حلقہ اربابِ ذوق کا کاشف منظور کی صدارت میں تنقیدی اجلاس

ڈاکٹر فوزیہ تبسم نے نظم‘ عبدالوحید نے افسانہ اور منزہ سحر کی غزل پر مجلس میں بحث

لاہور(خصوصی رپورٹ)حلقہ ارباب ذوق کا ہفتہ وار تنقیدی اجلاس کاشف منظور کی صدارت میں پاک ٹی ہاؤس میں ہوا۔جوائنٹ سیکرٹری شہزاد فراموش نے گزشتہ اجلاس کی کارروائی پڑھی۔بعد ازاں باری باری ڈاکٹر فوزیہ تبسم نے نظم ”خون پھر خون ہے“ عبدالوحید نے افسانہ ”رنگ کاٹ ساعتیں“ اور منزہ سحر نے غزل تنقید کیلئے پیش کی۔تینوں تخلیقات پر حاضرین مجلس نے اپنی رائے دی۔صاحبِ صدارت نے نظم پر اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ شاعرہ نے منفی سدا بہا ر منظر دکھایا ہے جو روپ بدل بدل کر سامنے آتا ہے۔

یہ شاید جلد بازی میں لکھی گئی نظم ہے،جس میں کہیں کہیں مصرعے دولخت ہیں۔اس میں معین کرافٹ کی کمی ہے مگر خیال کی پرواز بلند ہے بہر حال نظم اپنا تاثر دینے میں کامیاب ہے۔ افسانہ کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ کرافٹ میں افسانہ نگار کی محنت دکھائی دی،انکی تاریخ پر دسترس ہے۔افسانہ میں صحافتی انداز آ گیا اس میں ادب جھلکتا تو اچھا تھا۔ اسے رد کرنے سے پہلے مصنف کا باقی کام بھی دیکھنا پڑے گا،مجموعی طور پر اچھا افسانہ ہے۔

غزل کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ادب کا پہلا منصب جمالیات کی تسکین ہے، یہ اس کا خوبصورت عکس ہے۔انہوں نے دو اشعار کی طرف دھیان دلایا جن میں فنی حوالے سے مسئلہ تھا۔آخر میں سیکرٹری آفتاب جاوید نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ آئندہ اجلاس شام چھ بجے ہوگا۔اجلاس میں 70افراد نے شرکت کی۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین