نفسیاتی قید خانے

ہمیں بطور معاشرہ یہ سمجھنا ہوگا کہ عورت کی رائے اور آزادی کو دبانا بیماری نہیں بلکہ ظلم ہے

تحریر: اے ناز ایڈووکیٹ

پاکستان میں اکیسویں صدی میں بھی عورت کے لیے اپنی رائے دینا، اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنا، یا ’’نہ‘‘ کہنا ایک جرم ہے۔ یہ جرم ایسا ہے جس کی سزا اکثر قید کی صورت میں ملتی ہے، اور یہ قید کسی جیل میں نہیں بلکہ نفسیاتی اور بحالی مراکز میں کاٹنی پڑتی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ خواتین کسی بیماری یا خطرے کی وجہ سے نہیں بلکہ صرف اپنی مرضی کے اظہار پر قید کی جاتی ہیں۔ شادی سے انکار، خاندان کے فیصلوں کو چیلنج کرنا یا جائیداد نہ چھوڑنا یہ سب ایسے ’’جرم‘‘ ہیں جن کی پاداش میں خواتین کو زبردستی ان اداروں میں ڈال دیا جاتا ہے۔

ہمارے معاشرے کے یہ مراکز علاج اور اصلاح کے بجائے قید خانوں کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ نہ کوئی عدالتی حکم درکار ہوتا ہے، نہ کسی آزاد ماہرِ نفسیات کی رائے۔ صرف خاندان کا ایک فرد فارم پر دستخط کر دے اور فیس جمع کرا دے تو عورت چند گھنٹوں میں غائب کر دی جاتی ہے۔ اندر پہنچنے کے بعد اس کا موبائل فون ضبط ہو جاتا ہے، ملاقات پر پابندی لگ جاتی ہے، کیمرے ہر وقت نگرانی کرتے ہیں اور زبردستی نفسیاتی دوائیں دی جاتی ہیں۔

جو عورت احتجاج کرے، اسے فوراً بیمار قرار دے دیا جاتا ہے۔ اس کے غصے کو پاگل پن کا ثبوت بنا دیا جاتا ہے اور اسے بے ہوشی کے انجکشن لگا کر خاموش کرایا جاتا ہے۔ یہ علاج نہیں، یہ سزا ہے ایسی سزا جسے نفسیات کے پردے میں لپیٹ کر پیش کیا جاتا ہے تاکہ خاندان اپنی مرضی کے فیصلے مسلط کر سکے۔

اسے بھی پڑھیں: زیادہ پین کلرز کے استعمال سے سر درد میں شدت کیوں آتی ہے؟

نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کو کئی ایسی شکایات موصول ہو چکی ہیں۔ اسلام آباد کے قریب ایک کلینک سے چار خواتین بازیاب ہوئیں جنہیں صرف خاندان کے دباؤ پر بند کیا گیا تھا۔ ایک کیس میں 35 سالہ پڑھی لکھی خاتون کو اس لیے قید کر دیا گیا کہ اس نے والدین کے پسندیدہ رشتے سے انکار کیا۔ ایک ماہرِ نفسیات نے اس کی نافرمانی کو ’’ڈپریشن‘‘ قرار دے کر قید کا جواز مہیا کر دیا۔

یہ صرف ذہنی صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ عورت کی آزادی اور خودمختاری پر براہِ راست حملہ ہے۔ ہمارا آئین ہر شہری کو زندگی، وقار اور مساوات کی ضمانت دیتا ہے، مگر عملی طور پر یہ ضمانتیں محض کاغذی نظر آتی ہیں۔ قانون تو موجود ہے مگر اس پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ نگرانی کا کوئی مضبوط نظام نہیں اور احتساب کا عمل تقریباً ختم ہو چکا ہے۔

یہ مسئلہ فوری توجہ کا تقاضا کرتا ہے۔ ہمیں بطور معاشرہ یہ سمجھنا ہوگا کہ عورت کی رائے اور آزادی کو دبانا بیماری نہیں بلکہ ظلم ہے۔

ممکنہ حل اور تجاویز:

حکومت کو ایسے مراکز کی سخت نگرانی کرنی چاہیے اور ہر داخلے کے لیے عدالتی حکم اور آزاد ماہرِ نفسیات کی رائے لازمی قرار دینی چاہیے۔

نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کو مزید فعال کیا جائے تاکہ وہ فوری شکایات پر کارروائی کر سکے۔

میڈیا اور صحافیوں کو اس مسئلے پر تحقیقاتی رپورٹس بنانی چاہئیں تاکہ عوام میں شعور پیدا ہو۔

تعلیمی نصاب میں ذہنی صحت اور انسانی حقوق کے بارے میں آگاہی شامل کی جائے تاکہ آئندہ نسلیں ایسے جبر کے خلاف کھڑی ہو سکیں۔

خواتین کے لیے مفت قانونی معاونت کا نظام قائم کیا جائے تاکہ وہ اپنی آزادی کے حق میں عدالت جا سکیں۔

آج اگر ہم نے آواز نہ اٹھائی تو کل ہر وہ عورت جو ’’نہ‘‘ کہے گی، اس کی سزا قید اور خاموشی ہوگی۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی بیٹیوں اور بہنوں کے لیے ایک ایسا معاشرہ بنائیں جہاں ان کی رائے کو عزت دی جائے، نہ کہ جرم سمجھ کر کچل دیا جائے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین