ٹرمپ ایران پر جوہری حملے کا فیصلہ کب کریں گے؟ ٹکر کارلسن نے 7 نومبر کی تاریخ بتا دی

نیتن یاہو ایران کے خلاف فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرانے کے خواہاں ہیں

واشنگٹن:(خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ) معروف امریکی صحافی اور سیاسی مبصر ٹکر کارلسن نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے خلاف ممکنہ جوہری حملے کے معاملے پر غور کر سکتی ہے اور اس حوالے سے فیصلہ 7 نومبر تک متوقع ہے۔ کارلسن کے مطابق اس معاملے میں اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے، کیونکہ وہ ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کے خواہاں ہیں۔

ٹکر کارلسن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ ممکنہ کارروائی کا ہدف وسطی ایران میں واقع پیک ایکس ماؤنٹین ہو سکتا ہے، جہاں اسرائیلی انٹیلی جنس کے دعوے کے مطابق ایران نے اپنا جوہری افزودگی کا پروگرام دوبارہ شروع کر دیا ہے۔

کارلسن کا کہنا ہے کہ اس پہاڑ کے اندر موجود سرنگیں تقریباً 300 فٹ گہری ٹھوس گرینائٹ چٹان کے نیچے ہیں اور ان کے بقول امریکی روایتی ہتھیار ان سرنگوں کو تباہ کرنے کے لیے کافی نہیں ہوں گے۔ انہوں نے اسی بنیاد پر جوہری حملے کو ممکنہ فوجی آپشن قرار دیا، تاہم یہ ان کا اپنا دعویٰ اور تجزیہ ہے، امریکی حکومت کی جانب سے اس کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔

نیتن یاہو اور ٹرمپ کے رابطوں کا دعویٰ

ٹکر کارلسن نے ایک باخبر مبصر کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ نیتن یاہو اس معاملے پر صدر ٹرمپ سے روزانہ رابطے میں رہتے ہیں۔ ان کے مطابق نیتن یاہو کو اپنے سیاسی مستقبل کے لیے ٹرمپ کی حمایت درکار ہے اور وہ ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے کو اپنے سیاسی مفاد کے لیے اہم سمجھتے ہیں۔

کارلسن نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ ہفتے کے انتخابی نتائج کے بعد نیتن یاہو کو نئی حکومت بنانے کے لیے کنیسٹ میں 61 ارکان کی حمایت درکار ہے۔ ان کے مطابق وزارتِ عظمیٰ سے محرومی کی صورت میں نیتن یاہو کو سیاسی مشکلات، تحقیقات اور ممکنہ قانونی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ نیتن یاہو نے امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور سینٹ کام کے کمانڈر بریڈ کوپر سمیت امریکی انتظامیہ میں اپنے قریبی اتحادیوں پر ایران کے خلاف بڑی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے لیے دباؤ ڈالا ہے۔

کارلسن کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف بھی نیتن یاہو کے مؤقف کی حمایت کر رہے ہیں۔ انہوں نے ڈیموکریٹک پارٹی کے بعض رہنماؤں کی حمایت کا دعویٰ بھی کیا، جبکہ سابق امریکی صدر براک اوباما سے متعلق کہا کہ انہوں نے ایک حالیہ اجلاس میں دوحہ میں تیار کیے جانے والے ایران امن معاہدے کی مخالفت کی تھی۔

ٹکر کارلسن نے دعویٰ کیا کہ نیتن یاہو 27 ستمبر کو خفیہ طور پر ابوظہبی گئے تھے تاکہ ایران کے خلاف آخری فوجی کارروائی کے لیے متحدہ عرب امارات کی حمایت حاصل کی جا سکے، تاہم ان کے مطابق اماراتی حکام نے اس تجویز سے اتفاق نہیں کیا۔

کارلسن نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے معاشی اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کئی ماہ سے جاری تنازع کے باعث خلیجی معیشتوں کے ساتھ عالمی توانائی اور کھاد کی منڈیوں پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔

ان کے دعوے کے مطابق دنیا بھر میں تیل کی ترسیل کے لیے تقریباً 850 بڑے آئل ٹینکر استعمال ہوتے ہیں اور اکتوبر کے دوران آبنائے ہرمز میں ان میں سے 11 کو شدید نقصان پہنچا۔

ممکنہ جوہری حملے کے تباہ کن نتائج کا خدشہ

ٹکر کارلسن نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کیے گئے تو اس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے۔ ان کے مطابق پیک ایکس ماؤنٹین پر زمینی جوہری دھماکے کے نتیجے میں تابکاری خلیج فارس تک پھیل سکتی ہے اور تقریباً 10 کروڑ افراد کے پانی کے ذخائر متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کی جانب سے جوہری ہتھیار استعمال کرنے سے عالمی سطح پر ایک خطرناک مثال قائم ہو سکتی ہے۔ کارلسن نے روس، پاکستان، بھارت اور شمالی کوریا کے حوالے سے بھی جوہری کشیدگی بڑھنے کے خدشات ظاہر کیے اور خبردار کیا کہ اس طرح عالمی تنازع مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔

