اسلام آباد:(خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ) پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے افغانستان کی جانب سے پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونے والے 8 ڈرونز کو مار گرایا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق ڈرونز کو پاکستان کے حساس اور آبادی والے علاقوں تک پہنچنے سے پہلے ہی فضائی دفاعی نظام نے بروقت شناخت کرکے ناکارہ بنا دیا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق آج صبح افغان طالبان رجیم کی جانب سے 8 ڈرونز پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوئے، جنہیں پاکستان کے فعال اور مستعد ایئر ڈیفنس سسٹم نے بروقت ڈیٹیکٹ کرکے مار گرایا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک فوج اور پاک فضائیہ نے ڈرونز کی مبینہ دراندازی کو ناکام بناتے ہوئے انہیں پاکستان کے اندر مزید آگے بڑھنے سے روک دیا۔
رپورٹس کے مطابق 8 ڈرونز میں سے 4 کو طورخم بارڈر سے ملحقہ علاقوں میں جبکہ دیگر 4 کو کوہاٹ سے متصل سرحدی پہاڑی علاقوں میں مار گرایا گیا۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کا فضائی دفاعی نظام پاک افغان سرحد پر مسلسل نگرانی کر رہا ہے اور کسی بھی فضائی خطرے کی صورت میں فوری کارروائی کیلئے تیار ہے۔ ذرائع کے مطابق تمام ڈرونز کو بروقت شناخت کرنے کے بعد دفاعی نظام نے انہیں ہدف بنایا۔
سکیورٹی ذرائع نے اس واقعے کو افغان طالبان رجیم کی جانب سے پاکستان کے خلاف مبینہ دراندازی قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ پیش رفت دہشت گرد گروہوں کی سرحد پار موجودگی اور مبینہ معاونت کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف کو مزید تقویت دیتی ہے۔ تاہم افغان طالبان حکام کی جانب سے اس مخصوص ڈرون واقعے کے بارے میں کوئی آزاد تصدیق یا تفصیلی مؤقف سامنے آنا ابھی باقی ہے۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق گزشتہ رات کرم سیکٹر میں بھی کشیدگی دیکھی گئی، جہاں سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان فورسز کی جانب سے پاکستانی سرحدی چوکیوں پر فائرنگ کی گئی۔ پاکستانی فورسز نے جوابی کارروائی میں سرحد پار متعدد افغان طالبان چوکیوں، مارٹر پوزیشنز اور دفاعی مقامات کو نشانہ بنایا۔
یہ تازہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاک افغان سرحد پر کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ اس سے دو روز قبل پاکستان نے خیبر پختونخوا سے ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملوں کے بعد افغانستان کے سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کے مبینہ ٹھکانوں کے خلاف فضائی کارروائی بھی کی تھی۔ پاکستانی وزارتِ اطلاعات کے مطابق ان کارروائیوں میں 28 سے زائد دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔
پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ ملک میں ہونے والی دہشت گردی کے بعض واقعات کے تانے بانے افغانستان میں موجود دہشت گرد تنظیموں اور ان کے مبینہ ٹھکانوں سے ملتے ہیں۔ اسلام آباد مسلسل کابل سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کیلئے استعمال ہونے سے روکا جائے۔
تازہ ڈرون واقعے سے قبل بھی رواں سال پاکستانی سکیورٹی فورسز کی جانب سے افغانستان سے آنے والے مبینہ ڈرونز کو مار گرائے جانے کی اطلاعات سامنے آچکی ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق جولائی میں بھی چار ایسے ڈرونز کو بلوچستان کی حدود میں گرایا گیا تھا، جبکہ جون میں قلعہ عبداللہ اور چاغی کے علاقوں میں دو ڈرونز مار گرائے جانے کی اطلاع دی گئی تھی۔
تازہ واقعے میں گرائے گئے ڈرونز کا ملبہ سکیورٹی اداروں کی تحویل میں لینے کا عمل جاری ہے۔ ملبے کی فرانزک اور تکنیکی جانچ سے ڈرونز کی نوعیت، ساخت اور ممکنہ لانچنگ مقام کے حوالے سے مزید معلومات سامنے آنے کی توقع ہے۔
پاکستانی سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فضائیہ اور زمینی سکیورٹی فورسز سرحدی علاقوں میں مکمل طور پر الرٹ ہیں اور کسی بھی مزید فضائی یا زمینی دراندازی کی کوشش کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہیں۔
یہ واقعہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان پہلے سے موجود کشیدہ تعلقات کے تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔ دونوں جانب سے ایک دوسرے پر سرحد پار کارروائیوں اور مسلح گروہوں کی معاونت کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں، جبکہ حالیہ دنوں میں سرحدی جھڑپوں اور دہشت گرد حملوں کے باعث صورتحال مزید حساس ہوگئی ہے۔
تازہ ڈرون واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاک افغان سرحد پر سکیورٹی صورتحال انتہائی حساس ہوچکی ہے۔ اگر سکیورٹی ذرائع کی فراہم کردہ معلومات درست ثابت ہوتی ہیں تو ایک ہی صبح 8 ڈرونز کا پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونا معمولی واقعہ نہیں۔ تاہم حتمی نوعیت، مقصد اور ڈرونز کے لانچنگ مقام سے متعلق تفصیلات تکنیکی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی زیادہ واضح ہوسکیں گی۔
عوامی رائے
پاکستانی عوام کیلئے سب سے اہم بات ملک کی فضائی حدود اور شہری آبادی کا تحفظ ہے۔ سرحدی کشیدگی کے دوران عوام یہ توقع رکھتے ہیں کہ سکیورٹی ادارے کسی بھی ممکنہ خطرے کا بروقت مقابلہ کریں اور حساس و آبادی والے علاقوں کو محفوظ رکھا جائے۔
ماہرین کی رائے
سکیورٹی ماہرین کے مطابق ڈرونز کے خلاف جدید فضائی دفاعی نظام کسی بھی ملک کی موجودہ دفاعی حکمت عملی کا اہم حصہ بن چکا ہے۔ خاص طور پر سرحدی علاقوں میں مسلسل نگرانی، بروقت شناخت اور الیکٹرانک یا دیگر دفاعی طریقوں سے ڈرونز کو ناکارہ بنانا ممکنہ نقصان کو کم کرسکتا ہے۔
روزنامہ تحریک کے نزدیک پاک افغان سرحد پر بڑھتی ہوئی کشیدگی خطے کے امن کیلئے ایک سنجیدہ معاملہ ہے۔ سرحدی نگرانی اور فضائی دفاع کو مضبوط رکھنے کے ساتھ ساتھ ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جو کشیدگی کو مزید پھیلنے سے روک سکیں۔ دہشت گردی کے خلاف کارروائی اور قومی سلامتی کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
میرے نزدیک اس واقعے کا اصل پہلو صرف 8 ڈرونز کا مار گرایا جانا نہیں بلکہ پاک افغان سرحد پر مسلسل بڑھتی ہوئی کشیدگی ہے۔ اگر سرحد پار سے ڈرونز اور مسلح دراندازی کی کوششوں کی اطلاعات جاری رہتی ہیں تو صورتحال مزید پیچیدہ ہوسکتی ہے۔ پاکستان کیلئے ضروری ہے کہ دفاعی تیاری برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ واقعے کے شواہد بھی سامنے لائے جائیں تاکہ ڈرونز کے اصل ماخذ، مقصد اور ذمہ داری کے بارے میں واضح تصویر عوام کے سامنے آسکے۔





















