لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)امریکی دوا ساز ادارے جانسن اینڈ جانسن نے ٹالک سے تیار کردہ بیبی پاؤڈر کے خلاف دائر ہزاروں مقدمات کے تصفیے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ ڈالر ادا کرنے پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق مجوزہ معاہدے میں امریکا کی وفاقی اور ریاستی عدالتوں میں زیرِ سماعت تقریباً 69 ہزار مقدمات شامل ہوں گے۔ ان مقدمات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹالک پر مبنی بیبی پاؤڈر کے استعمال سے خواتین میں بیضہ دانی کا سرطان پیدا ہوا۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ تعداد امریکا میں ٹالک سے متعلق زیرِ التوا تمام مقدمات کا تقریباً 99.75 فیصد بنتی ہے۔ تاہم، معاہدے پر عمل درآمد اسی صورت میں ہوگا جب وفاقی اور ریاستی عدالتوں سے رجوع کرنے والے کم از کم 95 فیصد مدعی اس کی شرائط قبول کریں گے۔
ٹالک ایک نرم معدنی مادہ ہے، جسے ماضی میں بیبی پاؤڈر اور آرائشی مصنوعات سمیت مختلف اشیا کی تیاری میں وسیع پیمانے پر استعمال کیا جاتا رہا۔ سرطان کے ساتھ اس کے ممکنہ تعلق پر خدشات سامنے آنے کے بعد مصنوعات میں اس کا استعمال بتدریج کم ہوگیا۔
عالمی ادارۂ صحت نے بھی 2024 میں ٹالک کو انسانوں میں ممکنہ طور پر سرطان کا سبب بننے والے مادوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔
دوسری جانب جانسن اینڈ جانسن بدستور اس مؤقف پر قائم ہے کہ ٹالک کے استعمال اور سرطان کے درمیان براہِ راست تعلق ثابت کرنے والے حتمی سائنسی شواہد دستیاب نہیں۔ اس کے باوجود کمپنی نے 2020 میں امریکی منڈی اور 2023 میں دنیا بھر میں ٹالک پر مبنی بیبی پاؤڈر کی فروخت روک دی تھی۔
یہ قانونی تنازع 2016 میں اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بنا جب ایک امریکی جیوری نے بیضہ دانی کے سرطان سے انتقال کرنے والی خاتون کے اہلِ خانہ کو 7 کروڑ 20 لاکھ ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ اگرچہ بعدازاں یہ فیصلہ منسوخ ہوگیا، لیکن اس مقدمے کے بعد جانسن اینڈ جانسن کے خلاف اسی نوعیت کی قانونی درخواستوں میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا گیا۔





















