پاکستان کی تاریخ قدرتی آفات اور انسانی بے بسی کی داستانوں سے بھری ہوئی ہے۔ ہر چند برس بعد سیلاب، زلزلہ یا کسی اور آفت کے سبب لاکھوں لوگ اجڑتے ہیں، بستیاں ڈوبتی ہیں، مویشی ہلاک ہوتے ہیں اور کھڑی فصلیں برباد ہو جاتی ہیں۔ آج بھی ملک کے ہزار ہا دیہات زیرِ آب ہیں، لاکھوں افراد بے گھر اور مجبور ہو چکے ہیں۔ زندگی کا پہیہ تھم گیا ہے، اسکول، مساجد، اسپتال اور سڑکیں سب پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ ایسے وقت میں سب سے بڑی ضرورت متاثرین تک بروقت مدد پہنچانا ہے، لیکن بدقسمتی سے ہمارا نظام پھر ایک بار عوام کی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔
حکومت کے پاس نہ وسائل ہیں اور نہ ہی وہ افرادی قوت جس کے ذریعے لاکھوں متاثرین کے دکھوں کا مداوا کیا جا سکے۔ اگرچہ فوج اور ریسکیو ادارے اپنی بساط کے مطابق خدمات انجام دے رہے ہیں، لیکن متاثرین کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ یہ کوششیں ناکافی ثابت ہو رہی ہیں۔ لاکھوں افراد کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں، پینے کے پانی، کھانے پینے کی اشیاء اور طبی سہولیات کی کمی نے ان کی مشکلات کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ بھی بڑھ رہا ہے، خصوصاً بچوں اور عورتوں کی حالت سب سے زیادہ ناگفتہ بہ ہے۔
اس بحران نے ایک بار پھر اس حقیقت کو آشکار کر دیا ہے کہ کسی بھی آفت سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے مقامی حکومتوں کا فعال اور مضبوط ہونا ضروری ہے۔ بلدیاتی ادارے اگر موجود ہوتے تو حالات یکسر مختلف ہوتے۔ یہ نمائندے نہ صرف مقامی سطح پر متاثرین کے دکھ درد کو سمجھتے بلکہ وہ فوری طور پر امداد کی تقسیم، عارضی شیلٹرز کے قیام، بیماریوں سے بچاؤ اور لوگوں کے حوصلے بڑھانے میں کردار ادا کرتے۔ ہر گاؤں اور قصبے میں موجود منتخب نمائندے اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوتے اور ان کے لیے امید کی کرن ثابت ہوتے۔
بدقسمتی سے پاکستان میں بلدیاتی نظام کو ہمیشہ نظرانداز کیا گیا ہے۔ یا تو اسے فعال ہی نہیں کیا جاتا یا پھر سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آفات سے نمٹنے کے لیے صرف مرکزی حکومت یا صوبائی سطح کے ادارے کافی نہیں ہوتے۔ ایک مؤثر ڈھانچے کے طور پر بلدیاتی نمائندے ہی وہ قوت ہیں جو فوری ردعمل دکھا سکتے ہیں۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں قدرتی آفات کے وقت سب سے پہلا کردار مقامی حکومتیں ادا کرتی ہیں۔ امریکہ میں طوفان ہو یا جاپان میں زلزلہ، مقامی نمائندے اور بلدیاتی ادارے متاثرین کی زندگیوں کو سنبھالتے ہیں۔ ہمارے ہاں اگر یہ نظام فعال ہوتا تو آج لاکھوں متاثرین کو بے یار و مددگار نہ رہنا پڑتا۔
حکومت کو چاہیے کہ بلدیاتی انتخابات کرائے اور منتخب نمائندوں کو مالی و انتظامی اختیارات فراہم کرے تاکہ وہ مقامی سطح پر عوام کی خدمت کر سکیں۔ہر ضلع میں جدید آلات اور تربیت یافتہ افرادی قوت پر مشتمل مستقل یونٹ قائم کیے جائیں تاکہ قدرتی آفات کے وقت فوری امداد ممکن ہو۔صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے ساتھ ساتھ مقامی حکومتوں کو بھی الگ فنڈز فراہم کیے جائیں تاکہ ضرورت پڑنے پر متاثرین کی بروقت مدد ممکن ہو سکے۔مقامی کمیونٹی کی سطح پر آگاہی مہم چلائی جائے کہ سیلاب یا آفات کے وقت کس طرح جان بچائی جا سکتی ہے اور فوری اقدامات کیا ہونے چاہئیں۔اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کے ساتھ شراکت داری کو فروغ دیا جائے تاکہ جدید ٹیکنالوجی اور وسائل تک رسائی ممکن ہو۔
یہ حقیقت فراموش نہیں کی جا سکتی کہ قدرتی آفات آتی رہیں گی، لیکن اصل امتحان اس وقت شروع ہوتا ہے جب ہمیں اپنے لوگوں کو بچانا ہوتا ہے۔ اگر ہمارے پاس فعال بلدیاتی نمائندے ہوتے تو آج متاثرین کے پاس رونے کے لیے کم از کم ایک بھروسے مند کندھا ضرور ہوتا۔
آخر میں یہ سوچنے کی بات ہے کہ جب ایک آفت ہمارے دروازے پر دستک دے تو کیا ہمیں پھر اسی طرح بے بس اور لاچار کھڑا ہونا ہے؟ یا ہم نے وقت رہتے ایسا نظام تشکیل دینا ہے جو اپنے عوام کی حفاظت کر سکے؟ یہ فیصلہ ریاست اور حکمرانوں کو کرنا ہے، کیونکہ تاریخ ہمیشہ یاد رکھتی ہے کہ کس نے مشکل وقت میں اپنی قوم کے زخموں پر مرہم رکھا اور کس نے صرف وعدوں پر اکتفا کیا۔





















