بچوں میں ہائی بلڈ پریشر کس بیماری کو جنم دے سکتا ہے؟

تحقیق میں 7 سال کی عمر کے بچوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا

10 ستمبر 2025 کو شائع ہونے والی ایک تازہ تحقیق نے بچوں میں ہائی بلڈ پریشر (ہائی پرٹینشن) اور دل کی بیماریوں کے درمیان ایک گہرا تعلق اجاگر کیا ہے۔ یہ مطالعہ، جو امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے اجلاس میں پیش کیا گیا اور سائنسی جریدے جاما میں شائع ہوا، بتاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر نہ صرف بالغوں بلکہ بچوں میں بھی دل کی بیماریوں کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھاتا ہے۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ جن بچوں کا بلڈ پریشر ان کی عمر، جنس، اور قد کے لحاظ سے اوپری 10 فیصد میں ہوتا ہے، ان میں دل کی بیماری کا خطرہ 40 سے 50 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ یہ رپورٹ اس تحقیق کی تفصیلات، بچوں میں ہائی بلڈ پریشر کے اثرات، اور اس سے بچاؤ کے ممکنہ اقدامات پر روشنی ڈالتی ہے، جو والدین اور صحت کے ماہرین کے لیے ایک اہم پیغام ہے۔

تحقیق کے اہم نتائج

امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی سرپرستی میں کی گئی اس تحقیق میں 7 سال کی عمر کے بچوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا، جن کا بلڈ پریشر ان کی عمر کے گروپ کے مقابلے میں غیر معمولی طور پر بلند تھا۔ نتائج سے پتہ چلا کہ ایسے بچوں میں دل کی بیماریوں کا خطرہ 40 سے 50 فیصد تک زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، جن بچوں کا بلڈ پریشر نارمل رینج کے اندر لیکن اوسط سے کچھ زیادہ (سسٹولک میں 13 فیصد اور ڈائیاسٹولک میں 18 فیصد اضافہ) تھا، ان میں بھی دل کی بیماری کا خطرہ بڑھتا ہوا دیکھا گیا۔

تحقیق نے خاص طور پر میجر ایڈورس کارڈیک ایونٹس (MACE) پر توجہ دی، جن میں دل کا دورہ، فالج، دل کی بیماری کی وجہ سے ہسپتال میں داخلہ، اور دیگر سنگین قلبی مسائل شامل ہیں۔ نتائج کے مطابق، ہائی بلڈ پریشر والے بچوں میں MACE کا خطرہ 2.1 گنا زیادہ تھا۔ اگرچہ دل کی بیماری سے ہونے والی اموات میں کوئی خاص اضافہ نہیں دیکھا گیا، لیکن دیگر سنگین نتائج، جیسے کہ دل کی ناکامی، شریانوں کی سختی، اور گیسوں کی خرابی، نمایاں طور پر بڑھ گئے۔

ایک اور جامع میٹا اینالیسس، جس میں متعدد مطالعات کا جائزہ لیا گیا، نے تصدیق کی کہ بچوں اور نوجوانوں میں ہائی بلڈ پریشر بالغ زندگی میں دل کی بیماریوں کے درمیانی اور سنگین نتائج سے براہ راست منسلک ہے۔ یہ مطالعہ بتاتا ہے کہ بچپن میں ہائی بلڈ پریشر دل کی دیواروں کے موٹے ہونے (ہائپرٹرافی) اور شریانوں کی سختی (آرٹیریل اسٹفنس) جیسے ابتدائی علامات کا باعث بنتا ہے، جو بعد میں سنگین قلبی مسائل کا پیش خیمہ بنتے ہیں۔

بچوں میں ہائی بلڈ پریشر کی وجوہات

بچوں میں ہائی بلڈ پریشر کی کئی ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں شامل ہیں:

  • جینیاتی عوامل: اگر والدین یا خاندان میں ہائی بلڈ پریشر کی تاریخ ہو، تو بچوں میں اس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

