شرمائیں نہیں، خطرے سے آگاہ کریں

حادثے کے بعد خوف ناک ویڈیو پھیلانے کے بجائے حادثے سے پہلے درست طریقہ دکھانا زیادہ مفید ہوگا

تحریر:رمیض حسین

کبھی کبھی زندگی اور حادثے کے درمیان صرف چند انچ کا فاصلہ ہوتا ہے؛ اتنا ہی فاصلہ جتنا موٹر سائیکل کے گھومتے پہیے اور ہوا میں لہراتے دوپٹے کے درمیان رہ جاتا ہے۔ آگے بیٹھا شخص سڑک دیکھ رہا ہوتا ہے، پیچھے بیٹھی ماں بچے کو سنبھال رہی ہوتی ہے اور دوپٹے کا ایک سرا آہستہ آہستہ پہیے کے قریب پہنچ رہا ہوتا ہے۔ سب اپنی منزل کی طرف بڑھ رہے ہوتے ہیں، مگر کسی کو خبر نہیں ہوتی کہ معمول کا یہ سفر اچانک ہسپتال کی ایمرجنسی تک بھی پہنچ سکتا ہے۔

دفتر آتے جاتے مجھے اکثر ایسے مناظر دکھائی دیتے ہیں۔ کسی خاتون کا دوپٹا پچھلے پہیے کے قریب لٹک رہا ہوتا ہے، کسی کی چادر کا کنارہ اسے چھو رہا ہوتا ہے۔ میں موٹر سائیکل چلانے والے کی توجہ دلاتا ہوں کہ پیچھے بیٹھی خاتون کا دوپٹا ٹھیک کروالیں۔ اکثر لوگ فوراً احتیاط کر لیتے ہیں، لیکن ایک دو مرتبہ ناخوشگوار ردعمل بھی ملا۔ خاتون نے اپنے ساتھ بیٹھے بھائی، والد یا شوہر سے کہا کہ بتانے والا غلط کہہ رہا ہے، دوپٹا بالکل ٹھیک ہے۔ ایسے لمحوں میں محسوس ہوتا ہے کہ خطرے سے پہلے ہمیں خطرے کی اطلاع قبول کرنا بھی سیکھنا ہوگا۔

ہمارے ہاں سڑک پر کسی اجنبی کی آواز بعض اوقات مداخلت سمجھی جاتی ہے۔ بے اعتمادی کے اس ماحول میں احتیاط کی ایک بات بھی ناگوار گزر سکتی ہے۔ تاہم، کپڑے کے پہیے کے قریب ہونے کی اطلاع ملے تو محفوظ جگہ رک کر دیکھ لینے میں کیا حرج ہے؟ اطلاع غلط ہو تو چند لمحے صرف ہوں گے، درست ہو تو شاید پوری زندگی محفوظ رہ جائے۔ البتہ متوجہ کرنے والے کو بھی شائستگی، مناسب فاصلے اور ٹریفک کی صورتِ حال کا خیال رکھنا چاہیے۔

یہ خدشہ محض ذاتی مشاہدے تک محدود نہیں۔ جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کراچی میں جولائی 2013ء سے دسمبر 2014ء تک ہونے والی تحقیق میں دوپٹے سے متعلق موٹر سائیکل حادثات کی 450 زخمی خواتین کا جائزہ لیا گیا۔ ان میں 49 کو داخل کرنا پڑا، جبکہ باقی کو ابتدائی علاج اور نگرانی کے بعد رخصت کیا گیا۔ نومبر 2016ء میں پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے جریدے میں شائع یہ تحقیق واضح کرتی ہے کہ بظاہر معمولی دکھائی دینے والی غفلت ہسپتال میں داخلے کی نوبت لا سکتی ہے۔ یہ ایک ہسپتال کا پرانا مطالعہ ہے؛ اسے پورے ملک کے موجودہ روزانہ حادثات کا تخمینہ نہیں سمجھنا چاہیے۔

خطرہ صرف موٹر سائیکل سے گرنے کا نہیں ہوتا۔ دوپٹا پہیے یا چین میں الجھنے سے گردن پر اچانک کھنچاؤ بھی پڑ سکتا ہے۔ پاکستان سے شائع ایک طبی کیس رپورٹ میں ایسی خاتون کا واقعہ درج ہے جس کا دوپٹا پچھلے پہیے میں پھنس گیا تھا۔ محققین نے اضافی احتیاط اور بالخصوص تاروں والے پہیوں پر حفاظتی گارڈ کی ضرورت اجاگر کی۔ یوں لباس کے ایک کھلے سرے کو معمولی سمجھنا بعض حالات میں سنگین غلطی ثابت ہو سکتا ہے۔

پاکستان میں اس مسئلے کی اہمیت موٹر سائیکل کے وسیع استعمال سے بھی بڑھ جاتی ہے۔ گیلپ پاکستان کی معاشی سروے 2023-24ء پر مبنی تشریح کے مطابق 2024ء کے عبوری اعداد میں رجسٹرڈ موٹر سائیکلوں کی تعداد تقریباً دو کروڑ اٹھاسی لاکھ تھی۔ یہ رجسٹریشن کا عدد ہے، لازماً سڑک پر چلنے والی تمام موٹر سائیکلوں کی گنتی نہیں۔ تاہم، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ محفوظ سفر کی ایک معمولی ہدایت کتنے بڑے طبقے کے لیے اہم ہے۔

بہت سے گھرانوں کے لیے موٹر سائیکل روزگار، تعلیم، علاج اور ضروری خریداری تک پہنچنے کا سہارا ہے۔ مہنگائی اور محدود وسائل کے درمیان اسی پر خاندان کی روزمرہ زندگی چلتی ہے۔ لہٰذا گفتگو میں ان کی معاشی مجبوریوں کا احترام ضروری ہے۔ مقصد کسی خاندان کو شرمندہ کرنا نہیں، اسے وہ عملی معلومات دینا ہے جن سے اس کا سفر محفوظ ہو سکے۔ خواتین کی حفاظت بھی ڈرائیور، خاندان، اداروں اور خود مسافر کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

پہلا اصول سفر شروع ہونے سے پہلے لباس کی جانچ ہے۔ دوپٹے، چادر، عبایا یا قمیص کا کوئی حصہ پہیے، چین اور دوسرے متحرک حصوں تک نہ پہنچ سکے۔ کپڑے کے کھلے سرے اس طرح سمیٹے جائیں کہ ہوا انہیں دوبارہ باہر نہ نکال دے۔ دوپٹا محض گردن کے گرد کس لینا کافی نہیں؛ اس کے لٹکتے حصے محفوظ کرنا ضروری ہیں۔ آئرلینڈ کی روڈ سیفٹی اتھارٹی بھی مسافروں کو ڈھیلے لباس اور ایسے اسکارف سے خبردار کرتی ہے جو ہوا سے اپنی جگہ چھوڑ کر موٹر سائیکل میں پھنس سکتے ہیں۔

بیٹھنے کا طریقہ بھی باقاعدہ تربیت کا موضوع ہونا چاہیے۔ برطانوی محکمۂ ٹرانسپورٹ کی حفاظتی رہنمائی میں پچھلے مسافر کے لیے سامنے رخ کرکے بیٹھنے اور دونوں پاؤں متعلقہ پائیدانوں پر رکھنے کی ہدایت ہے۔ ہمارے معاشرتی ماحول میں خواتین کا دونوں ٹانگیں ایک طرف کرکے بیٹھنا عام ہے، اس لیے محفوظ نشست کے بارے میں گفتگو احترام اور عملی تربیت کے ساتھ ہونی چاہیے۔ ڈرائیور اور مسافر دونوں کے لیے درست جسامت کا معیاری، بند پٹی والا ہیلمٹ بھی سفر کی بنیادی ضرورت سمجھا جائے۔

بچے کو گود میں تھامے خاتون سے یہ توقع رکھنا کہ وہ بچے، سامان، لباس اور اپنا توازن بیک وقت سنبھال لے گی، مسئلے کی پیچیدگی نظرانداز کرنا ہے۔ موٹر سائیکل سیفٹی فاؤنڈیشن کے مطابق مسافر کو پائیدان تک پاؤں پہنچانے، مناسب طریقے سے پکڑنے اور حفاظتی سامان استعمال کرنے کے قابل ہونا چاہیے۔ ادارہ یہ بھی بتاتا ہے کہ اضافی مسافر سے موٹر سائیکل کا توازن اور بریک لگانے کا عمل متاثر ہوتا ہے۔ محفوظ نشست میسر نہ ہو تو دستیاب متبادل سواری اختیار کرنا ترجیح ہونی چاہیے۔

اگر دورانِ سفر کپڑا ڈھیلا ہونے کا احساس ہو تو اسے درست کرنے کے لیے جھکنے یا اچانک حرکت کرنے کے بجائے ڈرائیور کو آگاہ کرکے محفوظ جگہ رکنا چاہیے۔ گھر سے نکلنے سے پہلے لباس، ہیلمٹ، نشست اور پائیدان کی مختصر جانچ معمول بنائی جائے۔ پہیے اور چین کے حفاظتی کور بھی درست حالت میں ہوں؛ ان کی موجودگی احتیاط کی ضرورت ختم نہیں کرتی۔

سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب نصاب میں پڑھایا جانا چاہیے؟ یقیناً سڑک پر محفوظ رہنے کی عملی تعلیم کو جگہ ملنی چاہیے، اور یہ تعلیم لڑکیوں اور لڑکوں دونوں کے لیے ہو۔ اسکولوں میں تصویری اسباق، کالجوں میں مختصر تربیتی نشستیں اور ڈرائیونگ مراکز میں مسافر کی حفاظت سے متعلق عملی مظاہرہ متعارف کرایا جا سکتا ہے۔ بچوں کو یہ بھی سکھایا جائے کہ کسی کی بروقت تنبیہ سننا کمزوری نہیں، سمجھ داری ہے۔

ٹریفک پولیس، موٹر سائیکل ساز ادارے اور ذرائع ابلاغ مل کر مختصر آگاہی مہم چلا سکتے ہیں۔ حادثے کے بعد خوف ناک ویڈیو پھیلانے کے بجائے حادثے سے پہلے درست طریقہ دکھانا زیادہ مفید ہوگا۔ ہماری سڑکوں پر روزانہ بے شمار خاندان منزل تک پہنچنے کی امید لے کر نکلتے ہیں۔ ان کی سلامتی کے لیے کبھی ایک حفاظتی سبق، کبھی چند لمحوں کا توقف اور کبھی ایک شائستہ آواز کافی ہو سکتی ہے: ذرا رک جائیے، دوپٹا پہیے کے قریب ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین