ایشیا کپ 2025 کے سپر فور مرحلے میں بھارت کی شاندار فتح نے نہ صرف کرکٹ کی دنیا کو جوش و جذبے سے بھر دیا بلکہ پاک بھارت رشتوں کی تلخ حقیقت کو بھی ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے۔ بھارتی بلے باز سوریا کمار یادو نے میچ کے بعد کی پریس کانفرنس میں ایک ایسا بیان دیا جو پاکستانی شائقین کے لیے جیسے نمک پر زخم کا کام کر گیا—انہوں نے کہا کہ اب بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والے میچوں کو روایتی ‘رائیولری’ کہنا درست نہیں رہا، کیونکہ جب ایک ٹیم مسلسل جیت رہی ہو تو یہ مقابلہ صرف ایک فاصلہ بن جاتا ہے۔ یہ الفاظ، جو گزشتہ روز دبئی انٹرنیشنل کرکٹ سٹیڈیم میں پاکستان کو آٹھویں مسلسل ٹی20 انٹرنیشنل شکست دینے کے بعد سامنے آئے، نہ صرف کرکٹ کی تاریخ کا ایک تلخ باب کھولتے ہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان کھیل کی سیاست کو بھی ایک نئی جہت دیتے ہیں، جہاں اعداد و شمار کی برتری جذبات کی جگہ لے رہی ہے۔
یادو کا بیان
سوریا کمار یادو، جو بھارتی ٹیم کے مڈل آرڈر کے ستارہ بلے باز ہیں اور اس میچ میں 45 رنز کی اننگز کھیل کر ٹیم کی فتح میں کلیدی کردار ادا کر چکے ہیں، نے پریس کانفرنس میں اپنے جذبات کا کھل کر اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر دو ٹیمیں 15 سے 20 میچ کھیلیں اور اسکور لائن تقریباً برابر ہو—جیسے 7-7 یا 8-7 تو اسے حقیقی حریفانہ مقابلہ کہا جا سکتا ہے، مگر جب ایک ٹیم مسلسل غالب رہے تو یہ رائیولری کا نام نہیں لیتا۔ یادو نے مزید کہا، "میرے خیال میں اگر حساب 13-0 یا 10-1 ہو تو پھر یہ رائیولری نہیں رہتی، ہم نے ان سے بہتر کرکٹ کھیلی”۔ یہ الفاظ، جو ایک طنز آمیز لہجے میں ادا کیے گئے، پاکستانی شائقین کے لیے ایک تلخ حقیقت کی یاد دلاتے ہیں، جہاں بھارت نے ٹی20 انٹرنیشنل میں پاکستان کو مسلسل آٹھویں بار شکست دی ہے۔ آخری بار پاکستان نے بھارت کو ایشیا کپ 2022 میں دبئی میں ہرایا تھا، جو اب ایک دور کی یاد بن چکا ہے۔
یادو کا یہ بیان کرکٹ کی تاریخ کے اعداد و شمار کی روشنی میں بھی دلچسپ ہے، جہاں بھارت کی مسلسل برتری نے اس رائیولری کو ایک فاصلہ دار مقابلہ کی شکل دے دی ہے۔ تاہم، یہ الفاظ پاکستانی ٹیم کی جدوجہد کو نظر انداز کرتے ہیں، جو اس ٹورنامنٹ میں اپنی فارم کی بحالی کی کوشش میں مصروف ہے۔
میچ کا ٹرننگ پوائنٹ
سوریا کمار نے میچ کے اہم موڑ کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ پہلی اننگز میں 10 اوورز کے بعد جب پاکستان 91 رنز پر صرف ایک وکٹ گنوائے ہوئے تھا، تو کھیل کا رخ بدلنے کا وقت آ گیا۔ ڈرنکس بریک کے بعد بھارتی گیندبازوں نے لائن اور لینتھ میں تبدیلی کی، توانائی کا اضافہ کیا، اور پاکستانی بلے بازوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہ دیا۔ نتیجتاً، اگلے سات اوورز میں پاکستان صرف 38 رنز ہی بنا سکا، جو ایشیا کپ 2025 میں 10 سے 17 اوورز کے درمیان کسی بھی ٹیم کا سب سے کم اسکور ہے۔ یہ تبدیلی نہ صرف بھارتی بولنگ کی حکمت عملی کی کامیابی تھی بلکہ پاکستانی بیٹنگ کی کمزوری کو بھی بے نقاب کرتی ہے، جو مڈل اوورز میں دباؤ کا شکار ہوئی۔
یادو نے خاص طور پر شیوم دوبے کی تعریف کی، جو پہلی بار اپنے چار اوورز مکمل کر چکے ہیں اور دو اہم وکٹیں حاصل کیں—صائم ایوب اور صاحبزادہ فرحان۔ دوبے کی شاندار بولنگ نے میچ کا نقشہ بدل دیا، جو بھارتی ٹیم کی گہرائی اور ورسٹائلٹی کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ کارکردگی بھارت کو سپر فور میں مضبوط پوزیشن میں رکھتی ہے، جہاں وہ ٹاپ ٹو کی دوڑ میں آگے ہے۔
پاک بھارت رائیولری کی تاریخ
واضح رہے کہ یہ فتح بھارت کی ٹی20 انٹرنیشنل میں پاکستان کے خلاف مسلسل آٹھویں جیت ہے، جو دونوں ٹیموں کی تاریخ میں ایک نمایاں فاصلہ پیدا کر رہی ہے۔ ایشیا کپ 2022 میں دبئی میں پاکستان کی آخری فتح کے بعد، بھارت نے ہر موقع پر برتری حاصل کی ہے، جو یادو کے بیان کو وزن دیتی ہے۔ یہ سلسلہ نہ صرف اعداد و شمار کی برتری ہے بلکہ ذہنی دباؤ کا بھی، جو پاکستانی ٹیم پر بھاری پڑ رہا ہے۔ تاہم، پاکستانی شائقین اسے ایک عارضی مرحلہ سمجھتے ہیں، جو ٹیم کی بحالی کی امید رکھتے ہیں۔
سوریا کمار یادو کا بیان، جو مسلسل جیتوں کی روشنی میں پاک بھارت رائیولری کو ختم قرار دیتا ہے، کرکٹ کی تاریخ کے اعداد و شمار کی تلخ حقیقت کو اجاگر کرتا ہے، جہاں بھارت کی آٹھ مسلسل فتوحات نے اس مقابلے کو ایک فاصلہ دار لڑائی کی شکل دے دی ہے۔ یادو کی یہ بات، جو 13-0 یا 10-1 جیسے اعداد و شمار کا حوالہ دیتی ہے، نہ صرف طنز آمیز ہے بلکہ پاکستانی ٹیم کی بیٹنگ کمزوریوں خاص طور پر مڈل اوورز میں 38 رنز کا کم اسکورکو بھی بے نقاب کرتی ہے۔ شیوم دوبے کی بولنگ، جو دو کلیدی وکٹیں لے کر میچ پلٹ دی، بھارتی ٹیم کی گہرائی کی عکاسی کرتی ہے، جو پاکستان کی بحالی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔
تاہم، یہ بیان کرکٹ کی روح جو احترام اور مقابلے پر مبنی ہے کو نظر انداز کرتا ہے، جو پاکستانی شائقین میں غم و غصہ بھر رہا ہے۔ پاکستان کو مڈل آرڈر کی مضبوطی اور مڈل اوورز کی حکمت عملی پر کام کرنے کی ضرورت ہے، جبکہ بھارت کی مسلسل برتری ذہنی دباؤ کا باعث بن سکتی ہے۔ مستقبل میں، یہ رائیولری دوبارہ زندہ ہو سکتی ہے اگر پاکستان فارم واپس لائے، مگر ابھی یہ بھارت کی غلبہ کی کہانی ہے—ایک ایسا موڑ جو کرکٹ کو مزید دلچسپ بنا سکتا ہے، اگر دونوں ٹیمیں اسے چیلنج قبول کریں۔





















