پاک سعودی دفاعی معاہدے میں مشرق وسطیٰ کی سلامتی کے لیے ایٹمی گارنٹی شامل: عالمی میڈیا

یہ ایک جامع دفاعی معاہدہ ہے جو ہر قسم کی فوجی صلاحیتوں کو اپنے دائرے میں لاتا ہے

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے تاریخی دفاعی معاہدے نے مشرق وسطیٰ کی سلامتی کی تصویر کو ایک نئی جہت دے دی ہے، جہاں عالمی خبر رساں اداروں نے اسے ایک ممکنہ ‘ایٹمی ڈھال’ قرار دیا ہے۔ بدھ کو ریاض میں دستخط ہونے والے ‘اسٹریٹیجک باہمی دفاعی معاہدے’ (SMDA) نے ریاض کے مالی وسائل اور پاکستان کی ایٹمی صلاحیتوں کو ایک دوسرے سے جوڑ دیا ہے، جو اسرائیلی جارحیت اور ایرانی ایٹمی امنگز کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ البتہ، پاکستانی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے رائٹرز کو واضح کر دیا کہ اس معاہدے میں ایٹمی ہتھیار شامل نہیں، بلکہ یہ خلیجی ممالک تک پھیلایا جا سکتا ہے۔ یہ معاہدہ، جو دونوں ممالک کی آٹھ دہائیوں پر محیط شراکت داری کی بنیاد پر قائم ہوا، نہ صرف دفاعی تعاون کو مضبوط کرتا ہے بلکہ امریکہ کی خلیجی سلامتی کی ضمانتوں پر بڑھتے ہوئے شکوک کی عکاسی بھی کرتا ہے، جو بھارت اور ایران جیسے ممالک میں تشویش کا باعث بن رہا ہے۔

عالمی میڈیا کی رپورٹ

عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز اور الجزیرہ کی رپورٹس کے مطابق، یہ معاہدہ مشرق وسطیٰ کی سلامتی کے لیے پاکستان کی ایٹمی طاقت کو ایک نئی جگہ دے رہا ہے، جہاں سعودی عرب اسرائیل سے بڑھتے ہوئے خطرات کے تناظر میں ایک ‘ایٹمی چھتری’ کی تلاش میں ہے۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ خلیجی ممالک، خاص طور پر سعودی عرب، قطر پر حالیہ اسرائیلی حملے کے بعد براہ راست خطرے کا شکار محسوس کر رہے ہیں، اور یہ معاہدہ ریاض کی دفاعی حکمت عملی میں ایک بڑا موڑ ہے۔ ایک سینئر سعودی اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ "یہ ایک جامع دفاعی معاہدہ ہے جو ہر قسم کی فوجی صلاحیتوں کو اپنے دائرے میں لاتا ہے”، جو ایٹمی پہلو کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ معاہدہ سعودی عرب کی امریکہ پر انحصار میں کمی کی علامت ہے، جو خطے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کر دے گا۔

معاہدے کی شقیں محدود ہیں، اور پاکستان کا سرکاری مؤقف یہی ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام صرف روایتی حریف بھارت کے خلاف دفاعی ہے۔ تاہم، سعودی اشاروں سے لگتا ہے کہ ریاض اس معاہدے کو ایک ایسی ڈھال کے طور پر دیکھ رہا ہے جو اسرائیلی خطرات اور ایرانی ایٹمی امنگز کا مقابلہ کر سکتی ہے۔ سعودی عرب کا کہنا ہے کہ اگر ایران نے ایٹمی صلاحیت حاصل کی تو وہ بھی پیچھے نہ رہے گا، جو اس معاہدے کی اسٹریٹیجک اہمیت کو دوبالا کرتا ہے۔

وزیر دفاع کا وضاحت

پاکستانی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے رائٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں معاہدے کی تفصیلات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس میں ایٹمی ہتھیار شامل نہیں، البتہ یہ خلیج کے دیگر ممالک تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ "ہمارا اس معاہدے کو جارحیت کے لیے استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، لیکن اگر فریقین کو خطرہ لاحق ہوا تو یہ معاہدہ مؤثر ہو جائے گا”۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کیا کہ وہ سعودی سرمایہ کاری، تجارت، اور کاروباری روابط کو بڑھانے میں دلچسپی رکھتے ہیں، جو معاہدے کے معاشی پہلو کو اجاگر کرتا ہے۔

