سبزیوں میں پائے جانے والے اجزا کینسر کے خلاف ڈھال بن سکتے ہیں،تحقیق

یہ طاقتور مرکبات گوبھی، بروکلی، کیلے، اور دیگر کراسیفیرس سبزیوں میں وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں

سبزیاں، جو ہماری روزمرہ کی غذا کا لازمی حصہ ہیں، نہ صرف جسم کو ضروری غذائی اجزا فراہم کرتی ہیں بلکہ جدید سائنسی تحقیق کے مطابق کینسر جیسے موذی مرض سے لڑنے اور اس کا خطرہ کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ حالیہ مطالعات نے سبزیوں میں پائے جانے والے کئی قدرتی مرکبات کی شناخت کی ہے جو ڈی این اے کی حفاظت، سوزش کو کم کرنے، اور کینسر کے خلیات کی نشوونما کو روکنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

سبزیوں کے کینسر مخالف اجزا

سائنسدانوں نے سبزیوں میں موجود متعدد بایو ایکٹو مرکبات کی نشاندہی کی ہے جو کینسر کے خطرے کو کم کرنے یا اس سے لڑنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان مرکبات کی خصوصیات اور ان کے فوائد درج ذیل ہیں:

گلوکوسینولیٹس اور آئسوتھائیوسائینیٹس

یہ طاقتور مرکبات گوبھی، بروکلی، کیلے، اور دیگر کراسیفیرس سبزیوں میں وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ سائنسی مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ مرکبات جسم میں ڈی این اے کو نقصان سے بچاتے ہیں، کینسر کا باعث بننے والے کیمیکلز کی سرگرمی کو کم کرتے ہیں، اور جسم میں سوزش کے عمل کو کنٹرول کرتے ہیں۔ مزید برآں، یہ کینسر کے خلیات کی خودکشی (apoptosis) کو فروغ دیتے ہیں، جو کینسر کی نشوونما کو روکنے میں مددگار ہے۔ یہ خصوصیات انہیں پھیپھڑوں، معدے، اور پروسٹیٹ کینسر کے خلاف خاص طور پر موثر بناتی ہیں۔

فلیوونائیڈز اور پولی فینولز

فلیوونائیڈز اور پولی فینولز پودوں میں پائے جانے والے اینٹی آکسیڈنٹس ہیں جو سبزیوں اور پھلوں، جیسے پالک، ٹماٹر، اور پیاز، میں کثرت سے موجود ہوتے ہیں۔ یہ مرکبات خلیات میں آکسیڈیٹو تناؤ کو کم کرتے ہیں، زہریلے مادوں کو بے اثر کرتے ہیں، اور جسم میں سوزش کے ردعمل کو محدود کرتے ہیں۔ یہ خلیات کی حفاظت کرتے ہیں اور کینسر کے خلیات کی نشوونما کو روکنے میں مدد دیتے ہیں۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق، پولی فینولز سے بھرپور غذا کھانے والوں میں چھاتی اور جگر کے کینسر کا خطرہ نمایاں طور پر کم ہوتا ہے۔

کیروٹینائیڈز

کیروٹینائیڈز، جو گاجر، شملہ مرچ، کدو، اور پتوں والی سبز سبزیوں جیسے پالک میں پائے جاتے ہیں، اپنے متحرک رنگوں کی وجہ سے مشہور ہیں۔ یہ مرکبات، جن میں بیٹا کیروٹین، لائکوپین، اور لیوٹین شامل ہیں، جسم میں اینٹی آکسیڈنٹ کے طور پر کام کرتے ہیں۔ ایک بڑے پیمانے پر کیے گئے مطالعے سے معلوم ہوا کہ جن افراد کے خون میں کیروٹینائیڈز کی سطح زیادہ ہوتی ہے، ان میں چھاتی کے کینسر سمیت کئی اقسام کے کینسر کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ یہ مرکبات جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط کرتے ہیں اور خلیات کو نقصان سے بچاتے ہیں۔

فولیٹ اور بی وٹامنز

سبزیوں، خاص طور پر سبز پتوں والی سبزیوں جیسے پالک، بروکلی، اور بند گوبھی میں فولیٹ (وٹامن بی 9) کی وافر مقدار پائی جاتی ہے۔ فولیٹ ڈی این اے کی مرمت اور خلیات کی صحت مند تقسیم کے لیے ضروری ہے۔ اس کی کمی ڈی این اے کے نقصان کا باعث بن سکتی ہے، جو کینسر کے خطرے کو بڑھاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، فولیٹ سے بھرپور غذا کھانے سے آنتوں اور بڑی آنت کے کینسر کا خطرہ کم کیا جا سکتا ہے۔

فائبر

سبزیوں میں موجود فائبر ہاضمے کی صحت کے لیے ناگزیر ہے۔ یہ نہ صرف آنتوں کی صحت کو بہتر بناتا ہے بلکہ کینسر کے خلیات کے ساتھ رابطے کو کم کرتا ہے، جس سے بڑی آنت کے کینسر کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ فائبر آنتوں سے زہریلے مادوں کو خارج کرنے میں مدد دیتا ہے اور ہاضمے کے نظام کو منظم رکھتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق، روزانہ 25 سے 30 گرام فائبر کا استعمال کینسر کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کر سکتا ہے۔

لہسن اور پیاز کے مرکبات

لہسن، پیاز، اور ان سے متعلقہ سبزیوں (Allium vegetables) میں موجود سلفر پر مبنی مرکبات، جیسے ایلیسن اور کوئرسیٹن، کینسر سے لڑنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جدید شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ لہسن کا باقاعدہ استعمال معدے اور بڑی آنت کے کینسر کے خطرے کو کم کر سکتا ہے۔ یہ مرکبات کینسر کے خلیات کی نشوونما کو روکتے ہیں اور جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط بناتے ہیں۔

سائنسی تحقیق اور شواہد

امریکن کینسر سوسائٹی اور ورلڈ کینسر ریسرچ فنڈ کے مطابق، سبزیوں سے بھرپور غذا کینسر کے خطرے کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ایک حالیہ تحقیق، جو Journal of Clinical Oncology میں شائع ہوئی، نے ظاہر کیا کہ روزانہ پانچ یا اس سے زیادہ حصوں میں سبزیاں اور پھل کھانے والوں میں کینسر کی شرح نمایاں طور پر کم ہوتی ہے۔ خاص طور پر کراسیفیرس سبزیوں، جیسے بروکلی اور گوبھی، کا استعمال پھیپھڑوں، معدے، اور پروسٹیٹ کینسر کے خطرے کو کم کرنے سے منسلک ہے۔

مزید برآں، نیشنل کینسر انسٹی ٹیوٹ (NCI) کی ایک رپورٹ کے مطابق، فائبر سے بھرپور غذا کھانے والوں میں بڑی آنت کے کینسر کا خطرہ 25 فیصد تک کم ہو سکتا ہے۔ اسی طرح، کیروٹینائیڈز سے بھرپور سبزیوں کا استعمال چھاتی کے کینسر کے خطرے کو 15 سے 20 فیصد تک کم کر سکتا ہے۔

عملی مشورے

ماہرین صحت تجویز کرتے ہیں کہ روزانہ کم از کم 400 سے 500 گرام سبزیاں اور پھل کھائے جائیں، جن میں مختلف رنگوں اور اقسام کی سبزیاں شامل ہوں۔ مثال کے طور پر، سبز پتوں والی سبزیاں فولیٹ اور فائبر فراہم کرتی ہیں، جبکہ نارنجی اور سرخ سبزیاں کیروٹینائیڈز سے بھرپور ہوتی ہیں۔ لہسن اور پیاز کو کھانوں میں شامل کرنے سے نہ صرف ذائقہ بڑھتا ہے بلکہ صحت کے فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں۔

تاہم، ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ سبزیوں کو زیادہ پکانے سے ان کی غذائیت کم ہو سکتی ہے۔ بھاپ میں پکانا یا ہلکا سا ابالنا بہتر ہے تاکہ ان کے قدرتی مرکبات محفوظ رہیں۔ اس کے علاوہ، تازہ اور نامیاتی سبزیوں کا انتخاب ان کے فوائد کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

ایکس پر اس تحقیق نے خاصی توجہ حاصل کی۔ ایک صارف نے لکھا، ’’سبزیاں کھانا نہ صرف صحت کے لیے بہتر ہے بلکہ کینسر جیسے مرض سے بھی بچا سکتا ہے۔ بروکلی میرا نیا پسندیدہ کھانا ہے!‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’’پاکستان میں ہمیں اپنی خوراک میں زیادہ سے زیادہ سبزیاں شامل کرنی چاہئیں۔ لہسن اور پیاز تو ہمارے کھانوں کا لازمی حصہ ہیں۔‘‘ یہ تبصرے عوام میں صحت مند غذا کے بارے میں بڑھتی ہوئی آگاہی کو ظاہر کرتے ہیں۔

سبزیوں کے کینسر سے لڑنے کی صلاحیت کے بارے میں یہ تحقیق صحت مند طرز زندگی کے لیے ایک اہم پیغام ہے۔ گلوکوسینولیٹس، فلیوونائیڈز، کیروٹینائیڈز، فولیٹ، فائبر، اور لہسن کے مرکبات جیسے اجزا نہ صرف کینسر کے خطرے کو کم کرتے ہیں بلکہ عمومی صحت کو بھی بہتر بناتے ہیں۔ یہ تحقیق پاکستان جیسے ممالک کے لیے خاص طور پر اہم ہے، جہاں کینسر کے کیسز میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور غذائی عادات میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔

تاہم، یہ بات قابل غور ہے کہ سبزیوں کے فوائد صرف ان کے باقاعدہ اور متوازن استعمال سے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ پاکستان میں، جہاں فاسٹ فوڈ اور پروسیسڈ کھانوں کی مقبولیت بڑھ رہی ہے، لوگوں کو اپنی خوراک میں تازہ سبزیوں کی مقدار بڑھانے کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر دیہی علاقوں میں، جہاں تازہ سبزیاں آسانی سے доступ ہیں، ان کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے آگاہی مہمات چلائی جانی چاہئیں۔

حکومت اور صحت کے اداروں کو چاہیے کہ وہ کینسر سے بچاؤ کے لیے عوام میں غذائی تعلیم کو فروغ دیں۔ اسکولوں، کالجوں، اور کمیونٹی سینٹرز میں ورکشاپس اور پروگرامز کے ذریعے لوگوں کو سبزیوں کے فوائد سے آگاہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، نامیاتی کاشتکاری کو فروغ دینے سے سبزیوں کی غذائیت کو بڑھایا جا سکتا ہے، جو کینسر سے لڑنے میں مزید موثر ہو سکتی ہیں۔

یہ تحقیق ہر فرد کے لیے ایک دعوت ہے کہ وہ اپنی خوراک میں رنگ برنگی سبزیوں کو شامل کرے اور صحت مند زندگی کی طرف ایک قدم اٹھائے۔ اگرچہ سبزیاں کینسر کا مکمل علاج نہیں ہیں، لیکن وہ اس مرض سے بچاؤ اور اس کے خلاف جسم کی مزاحمت کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنی پلیٹوں کو سبزیوں سے بھریں اور صحت کے لیے ایک مثبت تبدیلی لائیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین