پاکستان سے امریکا کے لیے براہ راست پروازوں کے امکانات ایک بار پھر روشن ہوگئے ہیں کیونکہ کئی سال بعد امریکی سول ایوی ایشن اتھارٹی کی ٹیم پاکستان پہنچ گئی ہے۔ اس اہم پیشرفت کو ملکی فضائی صنعت کے لیے ایک بڑا سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی فیڈرل ایوی ایشن اتھارٹی کی 5 رکنی ٹیم دبئی سے کراچی غیر ملکی ایئرلائن کی پرواز کے ذریعے پہنچی ہے۔ یہ ٹیم پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کا تفصیلی آڈٹ کرے گی تاکہ پاکستانی فضائی شعبے کے معیار اور شفافیت کو پرکھا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق اس آڈٹ میں سی اے اے کے شعبہ لائسنسنگ، فلائٹ اسٹینڈرڈ، ایئروردنیس اور اسٹیٹ سیفٹی شعبوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا۔ امریکی ٹیم اپنے دورے کے دوران مختلف محکموں سے ملاقاتیں کرے گی اور 12 ستمبر تک پاکستان سول ایوی ایشن کا آڈٹ مکمل کرنے کے بعد واپس روانہ ہوگی۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ چند سال قبل جعلی لائسنس پائلٹس اسکینڈل منظر عام پر آنے کے بعد پاکستانی ایئرلائنز کو شدید دھچکا لگا تھا۔ اس اسکینڈل کے بعد نہ صرف برطانیہ اور یورپ میں پاکستانی ایئر لائنز کی پروازوں پر پابندی عائد ہوئی بلکہ امریکا نے بھی پروازوں کی اجازت واپس لے لی تھی۔ اسی کے ساتھ امریکی فیڈرل ایوی ایشن اتھارٹی نے پاکستان سی اے اے کی ریٹنگ کم کر دی تھی، جس نے قومی فضائی صنعت کے وقار کو شدید متاثر کیا۔
اب جبکہ امریکی فیڈرل ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے پاکستان کا آڈٹ شروع ہوا ہے، تو اس بات کی قوی امید ہے کہ کامیابی کی صورت میں پاکستانی ایئرلائنز کی امریکا میں براہ راست پروازوں کی بحالی ممکن ہوسکے گی۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان سی اے اے کی عالمی ریٹنگ میں بھی بہتری آئے گی، جو نہ صرف قومی اداروں کی ساکھ میں اضافہ کرے گی بلکہ مسافروں کو بھی براہ راست سہولت میسر ہوگی۔
تجزیہ اور پس منظر
پاکستان کی فضائی صنعت ماضی میں خطے کی ایک مضبوط پہچان سمجھی جاتی تھی۔ پی آئی اے کو کبھی دنیا بھر میں ایک رول ماڈل ایئر لائن کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ بدانتظامی، سیاسی مداخلت اور کرپشن نے ادارے کو نقصان پہنچایا۔ جعلی لائسنس اسکینڈل نے پاکستان کے ہوابازی کے شعبے کو مزید نقصان پہنچایا اور دنیا بھر میں اس کی ساکھ متاثر ہوئی۔
اس تناظر میں موجودہ پیشرفت انتہائی حوصلہ افزا ہے۔ اگر آڈٹ کامیاب رہتا ہے تو یہ صرف براہ راست پروازوں کی بحالی نہیں بلکہ پاکستان کے فضائی نظام میں اعتماد کی واپسی بھی ہوگی۔ امریکا جیسے بڑے ملک میں پاکستانی ایئرلائنز کی رسائی سے نہ صرف قومی خزانے کو فائدہ ہوگا بلکہ بیرون ملک مقیم پاکستانی کمیونٹی کو بھی آسانی میسر آئے گی۔
یہ عمل اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اپنی خامیوں کو دور کرنے اور عالمی معیار کے مطابق خود کو بہتر بنانے کے لیے سنجیدہ کوششیں کی ہیں۔ یہ پیشرفت اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتی ہے کہ جب اداروں میں شفافیت اور بہتری لائی جائے تو عالمی دنیا بھی اعتماد بحال کرنے پر آمادہ ہوتی ہے۔





















