لاہور(خصوصی رپورٹ :محمد وسیم جوکھیو) مرکزی صدر مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ پاکستان شیخ فرحان عزیز نے اسلام آباد میں طالبہ لائبہ اعجاز کی خودکشی، ملتان یونیورسٹی میں فائرنگ کے نتیجے میں طالب علم کی ہلاکت اور مظفرگڑھ میں الیکٹرک بس کے عملے اور طلبہ کے درمیان تصادم کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں میں بڑھتے ہوئے تشدد، ہراسانی اور عدم تحفظ کے واقعات تعلیمی و سماجی ماحول کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں۔ تعلیمی ادارے علم و تحقیق، شعور و آگہی اور کردار سازی کے مراکز ہیں، انہیں خوف، تشدد، انتقام اور عدم برداشت کی آماجگاہ نہیں بننا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں طالبہ لائبہ اعجاز کے ساتھ مبینہ ویزا فراڈ کے معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داران کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دلوائی جائے۔ اسی طرح ملتان یونیورسٹی میں فائرنگ کے واقعے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرکے ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، جبکہ مظفرگڑھ میں گرین بس کے عملے پر طلبہ سے مبینہ تشدد کے الزامات کی بھی فوری تحقیقات کی جائیں اور طلبہ کو انصاف فراہم کیا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ تعلیمی اداروں کی انتظامیہ، متعلقہ محکمے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے طلبہ کی جان و عزت کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کریں اور ایسے واقعات کی روک تھام کو یقینی بنائیں۔
مرکزی صدر مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ پاکستان نے کہا کہ طلبہ سیاست معاشرے میں مثبت تبدیلی، جمہوری شعور، برداشت، مکالمے اور اجتماعی ذمہ داری کو فروغ دینے کا نام ہے۔ طلبہ تنظیموں کی ذمہ داری ہے کہ اختلافِ رائے کو دلیل، مکالمے اور باہمی احترام کے ذریعے حل کرنے کا شعور دیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ تعلیمی اداروں میں طلبہ کے تحفظ، شکایات کے فوری ازالے، ہراسانی کی روک تھام اور تشدد کے خلاف مؤثر نظام قائم کیا جائے، تاکہ طلبہ و طالبات اعتماد، محبت اور علم و شعور کے ماحول میں اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔





