کارلسن نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ رواں سال فروری سے امریکی انتظامیہ نے اپنی جوہری پالیسی میں خاموشی سے تبدیلیاں کی ہیں، جن کا مقصد میدانِ جنگ میں محدود نوعیت کے جوہری ہتھیاروں کے پہلے استعمال کی راہ آسان بنانا ہے۔ تاہم اس دعوے کے حق میں خبر میں کوئی سرکاری دستاویز یا آزادانہ تصدیق پیش نہیں کی گئی۔

7 نومبر تک فیصلے کا دعویٰ

ٹکر کارلسن کے مطابق صدر ٹرمپ 7 نومبر تک ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں فیصلہ کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اس معاملے میں تذبذب کا شکار ہیں اور نائب صدر جے ڈی وینس اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کی رائے بھی سن رہے ہیں، جو ایران کے ساتھ معاہدے کے امکان کے حامی ہیں۔

کارلسن نے تسلیم کیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات آسان نہیں ہوں گے۔ انہوں نے ایرانی قیادت کے اندر سخت گیر مؤقف رکھنے والے حلقوں اور مذاکرات کے حوالے سے پائی جانے والی پیچیدگیوں کا بھی ذکر کیا۔

اس کے باوجود ان کا کہنا تھا کہ ایران کے فیصلہ سازوں سے رابطے رکھنے والے بعض افراد کے مطابق مزید جنگ کسی کے مفاد میں نہیں اور معاہدہ ہی بہتر راستہ ہو سکتا ہے۔

اپنی پوسٹ کے اختتام پر ٹکر کارلسن نے عالمی عوام کو خبردار کیا کہ ممکنہ جوہری حملے کے نتائج پوری دنیا اور آنے والی نسلوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ انہوں نے اس خطرے کے خلاف عالمی سطح پر آواز بلند کرنے کی اپیل بھی کی۔

یہ واضح رہنا ضروری ہے کہ ایران پر جوہری حملے، 7 نومبر کی مبینہ ڈیڈ لائن اور امریکی انتظامیہ کے اندر حمایت یا مخالفت سے متعلق یہ تفصیلات ٹکر کارلسن کے دعووں پر مبنی ہیں۔ فراہم کردہ رپورٹ میں امریکی حکومت کی جانب سے کسی جوہری حملے کے حتمی فیصلے یا ایسے منصوبے کی باضابطہ تصدیق موجود نہیں۔

ٹکر کارلسن کے دعوے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے ممکنہ خطرناک رخ کی جانب توجہ دلاتے ہیں۔ تاہم جوہری حملے جیسے انتہائی سنگین معاملے پر کسی نتیجے تک پہنچنے کے لیے امریکی حکومت کی باضابطہ پالیسی، متعلقہ اداروں کے بیانات اور آزادانہ طور پر تصدیق شدہ معلومات ضروری ہیں۔ کسی صحافی کا دعویٰ بذاتِ خود امریکی حکومت کے فیصلے کا ثبوت نہیں ہوتا۔

عوامی رائے

ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے ممکنہ اثرات صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں رہیں گے۔ خطے میں جنگ کی شدت عالمی معیشت، تیل کی ترسیل اور عام شہریوں کی زندگیوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ اسی لیے سفارتی کوششوں اور مذاکرات کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔

ماہرین کی رائے

جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے ممکنہ نتائج میں انسانی جانوں کا نقصان، تابکاری، ماحولیاتی تباہی اور طویل المدتی صحت و معاشی مسائل شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم پیک ایکس ماؤنٹین، تابکاری کے پھیلاؤ اور پانی کے ذخائر سے متعلق مخصوص دعووں کی تصدیق کے لیے سائنسی اور آزادانہ جائزہ درکار ہوگا۔

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی امن کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج ہے۔ جوہری ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق کسی بھی دعوے کو غیر معمولی احتیاط سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ عالمی طاقتوں کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو خطے کو ایک وسیع تباہ کن جنگ کی طرف لے جائیں۔

ٹکر کارلسن کی جانب سے 7 نومبر کی تاریخ کا ذکر اس خبر کا نمایاں پہلو ہے، لیکن اسے امریکی حملے کی طے شدہ تاریخ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ فی الحال یہ ایک صحافی کا دعویٰ ہے، کوئی باضابطہ امریکی اعلان نہیں۔ دنیا کو اس وقت جنگی دھمکیوں کے بجائے سفارتی حل، مذاکرات اور علاقائی امن کی ضرورت ہے

متعلقہ خبریں

مقبول ترین