بھارتی آبی جارحیت سے دریائے ستلج میں طغیانی، متعدد دیہات زیر آب، کھیت تباہ، ہزاروں افراد متاثر

پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کے تنازعات کی ایک طویل تاریخ ہے

9 ستمبر 2025 کو بھارت کی جانب سے دریائے ستلج میں پانی چھوڑنے کے ایک اور اقدام نے پاکستان کے پنجاب اور سندھ کے علاقوں میں شدید سیلابی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ بھارتی ہائی کمیشن نے پاکستانی وزارت آبی وسائل کو صبح 8 بجے ایک ہائی فلڈ الرٹ کے ذریعے مطلع کیا کہ دریائے ستلج کے ہریکے اور فیروزپور کے مقامات پر پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں سیکڑوں دیہات زیر آب آ گئے، ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں، اور لاکھوں افراد بے گھر ہو گئے۔ پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے فوری طور پر ہائی الرٹ جاری کیا اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے اقدامات شروع کر دیے۔ یہ رپورٹ بھارتی آبی جارحیت کے پس منظر، اس کے اثرات، اور پاکستانی حکام کی جانب سے امدادی سرگرمیوں پر روشنی ڈالتی ہے، جو اس تباہی سے نمٹنے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔

سیلابی صورتحال اور نقصانات

بھارت کی جانب سے دریائے ستلج میں پانی چھوڑنے کے نتیجے میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 27 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا، جو 40 سال میں سب سے بلند سطح ہے۔ اس سے پنجاب کے اضلاع قصور، اوکاڑہ، بہاولنگر، بورے والا، پاکپتن، اور وہاڑی شدید متاثر ہوئے ہیں۔ دریائے ستلج کے ساتھ ساتھ دریائے راوی اور چناب میں بھی پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہوئی، جس سے سیکڑوں دیہات زیر آب آ گئے۔ بہاولپور کے علاقوں میں کپاس، چاول، اور تل کی فصلیں تباہ ہو گئیں، جبکہ عارف والا میں 23 دیہات اور 26 ہزار ایکڑ زرعی زمین پانی میں ڈوب گئی۔

دریائے چناب میں بھی صورتحال تشویشناک ہے۔ تحصیل علی پور کے علاقے سیت پور میں چندر بہان کے مقام پر دریائی سپر بند ٹوٹنے سے پانی قریبی آبادیوں کی طرف بڑھ گیا۔ بستی لکھانی کے قریب بند میں شگاف نے متعدد دیہات، جیسے کہ سیت پور، خانگڑھ دوئمہ، سلطان پور، سرکی، اور خیرپور سادات کو خطرے میں ڈال دیا۔ جلالپور پیروالہ میں بستی سمون سمیت متعدد آبادیاں زیر آب ہیں، جہاں 35 سے زائد گھروں کے مکین چھتوں پر پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ متاثرین، جن میں بچے، خواتین، اور بزرگ شامل ہیں، نے حکام سے فوری ریسکیو کی اپیل کی ہے۔

پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق، دریائے ستلج، راوی، اور چناب کے سیلاب سے 43 سو سے زائد موضع جات متاثر ہوئے، اور 42 لاکھ سے زیادہ افراد اس تباہی کی زد میں آئے۔ تقریباً 21 لاکھ 63 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے، لیکن 60 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ فصلوں کے نقصان نے زرعی معیشت کو شدید دھچکا پہنچایا ہے، جبکہ ہزاروں مویشی یا تو بہہ گئے یا انخلا کے دوران مشکلات کا شکار ہیں۔

بھارتی آبی جارحیت اور سندھ طاس معاہدہ

بھارت کی جانب سے بغیر پیشگی اطلاع کے پانی چھوڑنے کو پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ یہ معاہدہ 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی میں طے پایا تھا، جس کے تحت دریائے ستلج، راوی، اور بیاس کا کنٹرول بھارت کو دیا گیا، جبکہ دریائے سندھ، جہلم، اور چناب پاکستان کے حصے میں آئے۔ تاہم، بھارت کے بھاکڑا ڈیم (90% بھرا)، پونگ ڈیم (99% بھرا)، اور تھین ڈیم (97% بھرا) سے پانی چھوڑنے کے حالیہ اقدامات نے پاکستان میں تباہی مچا دی ہے۔ پاکستانی حکام نے اسے "آبی جارحیت” قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے اس معاملے پر توجہ دینے کی اپیل کی ہے۔

بھارتی ہائی کمیشن نے 9 ستمبر کو صبح 8 بجے ہائی فلڈ الرٹ جاری کیا، لیکن اس سے پہلے بھی گزشتہ روز ہریکے اور فیروزپور سے پانی چھوڑا گیا تھا۔ پاکستانی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ کو روک کر اور پھر اچانک چھوڑنے کی حکمت عملی نے سیلاب کی شدت کو بڑھایا ہے۔ یہ صورتحال سندھ طاس معاہدے کے تحت باہمی تعاون کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے، کیونکہ معاہدے میں پانی کے بہاؤ سے متعلق پیشگی اطلاع ضروری ہے۔

امدادی سرگرمیاں اور حکومتی اقدامات

پنجاب اور سندھ کی صوبائی حکومتیں سیلاب سے نمٹنے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ پی ڈی ایم اے پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا نے کہا کہ سول انتظامیہ، پاک فوج، اور دیگر ادارے ہائی الرٹ پر ہیں۔ 417 ریلیف کیمپس، 498 میڈیکل کیمپس، اور 431 ویٹرنری کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔ تقریباً 15 لاکھ 79 ہزار جانوروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ رحیم یار خان میں 7 ہزار افراد کا انخلا مکمل ہو چکا ہے، جبکہ 12 فلڈ ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سیلاب متاثرین کے لیے 2500 ٹینٹ جلالپور پیروالہ اور رحیم یار خان روانہ کرنے کی ہدایت کی، جبکہ 1000 ٹینٹ راجن پور بھیجے گئے ہیں۔ پاک فوج، ریسکیو 1122، اور دیگر اداروں نے ہیلی کاپٹرز اور کشتیوں کے ذریعے ریسکیو آپریشنز تیز کر دیے ہیں۔ تاہم، ترنڈہ محمد پناہ میں ایک کشتی کے الٹنے سے دو خواتین جاں بحق اور چار بچے لاپتہ ہو گئے، جو امدادی کاموں میں درپیش خطرات کو ظاہر کرتا ہے۔

تاریخی سیاق و سباق

پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کے تنازعات کی ایک طویل تاریخ ہے، جو 1947 کی تقسیم کے بعد سے جاری ہے۔ سندھ طاس معاہدہ اس تنازعے کو حل کرنے کی ایک کوشش تھی، لیکن بھارت کی جانب سے وقتاً فوقتاً پانی چھوڑنے کے اقدامات نے پاکستان میں سیلاب کے خطرات کو بڑھایا ہے۔ 1988 اور 2010 کے سیلاب بھی بھارتی ڈیموں سے پانی چھوڑنے سے شدید ہوئے تھے۔ حالیہ سیلاب، جو 40 سال میں سب سے بدترین ہے، نے ایک بار پھر اس معاہدے کی اہمیت اور اس کی پاسداری پر سوالات اٹھائے ہیں۔

پاکستان میں 2022 کے تباہ کن سیلاب نے بھی لاکھوں افراد کو متاثر کیا تھا، اور حالیہ صورتحال اس کی یاد دلا رہی ہے۔ منگلا اور تربیلا ڈیموں کی گنجائش بالترتیب 89% اور 100% تک پہنچ چکی ہے، جو مزید پانی کے بہاؤ کو سنبھالنے کی صلاحیت کو محدود کر رہی ہے۔

سماجی و معاشی اثرات

اس سیلاب نے پاکستان کی زرعی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ کپاس، چاول، اور تل کی فصلیں، جو پنجاب اور سندھ کے کسانوں کی آمدنی کا بڑا ذریعہ ہیں، بڑے پیمانے پر تباہ ہو چکی ہیں۔ لاکھوں افراد کے بے گھر ہونے سے انسانی بحران نے جنم لیا ہے، جبکہ بنیادی ڈھانچے، جیسے کہ ساہوکا-چشتیاں روڈ، شگاف پڑنے سے ناکارہ ہو گئے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے، جس کے پیش نظر کلینک آن ویل اور فیو میگیشن کے اقدامات شروع کیے گئے ہیں۔

بھارتی آبی جارحیت سے پیدا ہونے والی یہ صورتحال نہ صرف ایک قدرتی آفت ہے بلکہ ایک جغرافیائی سیاسی بحران بھی ہے۔ سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، اور اسے عالمی سطح پر اٹھانے کی ضرورت ہے۔ پاکستانی حکام کی جانب سے فوری امدادی اقدامات قابل تحسین ہیں، لیکن طویل مدتی حل کے لیے واٹر مینجمنٹ سسٹم کو مضبوط کرنا اور ڈیموں کی تعمیر جیسے منصوبوں پر عمل درآمد ضروری ہے۔ مریم نواز کی قیادت میں پنجاب حکومت کی سرگرمیاں امید افزا ہیں، لیکن متاثرین کی بحالی اور نقصانات کا ازالہ ایک طویل عمل ہوگا۔ عوام کو چاہیے کہ وہ حکومتی ہدایات پر عمل کریں اور ریسکیو اداروں کے ساتھ تعاون کریں تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین