پاکستان کی معیشت پر سیلاب کی تباہ کاریوں کا سایہ گہرا پڑ رہا ہے، جہاں عالمی بینک نے ایک نئی رپورٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ حالیہ سیلاب کی وجہ سے معاشی ترقی کی رفتار میں نمایاں کمی آئے گی اور مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوگا۔ یہ رپورٹ، جو پاکستان کی موجودہ اور آئندہ مالیاتی صورتحال کا جائزہ پیش کرتی ہے، حکومت کے 4.2 فیصد ترقیاتی ہدف کو چیلنج کرتی ہے اور رواں مالی سال (FY26) میں جی ڈی پی کی شرح نمو کو 2.6 فیصد تک محدود رکھنے کا تخمینہ لگایا ہے۔ اگلے مالی سال (FY27) میں یہ شرح 3.6 فیصد تک بڑھ سکتی ہے، لیکن سیلاب کی تباہ کاریوں نے زرعی پیداوار اور برآمدات کو بری طرح متاثر کر دیا ہے، جو ملک کی معاشی بحالی کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ یہ اعلان نہ صرف پالیسی سازوں کے لیے ایک جھٹکا ہے بلکہ عام شہریوں کی معاشی امیدوں پر بھی سوال اٹھاتا ہے۔
سیلاب کی تباہ کاری
عالمی بینک کی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ رواں مالی سال میں سیلاب کی وجہ سے حقیقی جی ڈی پی گروتھ صرف 2.6 فیصد تک رہنے کا امکان ہے، جو حکومت کے طے کردہ ہدف سے تقریباً آدھا ہے۔ پنجاب اور سندھ جیسے متاثرہ علاقوں میں زرعی پیداوار میں 10 فیصد کی کمی دیکھی گئی، جہاں چاول، گندم، کپاس، مکئی، اور گنا جیسی اہم فصلیں شدید متاثر ہوئیں۔ یہ نقصان نہ صرف خوراک کی پیداوار کو کم کر رہا ہے بلکہ ترسیل کے نظام کو بھی درہم برہم کر رہا ہے، جس کی وجہ سے مالیاتی خسارہ 5.5 فیصد تک بڑھنے کا خدشہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی معیشت کا انحصار زرعی شعبے کی بحالی پر ہے، جو سیلاب کی وجہ سے مزید سست روی کا شکار ہو رہا ہے۔
مہنگائی کا خطرہ
رپورٹ میں مہنگائی کی شرح کو 7 فیصد سے تجاوز کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جو سیلاب کی وجہ سے خوراک کی قلت اور سپلائی چین کی خرابیوں کا نتیجہ ہوگا۔ عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ سیلابی نقصانات نہ صرف فصلوں کی پیداوار کو متاثر کریں گے بلکہ مہنگائی کی دباؤ کو بھی بڑھائیں گے، جو عام شہریوں کی خریداری کی صلاحیت کو مزید کم کر دے گی۔ یہ صورتحال خاص طور پر دیہی علاقوں میں شدید ہوگی، جہاں زرعی نقصانات کی وجہ سے خوراک کی قیمتیں آسمان چھوئیں گی، اور اس کا براہ راست اثر غریب طبقے پر پڑے گا۔
غربت کی شرح
عالمی بینک کی رپورٹ ایک مایوس کن حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ رواں مالی سال میں غربت کی شرح 44 فیصد رہے گی، جو اگلے سال 43 فیصد تک کم ہو سکتی ہے، یعنی ایک فیصد کی معمولی کمی۔ تاہم، یہ اعداد و شمار سیلاب کی تباہ کاریوں کے تناظر میں تشویشناک ہیں، کیونکہ یہ اضافی لاکھوں لوگوں کو غربت کی لکیر کے نیچے دھکیلنے کا خطرہ رکھتے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سیلاب نے نہ صرف فوری نقصان پہنچایا بلکہ طویل مدتی معاشی عدم استحکام کو بھی جنم دیا، جو غربت میں کمی کی راہ کو مسدود کر رہا ہے۔
اصلاحات اور زرعی بحالی کی ضرورت
عالمی بینک نے امید کی ایک کرن دکھاتے ہوئے کہا ہے کہ محصولات میں اضافہ، اخراجات میں کمی، اور زرعی شعبے کی فوری بحالی سے معاشی بہتری ممکن ہے۔ 5 سالہ اصلاحاتی منصوبے کے تحت ٹیرف میں کمی برآمدات کو فروغ دے سکتی ہے، جو ملک کی معاشی صحت کو بہتر بنائے گی۔ رپورٹ میں برآمدات میں کمی کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سیلاب کی وجہ سے برآمدات متاثر ہوں گی، لیکن ترسیلات زر میں اضافہ اور تیل کی کم قیمتیں اس خسارے کو توازن دے سکتی ہیں۔ یہ تجاویز حکومت کے لیے ایک روڈ میپ کی طرح ہیں، جو فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیتی ہیں۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
اس رپورٹ کے جاری ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر پاکستانی صارفین کے درمیان تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ایک صارف نے لکھا، "سیلاب نے سب کچھ تباہ کر دیا، اب معیشت کی بحالی کیسے ہوگی؟” جبکہ دوسرے نے امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "عالمی بینک کی تجاویز پر عمل کرکے ہم واپس کھڑے ہو سکتے ہیں۔” یہ ردعمل معاشی عدم یقینی کی عکاسی کرتا ہے، جہاں عام لوگ حکومت سے فوری اقدامات کی توقع رکھتے ہیں۔
اہم اعداد و شمار کا خلاصہ جدول
| اشاریہ | رواں مالی سال (FY26) | اگلا مالی سال (FY27) | وجوہات/تاثرات |
|---|---|---|---|
| جی ڈی پی گروتھ | 2.6 فیصد | 3.6 فیصد | سیلاب، زرعی نقصانات |
| مہنگائی کی شرح | 7 فیصد سے زائد | – | خوراک کی قلت، سپلائی چین خرابی |
| غربت کی شرح | 44 فیصد | 43 فیصد | ایک فیصد کمی، اضافی غریب |
| زرعی کمی | 10 فیصد | – | چاول، گنا، کپاس، گندم، مکئی متاثر |
| مالیاتی خسارہ | 5.5 فیصد تک | – | ترسیل متاثر، برآمدات کم |
معاشی بحالی کی راہ میں رکاوٹیں اور مواقع
عالمی بینک کی یہ رپورٹ پاکستان کی معیشت کے لیے ایک حقیقت پسندانہ جھلک پیش کرتی ہے، جو سیلاب کی تباہ کاریوں کو مرکزی وجہ قرار دیتی ہے۔ FY26 میں 2.6 فیصد جی ڈی پی گروتھ حکومت کے 4.2 فیصد ہدف سے کہیں کم ہے، جو زرعی شعبے (ملک کی جی ڈی پی کا 20 فیصد) کی 10 فیصد کمی کی وجہ سے ہے، اور یہ مہنگائی کو 7 فیصد سے اوپر دھکیل سکتی ہے۔ غربت کی شرح میں صرف ایک فیصد کمی کا تخمینہ مایوس کن ہے، کیونکہ سیلاب نے لاکھوں لوگوں کو غربت کی لکیر کے قریب پہنچا دیا ہے، جو غذائی بحران اور بے روزگاری کو مزید بڑھائے گا۔
تاہم، رپورٹ امید کی کرنیں بھی دکھاتی ہے، جہاں 5 سالہ اصلاحاتی منصوبہ (ٹیرف میں کمی) برآمدات کو فروغ دے سکتا ہے، اور ترسیلات زر (جو FY25 میں 0.1 فیصد سرپلس کا باعث بنیں) تیل کی کم قیمتیں معاشی توازن برقرار رکھ سکتی ہیں۔ حکومت کو فوری طور پر زرعی بحالی، اخراجات کی کمی، اور موسمیاتی مزاحمت (جیسے CCDR کی سفارشات) پر توجہ دینی ہوگی، جو FY27 میں 3.6 فیصد گروتھ کی بنیاد بن سکتی ہے۔ اگر یہ اقدامات نہ کیے گئے تو معیشت طویل سست روی کا شکار رہے گی، جو غربت کو مزید بڑھا دے گی۔ مجموعی طور پر، یہ رپورٹ ایک انتباہ ہے کہ سیلاب جیسی قدرتی آفات معاشی استحکام کو چیلنج کر رہی ہیں، اور پاکستان کو موسمیاتی اور مالیاتی اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ ترقی کی راہ ہموار ہو۔





