سعودی حکومت کے مطابق، یہ معاہدہ "دفاعی تعاون کے مختلف پہلوؤں کو آگے بڑھانے اور مشترکہ دفاع کو مضبوط بنانے” کے لیے ہے، مگر ایٹمی شمولیت کی وضاحت نہیں کی گئی۔ واشنگٹن اور اسرائیل کے حکام نے فوری ردعمل نہیں دیا، مگر بھارت نے جمعرات کو کہا کہ وہ اس معاہدے کے "اپنی قومی سلامتی اور علاقائی و عالمی استحکام پر اثرات” کا بغور جائزہ لے گا، جو نئی دہلی کی تشویش کو ظاہر کرتا ہے۔

پاکستان کی ایٹمی حیثیت

پاکستان دنیا کا واحد ایٹمی طاقت رکھنے والا مسلم ملک ہے، جس نے 1990 کی دہائی کے آخر میں بھارت کے ساتھ مل کر ایٹمی صلاحیت حاصل کی۔ اس کے پاس ایسی میزائل ٹیکنالوجی ہے جو بھارت کے طول و عرض کو نشانہ بنا سکتی ہے، اور نظریاتی طور پر اسرائیل تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ تاہم، پاکستانی حکام کا مؤقف ہمیشہ واضح رہا ہے کہ یہ پروگرام صرف بھارت کے خلاف دفاعی توازن کے لیے ہے۔ گزشتہ برس امریکی ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا تھا کہ پاکستان طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل تیار کر رہا ہے جو مستقبل میں خطے سے باہر بھی اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں، مگر اسلام آباد نے اس کی تردید کی۔

معاہدے میں ایٹمی ہتھیاروں کا ذکر نہ ہونے کے باوجود، سعودی فنڈز سے پاکستان کو بھارت کے سات گنا بڑے دفاعی بجٹ کے مقابلے میں توازن قائم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ سعودی عرب کئی دہائیوں سے اسلام آباد کی مالی مدد کرتا آیا ہے، اور حال ہی میں تین ارب ڈالر کا قرض بھی فراہم کیا ہے، جو اس شراکت کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں پاکستان کا کردار

سعودی عرب میں پاکستان کی ایک چھوٹی فوجی موجودگی پہلے ہی موجود ہے، مگر یہ معاہدہ خطے میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی شمولیت کی نشاندہی کرتا ہے۔ پاکستان کی سابق سفیر ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ "پاکستان کے لیے مشرق وسطیٰ میں یہ کردار بہت بڑی پیش رفت ہے، اگرچہ یہ ایک غیر مستحکم خطہ ہے”۔ سابق سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ "پاکستان کا نقطہ نظر ہمیشہ سے پان اسلامک رہا ہے، پاکستان کے پاس فوجی صلاحیت موجود ہے، اور اس کے بدلے میں ہمیں اقتصادی استحکام ملتا ہے”۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ معاہدہ سعودی فنڈز سے پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے کا موقع دے گا، جو بھارت کے بڑے بجٹ کے مقابلے میں توازن قائم کرے گا۔

پاک سعودی دفاعی معاہدہ مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست میں ایک اہم موڑ ہے، جو سعودی عرب کی امریکہ پر کمزور ہوتے اعتماد اور پاکستان کی ایٹمی طاقت کی طرف مائل ہونے کی علامت ہے۔ عالمی میڈیا کی رپورٹس، جو ایٹمی تحفظ کی ممکنہ شمولیت کی طرف اشارہ کرتی ہیں، سعودی حکام کی ‘جامع دفاعی’ کی وضاحت سے ملتی ہیں، مگر پاکستان کا مؤقف—جیسا کہ خواجہ آصف نے کہا—یہ واضح کرتا ہے کہ یہ صرف دفاعی ہے اور ایٹمی ہتھیار شامل نہیں۔ اسرائیلی حملوں (جیسے قطر پر) کے بعد، یہ معاہدہ سعودی عرب کو ایک متبادل ڈھال دیتا ہے، جو ایران اور اسرائیل دونوں کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔

بھارت کی تشویش، جو قومی سلامتی پر اثرات کا جائزہ لے رہا ہے، پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کو سعودی شراکت سے جوڑنے کی وجہ سے ہے، جو کشمیر تناؤ میں توازن بدل سکتی ہے۔ پاکستان کے لیے، یہ معاشی مدد (جیسے 3 ارب ڈالر قرض) اور دفاعی گہرائی کا ذریعہ ہے، مگر پان اسلامک نقطہ نظر کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ علاقائی تناؤ نہ بڑھے۔ مجموعی طور پر، یہ معاہدہ خطے میں امن کی بنیاد رکھ سکتا ہے اگر اسے دفاعی حدود میں رکھا جائے، ورنہ نئی ہتھیاروں کی دوڑ کو ہوا دے گاایک ایسا توازن جو عالمی برادری کی سفارتی کوششوں پر منحصر ہے

متعلقہ خبریں

مقبول ترین