو یہ تاریخی بازار گندگی اور بدبو کے ڈھیر میں مکمل طور پر دب جائے گا، جو نہ صرف مقامی معیشت بلکہ خطے کی ثقافتی شناخت کے لیے ایک بڑا نقصان ہوگا۔
تاجروں نے یہ بھی تجویز دی کہ صفائی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے ایک شفاف میکانزم بنایا جائے، جس میں وصول شدہ رقوم کا حساب کتاب عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ٹی ایم اے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر سکتا تو اسے تحلیل کر کے ایک نیا ادارہ بنایا جائے جو عوامی مفادات کو ترجیح دے۔
حالیہ اقدامات اور ناکامی
حال ہی میں، مئی 2023 میں اسلامک ریلیف نامی تنظیم نے لنڈیکوتل بازار کی صفائی کے لیے ٹی ایم اے کو تین چنگچی لوڈر گاڑیاں اور دیگر سامان فراہم کیا تھا۔ تاہم، تاجروں کا کہنا ہے کہ اس امداد کے باوجود بازار کی حالت میں کوئی بہتری نہیں آئی۔ اس کے علاوہ، اسسٹنٹ کمشنر عدنان ممتاز نے لنڈیکوتل بازار کے دورے کے دوران غیر قانونی تجاوزات ختم کرنے اور صفائی کے نظام کو بہتر بنانے کے احکامات جاری کیے تھے، لیکن ان ہدایات پر عملدرآمد نہ ہونے سے تاجروں کی مایوسی میں اضافہ ہوا ہے۔
لنڈیکوتل کے تاریخی سرائے بازار کی موجودہ حالت نہ صرف ایک مقامی بحران بلکہ پاکستان کے چھوٹے شہروں میں میونسپل گورننس کے ناکام نظام کی عکاسی کرتی ہے۔ ٹی ایم اے کی بدانتظامی اور مبینہ کرپشن کے الزامات حکومتی اداروں میں شفافیت اور جوابدہی کی کمی کو اجاگر کرتے ہیں۔ یہ بات تشویش ناک ہے کہ ایک تاریخی اور معاشی اہمیت کا حامل بازار، جو روزانہ سینکڑوں لوگوں کی ضروریات پورا کرتا ہے، گندگی اور بدبو کی نذر ہو رہا ہے۔
ٹی ایم اے کی جانب سے وصول کی جانے والی رقوم کا کوئی واضح حساب کتاب نہ ہونا اور حکام کی خاموشی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ادارے میں بدعنوانی کے گہرے مسائل موجود ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف تاجروں اور خریداروں کے لیے تکلیف دہ ہے بلکہ صحت عامہ کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ ہے، کیونکہ گندگی سے متعدی بیماریوں کے پھیلنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دے جو ٹی ایم اے کے مالی معاملات اور صفائی کے نظام کی ناکامی کی تحقیقات کرے۔ اس کے علاوہ، مقامی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ صفائی کے لیے ایک شفاف اور موثر نظام متعارف کرائے، جس میں جدید مشینری اور تربیت یافتہ عملہ شامل ہو۔ تاجروں اور عوام کی شمولیت سے ایک واچ ڈاگ کمیٹی بنائی جانی چاہیے جو وصول شدہ رقوم کے استعمال کی نگرانی کرے۔
لنڈیکوتل کا تاریخی بازار نہ صرف مقامی معیشت کا مرکز ہے بلکہ خطے کی ثقافتی اور تاریخی شناخت کا بھی حصہ ہے۔ اس کی تباہی کو روکنا نہ صرف مقامی حکام بلکہ صوبائی حکومت کی بھی ذمہ داری ہے۔ اگر فوری اقدامات نہ اٹھائے گئے تو یہ بازار اپنی رونقیں کھو دے گا، جو نہ صرف معاشی بلکہ سماجی اور ثقافتی نقصان کا باعث بنے گا۔ یہ بحران ایک موقع ہے کہ حکام اپنی ترجیحات پر نظرثانی کریں اور عوامی مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے اس تاریخی ورثے کو بچائیں۔





















