واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں وائٹ ہاؤس نے غزہ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے تیار کردہ 20 نکاتی جامع امن منصوبے کی تفصیلی دستاویز عالمی سطح پر جاری کر دی ہے۔
یہ منصوبہ، جو مہینوں سے خفیہ مذاکرات کا حصہ رہا، حماس اور اسرائیلی قیادت دونوں کی جانب سے ابتدائی طور پر مثبت ردعمل کا سامنا کر رہا ہے، حالانکہ حماس کی طرف سے حتمی منظوری کا انتظار ہے۔ منصوبے کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں، جو وائٹ ہاؤس کی سرکاری دستاویز سے اخذ کی گئی ہیں۔
1۔ غزہ ایک پرامن خطہ ہوگا جہاں دہشت گردی اور انتہا پسندی کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی اور جو اپنے ہمسایوں کے لیے کسی بھی خطرے کا باعث نہیں بنے گا۔
2۔ غزہ کی مکمل تعمیر نو کی جائے گی تاکہ وہاں کے عوام، جو پہلے ہی بے شمار مشکلات جھیل چکے ہیں، بہتر زندگی گزار سکیں۔
3۔ اگر دونوں فریق معاہدے پر راضی ہو جائیں تو جنگ فوراً ختم کر دی جائے گی۔ اسرائیلی فوج قیدیوں کی رہائی کی تیاری کے لیے طے شدہ حد تک پیچھے ہٹ جائے گی اور اس دوران بمباری یا عسکری کارروائی مکمل طور پر روک دی جائے گی۔ یہ جنگ بندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک مکمل فوجی انخلا کی شرائط پوری نہ ہو جائیں۔
4۔ اسرائیل معاہدے کی عوامی منظوری کے 72 گھنٹے کے اندر تمام قیدیوں کو، خواہ زندہ ہوں یا جاں بحق، واپس کرے گا۔
5۔ قیدیوں کی رہائی کے بعد اسرائیل 250 ایسے افراد کے علاوہ، جو عمر قید کاٹ رہے ہیں، 1700 فلسطینیوں کو رہا کرے گا جو 7 اکتوبر 2023 کے بعد گرفتار کیے گئے تھے۔ ان میں خواتین اور بچے بھی شامل ہوں گے۔ مزید یہ کہ ہر اسرائیلی یرغمالی کی لاش کے بدلے میں 15 فلسطینی شہدا کی میتیں حوالے کی جائیں گی۔
6۔ تمام قیدیوں کی واپسی کے بعد، حماس کے وہ ارکان جو ہتھیار ڈال کر پرامن بقائے باہمی قبول کریں گے، عام معافی کے حقدار ہوں گے۔ جو رکن غزہ چھوڑنا چاہے گا، اسے محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ کسی دوسرے ملک جا سکے۔
7۔ معاہدے کے فوراً بعد غزہ میں بڑے پیمانے پر امداد پہنچائی جائے گی۔ اس امداد میں پانی، بجلی، نکاسی آب، ہسپتالوں، بیکریوں کی بحالی اور ملبہ ہٹانے کے لیے سامان شامل ہوگا۔ یہ امداد کم از کم اس سطح پر ہوگی جو 19 جنوری 2025 کے معاہدے میں طے کی گئی تھی۔
8۔ امداد کی ترسیل اور تقسیم کا عمل اقوامِ متحدہ، ریڈ کریسنٹ اور غیر جانبدار بین الاقوامی ادارے بغیر کسی رکاوٹ کے سرانجام دیں گے۔ رفح کراسنگ بھی اسی طریقے سے کھولی جائے گی جیسا کہ پہلے معاہدے میں طے ہوا تھا۔
9۔ غزہ میں ایک عارضی عبوری حکومت قائم کی جائے گی جو غیر سیاسی فلسطینی ماہرین پر مشتمل کمیٹی کے ذریعے چلائی جائے گی۔ یہ کمیٹی روزمرہ کے عوامی اور بلدیاتی امور سنبھالے گی۔ اس عمل کی نگرانی ایک نئے بین الاقوامی ادارے "بورڈ آف پیس” کے تحت ہوگی جس کی قیادت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے، جبکہ دیگر عالمی رہنما بھی اس میں شامل ہوں گے۔ یہ ادارہ فنڈز کا انتظام کرے گا اور فلسطینی اتھارٹی کے اصلاحاتی عمل مکمل ہونے تک حکمرانی کے جدید نظام کی بنیاد رکھے گا۔
10۔ غزہ کی ترقی کے لیے ایک اقتصادی منصوبہ بنایا جائے گا، جس میں ان ماہرین کو شامل کیا جائے گا جنہوں نے مشرق وسطیٰ میں جدید شہروں کے قیام میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ مختلف بین الاقوامی ادارے سرمایہ کاری کے منصوبے پیش کریں گے تاکہ غزہ کے عوام کے لیے روزگار اور مواقع پیدا کیے جا سکیں۔
11۔ غزہ میں ایک خصوصی اقتصادی زون قائم ہوگا، جس کے لیے شریک ممالک کے ساتھ تجارتی رعایتیں اور سہولیات طے کی جائیں گی۔
12۔ کسی کو بھی غزہ چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔ جو لوگ جانا چاہیں گے وہ آزاد ہوں گے اور بعد میں واپس بھی آسکیں گے۔ مقصد یہ ہوگا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ غزہ میں رہ کر ایک بہتر مستقبل بنائیں۔
13۔ حماس اور دیگر گروہ اس بات پر راضی ہوں گے کہ وہ غزہ کی حکومت میں کسی بھی شکل میں شامل نہیں ہوں گے۔ تمام سرنگیں، اسلحہ ساز فیکٹریاں اور دہشت گردی سے جڑے ڈھانچے ختم کر دیے جائیں گے اور دوبارہ قائم نہیں کیے جائیں گے۔ ہتھیاروں کو بین الاقوامی نگرانی میں ناقابل استعمال بنایا جائے گا اور اس عمل کو ایک عالمی "باز خریداری اور دوبارہ شمولیت” پروگرام سے سہارا دیا جائے گا۔
14۔ علاقائی ممالک اس بات کی ضمانت دیں گے کہ حماس اور دیگر گروہ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور نیا غزہ کسی کے لیے خطرہ نہ بنے۔
15۔ امریکا، عرب اور بین الاقوامی شراکت داروں کے تعاون سے ایک عارضی انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس (ISF) قائم ہوگی جو غزہ میں تعینات ہو کر فلسطینی پولیس کو تربیت اور مدد فراہم کرے گی۔ اس عمل میں مصر اور اردن کے تجربات سے بھی فائدہ اٹھایا جائے گا۔ یہ فورس اسرائیل اور مصر کے ساتھ مل کر سرحدی سیکورٹی یقینی بنائے گی اور ضروری امدادی سامان کی محفوظ ترسیل میں کردار ادا کرے گی۔
16۔ اسرائیل غزہ پر قبضہ یا الحاق نہیں کرے گا۔ جیسے جیسے ISF کنٹرول سنبھالے گی، اسرائیلی فوج مرحلہ وار پیچھے ہٹتی جائے گی۔ اس کا مقصد ایک ایسا غزہ قائم کرنا ہوگا جو اسرائیل، مصر یا کسی شہری کے لیے خطرہ نہ ہو۔ فوجی انخلا مکمل ہونے تک حفاظتی موجودگی برقرار رکھی جائے گی۔
17۔ اگر حماس اس معاہدے میں تاخیر کرے یا اسے رد کر دے تو بیان کردہ امدادی اقدامات ان علاقوں میں جاری رہیں گے جو پہلے ہی ISF کے حوالے کیے جا چکے ہوں گے۔
18۔ ایک بین المذاہب مکالمہ شروع کیا جائے گا جس کا مقصد برداشت اور پرامن بقائے باہمی کو فروغ دینا ہوگا، تاکہ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے رویوں اور سوچ کو مثبت سمت میں بدلا جا سکے۔
19۔ جیسے جیسے غزہ کی تعمیرِ نو آگے بڑھے گی اور فلسطینی اتھارٹی اصلاحات پر عمل کرے گی، فلسطینی عوام کی خواہشات کے مطابق ایک دن ان کی خود ارادیت اور اپنی ریاست کے قیام کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
20۔ امریکا اسرائیل اور فلسطینی قیادت کے درمیان ایک مستقل مکالمہ عمل شروع کرے گا تاکہ دونوں اقوام ایک پرامن اور خوشحال مستقبل کے لیے متحد ہو سکیں۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے ایک پریس بریفنگ میں بتایا کہ یہ منصوبہ اقوام متحدہ، یورپی یونین اور عرب لیگ کی حمایت حاصل کر چکا ہے، اور اس کی کامیابی کے لیے فوری عمل درآمد کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے ٹیلی فون پر صدر ٹرمپ سے بات چیت کے بعد اسے "امید کی کرن” قرار دیا ہے، جبکہ حماس کے ترجمان نے ابتدائی ردعمل میں کہا کہ "یہ تجاویز غور طلب ہیں، لیکن فلسطینی حقوق کی ضمانت ضروری ہے۔”
عالمی رہنماؤں نے بھی اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے۔ سعودی عرب، مصر اور اردن جیسی عرب ریاستوں نے مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ "یہ منصوبہ خطے کی استحکام کی طرف ایک اہم قدم ہے۔” یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ نے اسے "تاریخی موقع” قرار دیا، جبکہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے فوری عمل درآمد کی اپیل کی ہے۔





















