طالبان نے پورے افغانستان میں انٹرنیٹ سروس بند کر دی،شہری پریشان

قندھار،بدخشاں، تخار، ، ہلمند، ننگرہار اور ارزگان سمیت کئی صوبوں میں انٹرنیٹ مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے

کابل: افغانستان بھر میں اچانک بڑے پیمانے پر کمیونیکیشن اور انٹرنیٹ سروسز معطل ہو گئیں، جس سے شہریوں کے رابطے بری طرح متاثر ہوئے اور روزمرہ کی زندگی، کاروبار، اور ضروری خدمات کی صورتحال سنگین ہو گئی۔ یہ اقدام طالبان کی "اخلاقی پابندیوں” کے تحت فائبر آپٹک انفراسٹرکچر کی بندش کا نتیجہ ہے، جو ملک کو دنیا سے الگ کرنے کا سبب بن رہا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی اور دیگر عالمی ذرائع کے مطابق، انٹرنیٹ مانیٹرنگ ادارے "نیٹ بلاکس” نے تصدیق کی ہے کہ اس وقت افغانستان میں ٹیلی کام سروسز صرف 14 فیصد کام کر رہی ہیں، اور یہ صورتحال جان بوجھ کر رابطے منقطع کیے جانے سے مطابقت رکھتی ہے۔ 29 ستمبر 2025 کو شام 5 بجے مقامی وقت سے انٹرنیٹ ٹریفک تقریباً مکمل طور پر رک گئی، جبکہ موبائل فون سروسز بھی اسی انفراسٹرکچر پر منحصر ہونے کی وجہ سے متاثر ہوئیں۔

یاد رہے کہ طالبان حکام نے رواں ماہ کے آغاز میں اپنے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کے حکم پر کئی صوبوں میں فائبر آپٹک انٹرنیٹ پر پابندی لگائی تھی۔ حکام کا مؤقف تھا کہ یہ اقدام "غیر اخلاقی سرگرمیوں کو روکنے” کے لیے کیا گیا ہے، جس میں انٹرنیٹ کی "غلط استعمال” اور "بدکاری کی اشاعت” کو روکنا شامل ہے۔ عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ پابندی ابتدائی طور پر بلخ، قندھار، ہلمند، اور دیگر صوبوں میں نافذ کی گئی تھی، جو اب پورے ملک میں پھیل چکی ہے۔

رپورٹس کے مطابق بدخشاں، تخار، قندھار، ہلمند، ننگرہار، ارزگان، بلخ، قندوز، ہرات، پروان، نیمروز، زابل، اور بغلان سمیت کئی صوبوں میں تیز رفتار انٹرنیٹ مکمل طور پر بند ہے جبکہ دیگر علاقوں میں سروسز انتہائی سست اور غیر یقینی ہیں۔ موبائل فون کمپنیوں کو 3G اور 4G سروسز بند کرنے کا ایک ہفتہ کا الٹی میٹم دیا گیا ہے، جس کے بعد صرف پرانی 2G سروس دستیاب رہے گی۔

یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 2024 میں کابل حکومت نے ملک کو دنیا سے جوڑنے اور غربت کم کرنے کے لیے فائبر آپٹک نیٹ ورک کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا تھا۔ تاہم، طالبان کی اقتدار قبضے کے بعد سے یہ پہلی بار ہے کہ قومی سطح پر انٹرنیٹ کی مکمل معطلی کا سامنا کیا جا رہا ہے، جو 2021 کی یادوں کو تازہ کر رہا ہے جب طالبان نے احتجاج کو روکنے کے لیے عارضی بندش نافذ کی تھی۔

معاشی اور سماجی اثرات

اس بلیک آؤٹ کے فوری اثرات سنگین ہیں۔ کابل انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر آپریشنز معطل ہو گئے اور متعدد فلائٹس منسوخ کر دی گئیں، کیونکہ ایئر لائنز کمیونیکیشن کی کمی کی وجہ سے کوآرڈینیشن نہ کر سکیں۔ نجی ٹی وی چینلز نے بھی پروگرامنگ میں بڑی رکاوٹیں درج کیں، جبکہ بینکنگ، تجارت، اور ایوی ایشن جیسی ضروری خدمات بری طرح متاثر ہوئیں۔

طالبان حکام نے اسے "مزید اعلان” تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ صوبائی حکام نے کاروباری افراد اور سرکاری اداروں کی شکایات پر متبادل حل کی تلاش شروع کر دی ہے، جیسے محدود رسائی صرف ضروری سرکاری ایجنسیوں کو دینا۔ تاہم، ٹیلی کام انجینئرز کا کہنا ہے کہ یہ "طالبان 2.0” کا روایتی پیٹرن ہے، جہاں پابندیاں دور دراز صوبوں سے شروع ہو کر کابل تک پھیل جاتی ہیں۔

عالمی نگرانی کرنے والے اداروں جیسے نیٹ بلاکس، کنٹک، اور پروٹون VPN نے بھی اس معطلی کی تصدیق کی ہے، اور اسے طالبان کی 2021 کے بعد سب سے وسیع اور مربوط ٹیلی کام بندش قرار دیا ہے۔

خواتین اور تعلیم پر گہرا اثر

یہ معطلی خاص طور پر افغان خواتین اور لڑکیوں کے لیے تباہ کن ہے، جو انٹرنیٹ کو تعلیم اور کمیونیکیشن کا واحد ذریعہ سمجھتی تھیں۔ رپورٹس کے مطابق، بلخ اور تخار جیسے صوبوں میں لڑکیاں آن لائن کورسز، کوڈنگ، گرافک ڈیزائن، اور TOEFL جیسی تیاریوں سے محروم ہو گئیں۔ ایک 17 سالہ لڑکی مریم نے کہا کہ "انٹرنیٹ نے ہمارے حوصلے زندہ رکھے تھے”، جبکہ ایکٹیوسٹس نے خبردار کیا ہے کہ یہ انسانی بحران کو مزید گہرا کر دے گا، جو طالبان کے اقتدار کے بعد سے پہلے ہی شدید ہے۔

افغانستان کا فائبر آپٹک پروجیکٹ 2007 میں 60 ملین ڈالر کی عطیات سے شروع ہوا تھا، جو 9,000 کلومیٹر تک پھیلا اور 26 صوبوں کو عالمی نیٹ ورکس سے جوڑتا تھا، مگر اب یہ سب معطل ہے۔

تجزیہ

اس افسوسناک معطلی کے باوجود، افغانستان کی صورتحال میں کئی مثبت پہلو موجود ہیں جو عوام کی لچک، عالمی توجہ، اور ممکنہ حل کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ سب سے پہلے، عالمی مانیٹرنگ اداروں جیسے نیٹ بلاکس اور کنٹک کی فوری تصدیق اور رپورٹنگ نے اس اقدام کو عالمی سطح پر اجاگر کر دیا ہے، جو طالبان پر دباؤ بڑھانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ یہ نگرانی نہ صرف عوام کی آواز کو سنبھال رہی ہے بلکہ امریکی محکمہ خارجہ جیسی تنظیموں کو صورتحال پر نظر رکھنے اور سفارتی دباؤ ڈالنے کا موقع فراہم کر رہی ہے، جیسا کہ 24 ستمبر 2025 کو امریکی ترجمان ایلزبتھ سٹکنی نے بیان دیا کہ وہ اس کی نگرانی کر رہے ہیں۔

دوسرا، افغان عوام کی لچک اور مزاحمت ایک امید کی کرن ہے۔ خواتین اور نوجوانوں کی آن لائن تعلیم اور کمیونیکیشن کی کوششیں، جو اب رکاوٹ کا شکار ہیں، اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ تعلیم اور علم کی پیاس کو روکا نہیں جا سکتا۔ صوبائی حکام اور کاروباری افراد کی شکایات اور متبادل حل کی تلاش، جیسے محدود سرکاری رسائی، یہ ظاہر کرتی ہے کہ اندرونی سطح پر بھی تبدیلی کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں، جو طالبان کو اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر سکتی ہیں۔ اسی طرح، 28 ستمبر 2025 کو طالبان کی جانب سے ایک امریکی شہری امیر امریری کی رہائی ایک مثبت قدم ہے، جو تعلقات کی بہتری کی طرف اشارہ کرتا ہے اور انٹرنیٹ جیسے مسائل پر ڈائیلاگ کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔

تیسرا، یہ بحران عالمی برادری کو متحد کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں، جیسے WDI Afghanistan، اور عالمی میڈیا کی کوریج نے طالبان کی پالیسیوں کی مذمت کی ہے، جو ہدف شدہ پابندیاں، محفوظ کمیونیکیشن ٹولز کی فراہمی، اور تعلیم کی بحالی پر زور دے رہی ہے۔ اس کے علاوہ، سٹارلنک جیسی ٹیکنالوجیز کی ممکنہ فعال ہونے کی اپیلز (جیسے X پر ایلون مسک کو کی گئیں) مستقبل میں متبادل رابطے کی راہیں کھول سکتی ہیں، جو غربت کم کرنے اور معاشی بحالی کی کوششوں کو تقویت دیں گی۔

مجموعی طور پر، یہ معطلی ایک چیلنج ہے مگر یہ افغانستان کی انسانی صلاحیت اور عالمی ہمدردی کو اجاگر کرتی ہے۔ اگر ان مواقع کو استعمال کیا جائے تو نہ صرف انٹرنیٹ کی بحالی ممکن ہو سکتی ہے بلکہ طالبان پر دباؤ سے خواتین کی تعلیم اور آزادی کی بحالی کی طرف بھی پیش رفت ہو سکتی ہے، جو ملک کو ایک محفوظ اور ترقی یافتہ مستقبل کی طرف لے جائے گی۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین