
پشاور صرف ایک شہر نہیں، بلکہ تاریخ، تہذیب، روایات اور قربانیوں کی ایک طویل داستان ہے۔ یہ وہ شہر ہے جہاں امن قائم رکھنا ہمیشہ ایک بڑا امتحان رہا ہے۔ یہاں پولیس کی قیادت کرنا محض ایک عہدہ سنبھالنا نہیں بلکہ ایک بہت بڑی ذمہ داری اٹھانا ہے۔ پشاور جیسے حساس شہر میں ایک پولیس سربراہ سے عوام صرف کارروائیوں کی نہیں بلکہ اعتماد، انصاف اور تحفظ کی امید رکھتے ہیں۔
ماضی میں پشاور میں کئی سی سی پی اوز آئے، ہر افسر نے اپنے انداز میں ذمہ داریاں ادا کیں، لیکن کچھ افسران ایسے ہوتے ہیں جن کا اندازِ کار عوام کی گفتگو کا حصہ بن جاتا ہے۔ موجودہ سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید احمد کا نام بھی انہی افسران میں لیا جا رہا ہے جنہوں نے پولیسنگ کو صرف دفتر کی چار دیواری تک محدود رکھنے کے بجائے فیلڈ، عوامی رابطے اور احتساب کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا۔
ایک افسر کی پہچان صرف اس کے عہدے سے نہیں ہوتی بلکہ اس بات سے ہوتی ہے کہ عام آدمی اسے کس نظر سے دیکھتا ہے۔ جب ایک غریب شہری یہ محسوس کرے کہ اس کی آواز اعلیٰ افسر تک پہنچ سکتی ہے، جب ایک مظلوم یہ امید لے کر پولیس دفتر جائے کہ اسے سنا جائے گا، تو یہی کسی بھی پولیس نظام کی اصل کامیابی ہوتی ہے۔
احتساب، عوامی خدمت اور فیلڈ میں موجود ایک پولیس سربراہ
ڈاکٹر میاں سعید احمد کی قیادت کا ایک نمایاں پہلو پولیس کے اندر احتساب کا عمل ہے۔ ایک مضبوط ادارہ اسی وقت قائم ہوتا ہے جب ادارے کے اندر موجود کمزوریاں دور کی جائیں۔ ان کے دور میں ایسے پولیس اہلکاروں اور افسران کے خلاف کارروائیوں کا ذکر سامنے آیا جو مبینہ طور پر جرائم پیشہ عناصر سے روابط یا غفلت کے مرتکب پائے گئے۔
پولیس کے اندر احتساب آسان کام نہیں ہوتا، کیونکہ اس کے لیے اپنے ہی نظام میں اصلاحات لانا پڑتی ہیں۔ ایک سربراہ جب یہ پیغام دیتا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے تو اس کا اثر صرف پولیس اہلکاروں پر نہیں بلکہ پورے معاشرے پر پڑتا ہے۔

ڈاکٹر میاں سعید احمد نے تھانوں کی کارکردگی، ایس ایچ اوز کی نگرانی اور عوامی شکایات کے ازالے پر خصوصی توجہ دی۔ ان کے حامیوں کے مطابق اگر کوئی افسر عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام رہے تو اس سے جواب طلبی کی جاتی ہے اور ضرورت پڑنے پر محکمانہ کارروائی بھی عمل میں لائی جاتی ہے۔
پشاور کے شہریوں کے لیے سب سے اہم مسئلہ ہمیشہ انصاف تک رسائی رہا ہے۔ اسی مقصد کے لیے کھلی کچہریوں کا انعقاد ایک اہم قدم سمجھا جاتا ہے۔ ہر پیر کو اپنے دفتر میں شہریوں کی شکایات سننا اور متعلقہ افسران کو ہدایات جاری کرنا اس بات کی علامت ہے کہ پولیس سربراہ عوامی مسائل کو براہ راست سننے میں دلچسپی رکھتا ہے۔
آج کے دور میں جہاں عام شہری اکثر یہ شکایت کرتے ہیں کہ ان کی آواز اوپر تک نہیں پہنچتی، وہاں براہ راست رابطے کا نظام عوامی اعتماد کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ڈاکٹر میاں سعید کی جانب سے شہریوں کے لیے واٹس ایپ رابطے کی سہولت فراہم کرنا بھی اسی سلسلے کی ایک کوشش قرار دی جاتی ہے۔
ایک شہری کے لیے یہ احساس بہت اہم ہوتا ہے کہ اگر تھانے میں اس کی بات نہ سنی جائے تو وہ کسی اعلیٰ افسر تک اپنی فریاد پہنچا سکتا ہے۔
پشاور میں جرائم کے خلاف کارروائی بھی ان کی ترجیحات میں شامل رہی۔ قبضہ گروپوں، بھتہ خوروں اور اسٹریٹ کرائم میں ملوث عناصر کے خلاف اقدامات کیے گئے۔ شہریوں کی جانب سے یہ تاثر سامنے آیا کہ پولیس کی کارروائیوں سے جرائم پیشہ افراد کے لیے مشکلات پیدا ہوئیں۔
ہوائی فائرنگ جیسے خطرناک رجحان کے خلاف بھی اقدامات کیے گئے۔ ہوائی فائرنگ صرف ایک رسم نہیں بلکہ انسانی جانوں کے لیے خطرہ ہے۔ اس کے خاتمے کے لیے مسلسل مہم، قانون کا نفاذ اور عوامی شعور ضروری ہے۔
ڈاکٹر میاں سعید کی قیادت میں پولیس کی ایک اہم ذمہ داری محرم الحرام جیسے حساس ایام میں امن و امان برقرار رکھنا بھی رہی۔ محرم الحرام کی سیکیورٹی کے دوران ان کی فیلڈ میں موجودگی کو نمایاں طور پر دیکھا گیا۔ حساس مقامات، امام بارگاہوں اور جلوسوں کے راستوں کا دورہ کرنا اور انتظامات کی نگرانی کرنا ایک ایسے کمانڈر کی تصویر پیش کرتا ہے جو صرف دفتر میں بیٹھ کر فیصلے نہیں کرتا بلکہ خود میدان میں جا کر حالات کا جائزہ لیتا ہے۔
ایک افسر کی موجودگی ماتحت فورس کے حوصلے بلند کرتی ہے۔ جب سربراہ خود اہلکاروں کے درمیان موجود ہو تو پوری فورس میں ذمہ داری کا احساس بڑھ جاتا ہے۔
تشہیر سے زیادہ کام پر یقین رکھنے والی قیادت
آج کے دور میں سوشل میڈیا نے ہر شعبے میں نمایاں کردار حاصل کر لیا ہے۔ بعض شخصیات اپنی سرگرمیوں کو بھرپور انداز میں سوشل میڈیا پر پیش کرتی ہیں، جبکہ بعض افراد کی ترجیح خاموشی سے کام کرنا ہوتی ہے۔
ڈاکٹر میاں سعید کے بارے میں ان کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ انہوں نے تشہیر کے بجائے عملی اقدامات کو ترجیح دی۔ ان کے مطابق وہ عوامی مسائل کے حل، پولیسنگ میں بہتری اور فیلڈ نگرانی کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔

پنجاب میں ڈی پی او احمد محی الدین جیسے افسران کی کارکردگی بھی عوامی حلقوں میں زیر بحث رہی ہے۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں ڈاکٹر میاں سعید کا نام بھی ایک ایسے پولیس افسر کے طور پر سامنے آیا جس کے بارے میں شہری گفتگو کرتے ہیں۔
دونوں افسران کے کام کرنے کے انداز مختلف ہو سکتے ہیں، لیکن ایک بات مشترک ہے کہ عوام ان افسران کو پسند کرتے ہیں جو اپنی ذمہ داری کو محض نوکری نہیں بلکہ خدمت سمجھتے ہیں۔
ڈاکٹر میاں سعید کی ایک اور خصوصیت یہ بیان کی جاتی ہے کہ وہ کھلی کچہریوں اور شہری ملاقاتوں میں لوگوں کے ذاتی مسائل کو تشہیر کا ذریعہ بنانے کے بجائے رازداری کے ساتھ حل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے خلاف کارروائیوں کے دوران بھی پولیس کے اندر شفافیت اور قانون کے مطابق عمل درآمد پر زور دیا گیا۔ کسی بھی آپریشن کی کامیابی اسی وقت ممکن ہوتی ہے جب قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار خود قانون کی پابندی کریں۔
اسی طرح ڈی آر سیز کو فعال کرنا بھی مقامی سطح پر تنازعات کے حل کے لیے ایک اہم قدم سمجھا جاتا ہے۔ اگر ایسے نظام شفاف طریقے سے کام کریں تو عدالتوں پر بوجھ کم کرنے اور عوام کو فوری ریلیف دینے میں مدد مل سکتی ہے۔
میرا تجزیہ یہ ہے کہ کسی بھی پولیس افسر کی اصل کامیابی صرف گرفتاریاں یا کارروائیاں نہیں ہوتیں۔ اصل کامیابی یہ ہوتی ہے کہ عام شہری پولیس کو اپنا محافظ سمجھے، مظلوم کو یقین ہو کہ اسے انصاف ملے گا اور جرائم پیشہ عناصر کو احساس ہو کہ قانون حرکت میں آ چکا ہے۔
ڈاکٹر میاں سعید کے دور کے بارے میں ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے پولیس کے روایتی انداز کو بدلنے کی کوشش کی، جہاں افسر اور عوام کے درمیان فاصلے کم ہوں، جہاں تھانہ صرف مقدمہ درج کرنے کی جگہ نہ ہو بلکہ انصاف کے حصول کا مرکز بنے۔
وقت ہر افسر کی کارکردگی کا سب سے بڑا منصف ہوتا ہے۔ تاریخ انہی لوگوں کو یاد رکھتی ہے جو اپنے عہدے کو اختیار کے بجائے ذمہ داری سمجھتے ہیں۔
پشاور کو امن، انصاف اور عوامی اعتماد کی ضرورت ہے۔ اگر پولیس قیادت اسی جذبے کے ساتھ کام کرتی رہے تو نہ صرف ایک شہر بلکہ پورا معاشرہ بہتر سمت میں جا سکتا ہے۔
ایک اچھا افسر وہ نہیں جو صرف وردی پہنے، بلکہ وہ ہے جو وردی کے وقار کو اپنی دیانت، محنت اور عوامی خدمت سے بلند کرے۔ یہی کسی بھی پولیس سربراہ کی اصل پہچان ہوتی ہے۔






















