اسلام آباد:16 ستمبر سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فی لیٹر 4 روپے 79 پیسے تک کا اضافہ متوقع ہے۔ یہ اضافہ نہ صرف عام آدمی کی جیبوں پر دباؤ بڑھائے گا بلکہ ٹرانسپورٹ، صنعت اور روزمرہ کی زندگی کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔ پیٹرول کی قیمت میں 1 روپے 54 پیسے، ہائی سپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) میں 4 روپے 79 پیسے، مٹی کا تیل (کیرو سین) میں 3 روپے 6 پیسے اور لائٹ ڈیزل میں 3 روپے 68 پیسے کا اضافہ ہو سکتا ہے، جو عالمی تیل کی مارکیٹ کی اتار چڑھاؤ اور مقامی معاشی عوامل کی وجہ سے ناگزیر نظر آ رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (او جی آر اے) نے اپنے ابتدائی ورکنگ کو حتمی شکل دے دی ہے، جو 15 ستمبر کو پیٹرولیم ڈویژن کو بھیجا جائے گا۔ اس کے بعد پیٹرولیم ڈویژن اور وزارت خزانہ، لیویز اور دیگر ٹیکسوں کی روشنی میں حتمی حساب کتاب تیار کر کے وزیراعظم کو پیش کریں گے۔ واضح رہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کسی بھی تبدیلی کی حتمی منظوری کا اختیار وزیراعظم کے پاس محفوظ ہے، جو معاشی حالات اور عوامی ردعمل کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کریں گے۔ یہ عمل ہر دو ہفتہ بعد دہرایا جاتا ہے، جو پاکستان کی توانائی کی پالیسی کا لازمی حصہ ہے۔
اسے بھی پڑھیں: نیپال میں پارلیمنٹ تحلیل، خاتون عبوری وزیراعظم مقرر، انتخابات کی تاریخ کا اعلان
اس ممکنہ اضافے کی خبر سے متعلقہ حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے، جہاں انڈسٹری کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ قدم مہنگائی کی لہر کو مزید تیز کر سکتا ہے۔ ایک اعلیٰ عہدیدار نے نام چھپانے کی شرط پر بتایا کہ "عالمی تیل کی قیمتیں مستحکم ہونے کے باوجود، روپے کی قدر میں کمی اور امپورٹڈ ایندھن کی لاگت میں اضافہ اس ورکنگ کا بنیادی سبب ہے۔” اسی طرح، ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشنز نے اعلان کیا ہے کہ اگر قیمتوں میں اضافہ ہوا تو بس اور ٹرک کرایوں میں 10 سے 15 فیصد تک کا اضافہ ناگزیر ہوگا، جو بالآخر صارفین تک منتقل ہو جائے گا۔
پس منظر
پاکستان کی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین ایک پیچیدہ عمل ہے، جو 2002 میں قائم ہونے والی او جی آر اے کی نگرانی میں ہوتا ہے۔ یہ اتھارٹی ہر 15 دن بعد عالمی کروڈ آئل کی قیمتوں (جیسے برنٹ اور ڈبئی کروڈ)، امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر، اور مقامی ٹیکسوں (جیسے جنرل سیلز ٹیکس، پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی، اور انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ لیوی) کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی قیمتیں تجویز کرتی ہے۔ 2025 میں یہ عمل مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے، کیونکہ ملک معاشی بحران سے گزر رہا ہے اور آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت فنانشل ڈسپلن کو یقینی بنانا پڑ رہا ہے۔
سال کے آغاز میں، جنوری 2025 میں پیٹرول کی قیمت 250 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی تھی، جو جیو پولیٹیکل تناؤ (خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی) اور روپے کی 5 فیصد کمی کی وجہ سے ہوا۔ مارچ میں ایک بڑا اضافہ دیکھا گیا جب عالمی تیل کی قیمت 85 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جس سے پیٹرول 265 روپے تک مہنگا ہو گیا۔ تاہم، جولائی اور اگست میں عالمی مارکیٹ میں استحکام اور حکومت کی سبسڈی کی پالیسی کی وجہ سے قیمتیں نسبتاً مستحکم رہیں۔ مثال کے طور پر، 1 ستمبر 2025 کو نافذ ہونے والی تازہ ترین ریویژن میں پیٹرول کی قیمت 264.61 روپے پر برقرار رہی، جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل 3 روپے 13 پیسے سستا ہو کر 269.86 روپے فی لیٹر پر آ گئی۔ اب 16 ستمبر کی ریویژن میں اضافہ کی توقع اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی پریمیمز (موٹر گیسولین کا 6.37 ڈالر فی بیرل) اور روپے کی حالیہ کمزوری (جو 278 روپے فی ڈالر کے قریب ہے) نے صورتحال کو تبدیل کر دیا ہے۔
یہ اضافے پاکستان کی مجموعی توانائی کی بحالی کی کوششوں کا حصہ ہیں، جہاں ملک 80 فیصد سے زائد پیٹرولیم مصنوعات درآمد کرتا ہے، جو سالانہ 20 بلین ڈالر سے تجاوز کر گئی لاگت کا سبب بنتی ہے۔ حکومت کی پالیسی، جو آئی ایم ایف کے فنانشل کنڈیشنز سے جڑی ہوئی ہے، ٹیکسوں میں اضافے کی راہ اختیار کر رہی ہے تاکہ بجٹ خسارہ کم کیا جائے، لیکن یہ عوامی بوجھ کو بڑھا رہی ہے۔
معاشی اثرات اور مستقبل کی راہیں
اس ممکنہ قیمتوں میں اضافے کے دور رس اثرات معیشت کے ہر شعبے پر مرتب ہوں گے، جو پہلے ہی مہنگائی کی شرح 12 فیصد سے اوپر جھیل رہی ہے۔ سب سے پہلے، ٹرانسپورٹ سیکٹر بری طرح متاثر ہوگا، جہاں پیٹرول اور ڈیزل کی لاگت میں اضافہ سامان کی ترسیل کے اخراجات کو 8 سے 10 فیصد بڑھا دے گا، جو بالآخر غذائی اشیاء اور دیگر ضروریات کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنے گا۔ مثال کے طور پر، ایک عام گھرانے کی ماہانہ پیٹرول خرچہ، جو فی الحال 5 ہزار روپے کے قریب ہے، 500 روپے تک بڑھ سکتا ہے، جو کم آمدنی والے طبقات کے لیے سنگین چیلنج ہوگا۔
دوسرا، صنعتی سطح پر، ٹیکسٹائل اور کیمیکل سیکٹرز جیسے شعبے، جو ڈیزل پر انحصار کرتے ہیں، پیداواری لاگت میں اضافے کا شکار ہوں گے، جو برآمدات کو مزید کمزور کرے گا۔ پاکستان کی برآمدات، جو پہلے ہی 30 بلین ڈالر سالانہ پر محدود ہیں، اس سے مزید دباؤ کا شکار ہوں گی، خاص طور پر جب عالمی مارکیٹ میں مقابلہ سخت ہو۔ اس کے علاوہ، ماحولیاتی پہلو سے، قیمتوں کا اضافہ لوگوں کو عوامی ٹرانسپورٹ کی طرف مائل کر سکتا ہے، جو آلودگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا، لیکن موجودہ انفراسٹرکچر کی کمی اس فائدے کو محدود کر دے گی۔
حکومت کے نقطہ نظر سے، یہ قدم آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی تکمیل کے لیے ضروری ہے، جو لیویز کے ذریعے 500 ارب روپے کی اضافی آمدنی کا ہدف رکھتا ہے۔ تاہم، یہ عوامی ناراضگی کو ہوا دے سکتا ہے، جیسا کہ ماضی میں دیکھا گیا جب 2023 میں قیمتوں کے بڑے اضافے نے احتجاج کا باعث بنا۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ حکومت سبسڈیز کو دوبارہ متعارف کروائے، جیسے الیکٹرک گاڑیوں پر رعایت یا LNG کی درآمد بڑھا کر پیٹرولیم پر انحصار کم کرے۔ مستقبل میں، اگر عالمی تیل کی قیمتیں 80 ڈالر فی بیرل سے نیچے رہیں اور روپے مستحکم ہو جائے تو اکتوبر کی ریویژن میں ریلیف مل سکتا ہے، ورنہ معاشی دباؤ مزید گہرا ہوگا۔
یہ رپورٹ عوامی شعور اجاگر کرنے کا ایک ذریعہ ہے، جہاں حکومت سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ شفافیت اور عوامی فلاح کو ترجیح دی جائے تاکہ یہ اضافہ کم سے کم نقصان دہ ثابت ہو۔





















