ایریزونا:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی چارلی کرک کی بیوہ نے اپنے شوہر کے قاتل کو معاف کر دیا ہے۔
امریکی ریاست ایریزونا میں چارلی کرک کی یادگار تقریب منعقد ہوئی، جس میں صدر ٹرمپ بھی شریک ہوئے۔
صدر ٹرمپ نے ایریکا کرک کو تسلی دی اور چارلی کرک کو امریکی آزادی کا ہیرو قرار دے کر ان کے وژن کو جاری رکھنے کا عہد کیا۔
اس تقریب کے دوران ایریکا کرک اپنے شوہر کو سلام پیش کرتے ہوئے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور اپنے خطاب میں قاتل کو معاف کرنے کا فیصلہ سنایا۔
ایریکا کرک کا کہنا تھا کہ نفرت کا مقابلہ نفرت سے نہیں بلکہ معافی سے کیا جاتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتہائی وفادار ساتھی اور اسرائیل کے حامی چارلی کرک کو 11 ستمبر کو یوٹا یونیورسٹی میں تقریر کرتے ہوئے نشانہ بنایا گیا تھا۔عینی شاہدین نے غیر ملکی ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ چارلی اس وقت نشانہ بنے جب وہ اسلحہ کنٹرول اور مجمعے پر فائرنگ جیسے مسائل پر گفتگو کر رہے تھے۔چارلی کرک ایک روایتی خیالات کے حامی رہنما تھے اور انہیں صدر کے انتہائی معتمد ساتھیوں میں شمار کیا جاتا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، چارلی کرک نے 2012 میں ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے نامی ادارہ قائم کیا تھا، جو تعلیمی اداروں میں روایتی نظریات کو پھیلانے کا کام کرتا ہے۔
چارلی کرک ایک ممتاز امریکی قدامت پسند کارکن تھے جو نوجوانوں میں سیاسی بیداری پیدا کرنے کے لیے مشہور تھے۔ ان کی تنظیم ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے نے کئی یونیورسٹیوں میں کیمپس ٹورز اور تقریبات کے ذریعے روایتی اقدار کو فروغ دیا، جو اکثر تنازعات کا باعث بھی بنیں۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب امریکہ میں سیاسی تقسیم اور اسلحہ قوانین پر بحث عروج پر تھی، جس نے قدامت پسند حلقوں میں غم و غصہ کو مزید ہوا دی۔
ایریکا کرک کا معافی کا اعلان ایک طاقتور مثال ہے جو نفرت کے چکر کو توڑنے اور امن کی طرف قدم بڑھانے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ عمل نہ صرف ذاتی شفا کا ذریعہ بن سکتا ہے بلکہ معاشرے میں اتحاد اور رواداری کو فروغ دے کر سیاسی تناؤ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، جو آج کے تقسیم شدہ امریکہ کے لیے ایک امید افزا پیغام ہے۔





















