سندھ حکومت کا خصوصی افراد کے لیے انکلوژن سٹی قائم کرنے کا منصوبہ، ماسٹر پلان منظور

کراچی: منصوبے کے تحت خصوصی افراد کو تعلیم، صحت، بحالی، رہائش، تربیت اور روزگار کی سہولیات فراہم کی جائیں گی؛ ترقیاتی کاموں کے لیے عملی اقدامات تیز کرنے کی ہدایت

کراچی(خصوصی رپورٹ:محمد وسیم جوکھیو) سندھ حکومت نے خصوصی افراد کے لیے ایک جامع اور جدید انکلوژن سٹی (Inclusive City) قائم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جس کا مقصد مختلف صلاحیتوں کے حامل افراد کو تعلیم، علاج، بحالی، رہائش، پیشہ ورانہ تربیت اور روزگار کی سہولیات ایک ہی مقام پر فراہم کرنا ہے۔ منصوبہ کراچی کے ضلع کورنگی میں شاہراہِ بھٹو کے قریب واقع ہے۔ مختلف سرکاری اعلانات اور میڈیا رپورٹس میں منصوبے کے لیے 75 ایکڑ، جبکہ اضافی اراضی سمیت مجموعی طور پر 88.38 ایکڑ زمین کا ذکر کیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی سربراہی میں منصوبے کے ماسٹر پلان کی منظوری دی جا چکی ہے۔ منصوبے کو خصوصی افراد کی خودمختاری، معاشرتی شمولیت اور بہتر معیارِ زندگی کے لیے ایک اہم اقدام قرار دیا گیا ہے۔ سندھ حکومت نے مالی سال 2024-25 کے بجٹ میں اس منصوبے کے لیے پانچ ارب روپے مختص کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔

منصوبے کے مجوزہ ماسٹر پلان میں خصوصی افراد کے لیے تعلیمی و تربیتی کمپلیکس، بحالی مراکز، ہسپتال، طبی و کلینیکل سہولیات، پیشہ ورانہ تربیتی مراکز، رہائشی بلاکس، فلاحی اداروں کے لیے جگہ اور تفریحی سرگرمیوں کے لیے پارک شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے منصوبے میں کھیلوں کے کمپلیکس کو بھی شامل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے خصوصی افراد کو باعزت زندگی گزارنے، اپنی صلاحیتیں نکھارنے اور معاشی طور پر خودمختار بننے کے مواقع فراہم کرنا مقصود ہے۔

وزیرِ محنت، انسانی وسائل و سماجی تحفظ سندھ سعید غنی نے بھی خصوصی افراد کے لیے شہر کے قیام کے حکومتی عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ خصوصی افراد کو صحت، تعلیم اور روزگار کی سہولیات فراہم کرے۔ انہوں نے ان افراد کی صلاحیتوں کو تسلیم کرنے، انہیں ہنر مند بنانے اور نجی شعبے میں روزگار کے مواقع فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بصارت سے محروم اور دیگر خصوصی افراد بھی مناسب مواقع ملنے پر نمایاں خدمات انجام دے سکتے ہیں۔

دوسری جانب، 16 اکتوبر 2026ء کو چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے انکلوژن سٹی کے مجوزہ مقام کا دورہ کیا اور متعلقہ حکام کے اجلاس میں منصوبے پر پیش رفت کا جائزہ لیا۔ انہوں نے تجاوزات ختم کرنے، چار دیواری کی تعمیر، کچرا اٹھانے اور علاقے کی صفائی یقینی بنانے کی ہدایات دیں۔ متعلقہ حکام کے مطابق علاقے سے تقریباً 18 ہزار ٹن کچرا اٹھایا جا چکا ہے، جبکہ باقی کچرا بھی صاف کرنے کے اقدامات جاری ہیں۔ منصوبے کے تحت سڑکوں، سیوریج اور اسٹریٹ لائٹس کی تعمیر کے لیے نومبر میں ٹینڈرز جاری کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

منصوبے کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بجلی، گیس، پینے کے پانی اور نکاسیٔ آب کے انتظامات پر بھی کام کیا جا رہا ہے۔ متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطے کے ذریعے بجلی کی فراہمی، پانی کی صفائی اور گندے پانی کو قابلِ استعمال بنانے کے انتظامات زیرِ غور ہیں، جبکہ بارش کے پانی کی نکاسی اور اسے محفوظ بنانے کے لیے بھی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔

انکلوژن سٹی سندھ میں خصوصی افراد کی فلاح و بہبود، بحالی اور معاشرتی شمولیت کے لیے ایک اہم منصوبہ بن سکتا ہے۔ تاہم، اس کے مقاصد کی حقیقی تکمیل کے لیے ضروری ہے کہ ترقیاتی کام مقررہ مدت میں مکمل ہوں اور تعلیم، علاج، تربیت، رہائش اور روزگار کی سہولیات مؤثر انداز میں فعال کی جائیں، تاکہ خصوصی افراد کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشرے کا فعال حصہ بنانے کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین