واشنگٹن (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو کسی بھی قسم کی مدد یا سہارا فراہم کرنے والے ممالک کو سخت معاشی نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے ممالک کے خلاف غیر معمولی پیمانے پر معاشی جنگ اور تنہائی کی پالیسی اختیار کی جائے گی۔
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ جو بھی ملک اپنے مالیاتی اداروں، کاروباری اداروں، ہوائی اڈوں یا سرکاری اداروں کے ذریعے ایران کو کسی بھی قسم کی مدد فراہم کرے گا، اسے ’’بہت بڑے معاشی نتائج‘‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
تاہم امریکی صدر نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس دھمکی پر عمل درآمد کی صورت میں واشنگٹن کن مخصوص اقدامات کا سہارا لے گا اور نہ ہی کسی ملک کا نام لیا۔ ان کے بیان سے یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ممالک بھی امریکی دباؤ کی زد میں آسکتے ہیں۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ میں امریکا کی شمولیت کے باعث خطے میں کشیدگی مزید بڑھ چکی ہے، جبکہ خلیجی ممالک بھی اس تنازع کے اثرات سے متاثر ہوئے ہیں۔
آبنائے ہرمز کی صورتحال بھی کشیدہ
جنگ کے دوران ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا، جس کے باعث عالمی منڈیوں میں شدید بے چینی پیدا ہوئی۔
جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تجارت شدہ تیل کی مقدار اسی اہم آبی گزرگاہ سے گزرتی تھی، جس کی وجہ سے آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی کی منڈیوں کو متاثر کرسکتی ہے۔
امریکا اور ایران نے اپریل اور جون میں جنگ بندی کے دو معاہدوں کا اعلان کیا تھا، جن کا مقصد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت معمول پر لانا اور تنازع کے خاتمے کی راہ ہموار کرنا تھا، تاہم دونوں معاہدے جلد ہی ناکام ہوگئے۔
یو اے ای نے ایران سے تجارتی سرگرمیاں معطل کردیں
دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے منگل کو ایران کے ساتھ تمام تجارتی سرگرمیاں، کاروباری لین دین اور مالی معاملات غیر معینہ مدت تک معطل کرنے کا اعلان کیا۔
یو اے ای کے مطابق ایران سے داغے گئے دو میزائل سمندر میں گرے تھے، تاہم ایران نے اس دعوے کو بے بنیاد قرار دیا۔
ادھر چین ایران سے برآمد ہونے والے 80 فیصد سے زائد تیل کا خریدار ہے۔ مبصرین کے مطابق بیجنگ پر مزید معاشی دباؤ ڈالنے کی صورت میں امریکا اور چین کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
ایران مذاکرات کے لیے تیار، مگر ہتھیار ڈالنے سے انکار
ایران کے رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ وہ امریکا سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں، تاہم مذاکرات کو کسی صورت ہتھیار ڈالنے کے مترادف نہیں سمجھتے۔
دوسری جانب ٹرمپ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے پر کنٹرول اور ایرانی جوہری پروگرام پر مزید سخت پابندیوں پر مبنی نئے معاہدے کے خواہاں ہیں۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق ٹرمپ کی تازہ دھمکی محض ایران تک محدود نہیں بلکہ ان ممالک کے لیے بھی ایک واضح پیغام ہے جو کسی بھی شکل میں تہران کی معاونت کر سکتے ہیں۔ اگر واشنگٹن نے واقعی ایران کے معاون ممالک پر سخت معاشی پابندیاں عائد کیں تو اس کے اثرات عالمی تجارت، تیل کی منڈی اور بڑی طاقتوں کے باہمی تعلقات پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
عوامی رائے
سوشل میڈیا پر امریکی صدر کے بیان پر مختلف ردعمل سامنے آئے۔ بعض صارفین نے اسے ایران پر دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی قرار دیا جبکہ دیگر نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایران کی مدد کرنے والے ممالک کو دھمکیاں دینے سے خطے میں سفارتی کوششیں مزید مشکل ہوسکتی ہیں۔
ماہرین کی رائے
بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق ایران کے خلاف معاشی دباؤ میں اضافہ ہونے کی صورت میں عالمی سطح پر تیل، تجارت اور مالیاتی نظام متاثر ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق اصل چیلنج یہ ہوگا کہ امریکا ایران پر دباؤ بڑھاتے ہوئے ان ممالک کے ساتھ تعلقات کو کس حد تک متوازن رکھتا ہے جو تہران کے ساتھ تجارتی یا سفارتی روابط رکھتے ہیں۔
ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی پہلے ہی خطے کے لیے سنگین صورتحال اختیار کرچکی ہے۔ ایسے میں دیگر ممالک کو بھی معاشی نتائج کی دھمکیاں دینا تنازع کو مزید وسیع کرسکتا ہے۔ خطے میں مستقل امن کے لیے فوجی اور معاشی دباؤ کے ساتھ سفارتی راستے بھی کھلے رکھنا ضروری ہے۔
میری رائے میں ٹرمپ کا تازہ بیان ایران کے خلاف دباؤ کی پالیسی کو مزید سخت کرنے کا اشارہ ہے، تاہم اصل صورتحال اس وقت واضح ہوگی جب امریکا اس دھمکی کو عملی اقدامات میں تبدیل کرتا ہے۔ ایران کے ساتھ تعلق رکھنے والے ممالک کے خلاف ممکنہ معاشی کارروائی عالمی تجارت اور توانائی کی منڈی کے لیے بھی اہم اثرات پیدا کرسکتی ہے





