  • موٹاپا: بچوں میں بڑھتا ہوا موٹاپا ہائی بلڈ پریشر کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ غیر صحت مند خوراک، فاسٹ فوڈ، اور ورزش کی کمی اسے مزید بڑھاوا دیتی ہے۔

  • غیر صحت مند طرز زندگی: زیادہ نمک والی خوراک، تناؤ، اور نیند کی کمی بھی بلڈ پریشر کو متاثر کرتی ہے۔

  • دائمی بیماریاں: گردوں کے امراض، ذیابیطس، یا ہارمونل عدم توازن بھی ہائی بلڈ پریشر کا باعث بن سکتے ہیں۔

  • ماحولیاتی عوامل: آلودگی، سگریٹ کے دھوئیں کا غیر ارادی سامنا، اور تناؤ بھرا ماحول بھی بچوں کی صحت پر اثر انداز ہوتا ہے۔

پاکستان جیسے ممالک میں، جہاں فاسٹ فوڈ کا رجحان بڑھ رہا ہے اور بچوں میں جسمانی سرگرمیاں کم ہو رہی ہیں، ہائی بلڈ پریشر کے کیسز میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

دل کی بیماریوں سے تعلق

ہائی بلڈ پریشر دل کی بیماریوں کے خطرے کو کیسے بڑھاتا ہے؟ ماہرین کے مطابق، بچپن میں بلند بلڈ پریشر شریانوں پر دباؤ ڈالتا ہے، جس سے وہ سخت اور تنگ ہو جاتی ہیں۔ یہ حالت، جسے ایتھروسکلروسس کہا جاتا ہے، دل کے دورے اور فالج کا خطرہ بڑھاتی ہے۔ اس کے علاوہ، ہائی بلڈ پریشر دل کی دیواروں کو موٹا کر دیتا ہے، جس سے دل کو خون پمپ کرنے میں زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے۔ یہ عمل دل کی ناکامی یا دیگر قلبی مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔

تحقیق سے یہ بھی پتہ چلا کہ بچوں میں ہائی بلڈ پریشر کا اثر طویل مدتی ہوتا ہے۔ اگر بچپن میں اسے کنٹرول نہ کیا جائے، تو یہ بالغ زندگی میں سنگین بیماریوں کا پیش خیمہ بنتا ہے۔ مثال کے طور پر، ایک 7 سالہ بچے میں ہائی بلڈ پریشر بالغ ہونے تک شریانوں کی صحت کو خراب کر سکتا ہے، جس سے MACE کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

بچاؤ کے اقدامات

ماہرین نے والدین اور صحت کے اداروں کو درج ذیل اقدامات کی تجویز دی ہے:

  1. صحت مند خوراک: بچوں کو کم نمک، کم چکنائی، اور زیادہ فائبر والی خوراک دیں۔ پھل، سبزیاں، اور مکمل اناج کو ترجیح دیں۔

  2. جسمانی سرگرمی: روزانہ کم از کم 60 منٹ کی جسمانی سرگرمی، جیسے کہ کھیل، دوڑ، یا سائیکلنگ، کو یقینی بنائیں۔

  3. باقاعدہ چیک اپ: بچوں کے بلڈ پریشر کی باقاعدہ نگرانی کریں، خاص طور پر اگر خاندان میں ہائی بلڈ پریشر کی تاریخ ہو۔

  4. وزن کنٹرول: موٹاپے سے بچاؤ کے لیے صحت مند وزن برقرار رکھیں۔ بچوں کو فاسٹ فوڈ اور میٹھے مشروبات سے دور رکھیں۔

  5. تناؤ کا انتظام: بچوں کو تناؤ سے نمٹنے کے لیے صحت مند سرگرمیاں، جیسے کہ یوگا یا مراقبہ، سکھائیں۔

  6. تمباکو سے دوری: گھر کو سگریٹ کے دھوئیں سے پاک رکھیں، کیونکہ یہ بلڈ پریشر کو بڑھاتا ہے۔

پاکستان میں، جہاں صحت کے بنیادی ڈھانچے کی کمی ہے، والدین کو خود ہوشیار رہنا ہوگا۔ اسکولوں میں صحت کے جائزوں اور آگاہی پروگراموں کو فروغ دینا بھی ضروری ہے۔

سماجی اور طبی مضمرات

یہ تحقیق پاکستانی معاشرے کے لیے ایک اہم انتباہ ہے، جہاں بچوں میں موٹاپے اور غیر صحت مند طرز زندگی کے رجحانات بڑھ رہے ہیں۔ ہائی بلڈ پریشر، جو پہلے صرف بالغوں کی بیماری سمجھا جاتا تھا، اب بچوں میں بھی تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اس سے نہ صرف بچوں کی صحت خطرے میں ہے بلکہ مستقبل میں صحت کے نظام پر بھی بوجھ بڑھے گا۔

امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن نے زور دیا کہ بچوں میں ہائی بلڈ پریشر کی تشخیص اور علاج کے لیے نئی گائیڈلائنز کی ضرورت ہے۔ پاکستان جیسے ممالک میں، جہاں بچوں کی صحت پر توجہ کم ہے، اس تحقیق کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔ صحت کے اداروں کو چاہیے کہ وہ اسکولوں میں مفت بلڈ پریشر اسکریننگ پروگرام شروع کریں اور والدین کو آگاہی دیں۔

تاریخی سیاق و سباق

ماضی میں، ہائی بلڈ پریشر کو بنیادی طور پر بالغوں کی بیماری سمجھا جاتا تھا، لیکن گزشتہ دو دہائیوں میں بچوں میں اس کے کیسز میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ 2004 میں امریکن اکیڈمی آف پیڈیاٹرکس نے بچوں کے لیے بلڈ پریشر کی نئی گائیڈلائنز جاری کی تھیں، جن میں کہا گیا تھا کہ 3 سال سے زائد عمر کے بچوں کا بلڈ پریشر باقاعدگی سے چیک کیا جائے۔ حالیہ تحقیق اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ بچپن کی یہ بیماری بالغ زندگی میں سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔ پاکستان میں، جہاں صحت کے اعدادوشمار کی کمی ہے، ایسی تحقیقات نایاب ہیں، لیکن عالمی مطالعات سے یہ واضح ہے کہ غیر صحت مند طرز زندگی اس رجحان کو بڑھا رہی ہے۔

یہ تحقیق ایک چونکا دینے والا انکشاف ہے کہ بچپن میں ہائی بلڈ پریشر نہ صرف فوری صحت کے مسائل کا باعث بنتا ہے بلکہ مستقبل میں دل کی بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھاتا ہے۔ پاکستان جیسے ممالک، جہاں بچوں میں موٹاپے کی شرح 10 سے 15 فیصد تک بڑھ رہی ہے، کے لیے یہ ایک خطرے کی گھنٹی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی خوراک، ورزش، اور باقاعدہ چیک اپ پر توجہ دیں۔

حکومت اور صحت کے اداروں کو اس تحقیق کے نتائج کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے عوامی آگاہی مہمات شروع کرنی چاہئیں۔ اسکولوں میں صحت مند کھانوں کی ترویج، کھیلوں کے میدانوں کی بحالی، اور مفت اسکریننگ پروگرامز اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ضروری ہیں۔ اگرچہ تحقیق امریکی ڈیٹا پر مبنی ہے، لیکن اس کے نتائج عالمی سطح پر قابل اطلاق ہیں۔ پاکستان میں، جہاں دل کی بیماریاں پہلے ہی موت کی ایک بڑی وجہ ہیں، بچوں کی صحت پر فوری توجہ دینا ناگزیر ہے۔ یہ تحقیق ہمیں یاد دلاتی ہے کہ بچوں کی صحت مستقبل کی صحت ہے، اور اسے نظرانداز کرنے کی قیمت ہماری آنے والی نسلیں ادا کریں گی۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین