اسلام آباد: سپریم کورٹ نے جسٹس طارق جہانگیری کو کام سے روکنے کا حکم نامہ معطل کردیا۔ سپریم کورٹ میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس طارق محمود جہانگیری کو کام سے روکنے کے خلاف دائر اپیل پر سماعت ہوئی جس میں عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے 2 رکنی بینچ کا حکم نامہ معطل کردیا۔ عدالت نے فریقین اور اٹارنی جنرل دفتر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کردی۔ یہ فیصلہ 26 ستمبر 2025 کو ایک 3 رکنی بینچ نے سنایا، جس کی سربراہی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کی، جبکہ دیگر اراکین میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس سید حسن اظہر رضوی شامل تھے۔
پس منظر
واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس اعظم خان پر مشتمل ڈویژن بینچ نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کو بطور جج کام سے روکنے کا حکم جاری کیا تھا۔ یہ حکم 16 ستمبر 2025 کو جاری کیا گیا، جو وکیل میاں داؤد کی جانب سے دائر درخواست پر تھا۔ ڈویژن بینچ نے میاں داؤد کی درخواست پر حکم نامہ جاری کرتے ہوئے جسٹس طارق محمود جہانگیری کو سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلے تک بطور جج کام سے روکا تھا جس کے خلاف جسٹس طارق جہانگیری نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔
یہ حکم جسٹس جہانگیری کی جامعہ کراچی سے حاصل کردہ قانون کی ڈگری پر الزامات کی بنیاد پر تھا، جسے مبینہ طور پر جعلی قرار دیا گیا ہے۔ الزامات کے مطابق، جامعہ کراچی نے 1991 میں ان کی ڈگری منسوخ کر دی تھی اور ان پر 3 سال کی پابندی عائد کی ہے، جو دو مختلف انرولمنٹ نمبروں اور ناموں کی غلطی پر مبنی تھی۔ اس کے نتیجے میں، سپریم جوڈیشل کونسل (SJC) میں بھی ایک شکایت زیر سماعت ہے، جو ان کی اہلیت پر سوال اٹھاتی ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکم میں کہا تھا کہ SJC کے فیصلے تک جسٹس جہانگیری کو عدالتی کام سے روکا جائے، اور اٹارنی جنرل آف پاکستان سے درخواست کی قابلِ سماعت ہونے پر رہنمائی طلب کی تھی۔ اس حکم کے بعد اسلام آباد بار کونسل نے ہائیکورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹ میں ہڑتال کا اعلان کیا تھا، جو عدلیہ کے اندرونی تنازعات کی عکاسی کرتا ہے۔
حکم معطلی اور نوٹسز
سپریم کورٹ کی سماعت میں جسٹس طارق جہانگیری کے وکلاء نے دلیل دی کہ ہائیکورٹ کا حکم آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت اپنے ہی جج کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا، اور یہ حکم غیر قانونی اور تعصب پر مبنی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل ہی ججوں کی برطرفگی یا معطلی کا اختیار رکھتی ہے، نہ کہ ہائیکورٹ۔ بینچ نے ان دلائل پر غور کرتے ہوئے فوری طور پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کو معطل کر دیا، جس سے جسٹس جہانگیری کو عارضی طور پر اپنے عدالتی فرائض پر واپس آنے کی اجازت مل گئی۔
عدالت نے فریقین اور اٹارنی جنرل دفتر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کردی۔ اٹارنی جنرل منصور اعوان کو درخواست کی قابلِ سماعت ہونے اور آئینی حیثیت پر رائے دینے کا کہا گیا ہے۔ یہ سماعت 27 ستمبر 2025 کو دوبارہ ہوگی، جہاں مزید دلائل سنے جائیں گے۔ اس فیصلے نے نہ صرف جسٹس جہانگیری کو ریلیف دیا بلکہ عدلیہ کے اندرونی معاملات پر سپریم کورٹ کی بالادستی کو بھی اجاگر کیا۔
جامعہ کراچی کا کردار اور وسیع تناظر
علاوہ ازیں جامعہ کراچی نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی قانون کی ڈگری منسوخ کرتے ہوئے ان پر 3 سال کی پابندی عائد کی ہے۔ جامعہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ ان کی ڈگری دو انرولمنٹ نمبروں (AIL 5968 اور دوسرا) اور ناموں (طارق جہانگیری اور طارق محمود) کی وجہ سے مشکوک تھی، جو اصل طالب علم سے منسلک تھی۔ یہ الزامات جولائی 2024 میں سامنے آئے، اور اس کے بعد SJC میں شکایت درج ہوئی۔
یہ معاملہ پاکستان کی عدلیہ میں ایک بڑے تنازع کا حصہ ہے، جہاں مارچ 2024 میں جسٹس جہانگیری سمیت چھ ہائیکورٹ ججز نے سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھا تھا کہ انٹرسروسز انٹیلی جنس (ISI) عدالتی معاملات میں مداخلت کر رہی ہے، بشمول ججوں کے خاندانوں کی اغوا اور نگرانی۔ اس تناظر میں، یہ کیس عدلیہ کی آزادی اور اہلیت کے مسائل کو اجاگر کرتا ہے۔
یہ فیصلہ پاکستان کی عدلیہ کے نظام کے لیے ایک مثبت اور امید افزا پیش رفت ہے، جو نہ صرف انفرادی جج کی عزت نفس کی حفاظت کرتا ہے بلکہ مجموعی طور پر آئینی توازن اور شفافیت کو مضبوط بناتا ہے۔ سب سے پہلے، سپریم کورٹ کا حکم معطلی کا فوری اقدام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ اندرونی تنازعات کو حل کرنے کے لیے فوری اور منصفانہ عمل اختیار کر رہی ہے۔ یہ نہ صرف جسٹس طارق جہانگیری کو عارضی ریلیف دیتا ہے بلکہ یہ پیغام دیتا ہے کہ ججوں کے خلاف الزامات کی تحقیقات صرف مجاز فورمز جیسے SJC میں ہونی چاہیے، نہ کہ ہائیکورٹ جیسے اداروں میں، جو آئین کے آرٹیکل 209 کی خلاف ورزی کو روکتا ہے۔ اس سے عدلیہ کی آزادی کو تحفظ ملتا ہے اور سیاسی یا بیرونی دباؤ سے بچاؤ کی ضمانت دی جاتی ہے، جو مارچ 2024 کے خط کی روشنی میں خاص طور پر اہم ہے۔
دوسرا، یہ کیس عدلیہ کی خود احتساب کی صلاحیت کو اجاگر کرتا ہے، جو پاکستان کی جمہوری نظام کی بنیاد ہے۔ جامعہ کراچی کی ڈگری منسوخی جیسے الزامات کو عدالت نے سنجیدگی سے لیا ہے، مگر حکم معطلی سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سزا سے پہلے ثبوت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرنا حکومتی سطح پر شفافیت کو یقینی بناتا ہے، جو عدلیہ اور ایگزیکٹو کے درمیان توازن کو برقرار رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ، اسلام آباد بار کونسل کی ہڑتال جیسے ردعمل کو عدالت نے احتیاط سے ہینڈل کیا، جو شہری معاشرے کی آواز کو سننے کی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔
تیسرا، یہ واقعہ قانونی تعلیم اور اہلیت کی جانچ پڑتال کو مزید سخت کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ جامعہ کراچی کی کارروائی سے نکلا سبق یہ ہے کہ تعلیمی اداروں کو ڈگریوں کی تصدیق کے لیے جدید سسٹم اپنانے چاہییں، جو مستقبل میں ایسے تنازعات کو کم کرے گا۔ اسی طرح، SJC کی تحقیقات سے عدلیہ کی ساکھ مزید مستحکم ہوگی، جو عوامی اعتماد کو بحال کرے گی۔
آخر میں، سپریم کورٹ کا یہ اقدام عدلیہ کی بالادستی اور انصاف کی ترسیل کو یقینی بناتا ہے، جو پاکستان کی آئینی روایات کی حفاظت کرتا ہے۔ یہ نہ صرف ایک جج کی بلکہ پورے نظام کی فتح ہے، جو ثابت کرتا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور تنازعات کو منصفانہ حل کیا جا سکتا ہے۔ ایسے فیصلے سے عدلیہ مزید مضبوط ہوگی، اور قوم کو امید ملے گی کہ انصاف کا نظام خود کو صاف ستھرا رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔





















