کوئٹہ میں سکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشن میں 10 بھارتی حمایت یافتہ دہشتگرد ہلاک

آپریشن میں فرنٹیئر کور (ایف سی)، پاکستان آرمی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ ٹیمیں شریک تھیں

کوئٹہ :بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے مضافاتی علاقے غزہ بند کے پہاڑی علاقے اغبرگ میں سیکیورٹی فورسز نے ایک انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن کیا، جس کے نتیجے میں 10 مبینہ بھارتی حمایت یافتہ دہشتگرد ہلاک ہو گئے۔ اس آپریشن کے دوران فائرنگ کے شدید تبادلے میں 2 سیکیورٹی اہلکار بھی زخمی ہوئے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، یہ آپریشن منگل کی درمیانی رات کو شروع ہوا جب مشترکہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کو غزہ بند کے پہاڑی علاقوں میں دہشتگردوں کی ایک تشکیل کے بارے میں مصدقہ اطلاعات موصول ہوئیں۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ یہ تشکیل مختلف دہشتگردانہ کارروائیوں میں ملوث تھی اور اس کا تعلق کالعدم تنظیموں سے تھا جو مبینہ طور پر بھارتی حمایت حاصل کر رہی تھیں۔

آپریشن میں فرنٹیئر کور (ایف سی)، پاکستان آرمی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ ٹیمیں شریک تھیں۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ جب سیکیورٹی فورسز نے علاقے کا محاصرہ کیا تو دہشتگردوں نے شدید مزاحمت کی اور فائرنگ کا آغاز کر دیا۔ تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہنے والے فائرنگ کے تبادلے میں 10 دہشتگرد مارے گئے، ان میں سے کئی کی شناخت بعد میں ہوئی جو ماضی کے متعدد دہشتگرد حملوں میں ملوث تھے۔

ہلاک دہشتگردوں کے جسموں کو ابتدائی طور پر آپریشن سائٹ سے منتقل کر دیا گیا اور ان کے خون کے نمونوں اور فنگر پرنٹس کو مزید تحقیقات کے لیے محفوظ کر لیا گیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں 2 سیکیورٹی اہلکاروں کو گولیاں لگیں جنہیں فوری طور پر کوئٹہ کے ایک فوجی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ طبی ذرائع کے مطابق، دونوں اہلکاروں کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے اور وہ زیر علاج ہیں۔ فورسز کے آپریشن کے دوران کوئی شہری متاثر نہ ہونے کی اطلاعات ہیں، تاہم علاقے کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا تھا تاکہ دہشتگردوں کو فرار ہونے سے روکا جا سکے۔

ہلاک دہشتگردوں کے قبضے سے برآمد ہونے والے اسلحے میں AK-47 رائفلیں، گرنیڈز، راکٹ لانچرز، بھاری مشین گنز اور بڑی مقدار میں گولہ بارود شامل ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ مواد مختلف حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال ہونے والا تھا۔ برآمد شدہ سامان کو فوراً ضبط کر لیا گیا اور اس کی تفصیلی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔

یہ آپریشن حالیہ دنوں میں بلوچستان میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی کی کارروائیوں کے تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز کوئٹہ شہر کے ماڈل ٹاؤن میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر ایک خودکش حملے میں 12 شہری شہید جبکہ متعدد زخمی ہوئے اور 6 دہشتگرد ہلاک ہوئے تھے، جس نے صوبے میں سیکیورٹی صورتحال پر سوالات اٹھائے تھے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق، سیکیورٹی فورسز ملک بھر میں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں اور ایسی کارروائیوں کو جاری رکھی جائیں گی۔ مقامی انتظامیہ نے آپریشن کے علاقے کے قریب رہنے والے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں جب تک مزید اعلان نہ ہو۔ بلوچستان حکومت نے اس آپریشن کو کامیاب اور بروقت قرار دیتے ہوئے سیکیورٹی فورسز کی کارکردگی کی تعریف کی ہے۔ اس واقعے کے بعد کوئٹہ سمیت صوبے بھر میں سیکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔

تجزیہ

یہ آپریشن بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی مسلسل کوششوں کا ایک روشن مثال ہے جو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اہم پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹیلی جنس پر مبنی اس کارروائی سے نہ صرف 10 دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا جو ماضی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث تھے، بلکہ برآمد ہونے والے اسلحے اور گولہ بارود کی بڑی مقدار سے ممکنہ طور پر کئی مستقبل کے حملوں کو روکا جا سکتا ہے، جو صوبے کی امن و امان کی صورتحال کو مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ سیکیورٹی فورسز کی مشترکہ ٹیموں، بشمول فرنٹیئر کور اور پاکستان آرمی، کی پیشہ ورانہ کارکردگی قابل ستائش ہے، کیونکہ انہوں نے شدید مزاحمت کے باوجود آپریشن کو کامیابی سے مکمل کیا اور کوئی شہری نقصان نہیں ہونے دیا، جو ان کی تربیت اور منصوبہ بندی کی اعلیٰ سطح کو ظاہر کرتا ہے۔ زخمی اہلکاروں کی حالت خطرے سے باہر ہونے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ طبی سہولیات کی بروقت فراہمی بھی فورسز کے نظام کا ایک مضبوط ستون ہے۔ حالیہ دنوں میں دہشتگردی کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کے تناظر میں یہ آپریشن ایک بروقت جواب ہے جو نہ صرف دہشتگردوں کے نیٹ ورک کو کمزور کرے گا بلکہ مقامی آبادی میں اعتماد بحال کرے گا۔ بلوچستان حکومت کی تعریف اور سیکیورٹی انتظامات کو سخت کرنے کا فیصلہ صوبے میں امن کی بحالی کی طرف ایک مثبت قدم ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ ریاست دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے اور اس طرح کی کارروائیاں مستقبل میں مزید استحکام لائے گی۔ مجموعی طور پر، یہ آپریشن پاکستان کی قومی سلامتی کو مضبوط بنانے اور بیرونی حمایت یافتہ عناصر کو روکنے میں ایک اہم کامیابی ہے، جو فورسز کی قربانیوں اور عزم کی قدر کرتے ہوئے قوم کو امید دلاتا ہے کہ امن کی جانب پیش رفت جاری رہے گی۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین