ناکام ڈرون دراندازی کا جواب، پاکستان کا افغانستان میں 10 مقامات پر فضائی و ڈرون حملوں کا اعلان

کارروائی ڈرونز کی لانچنگ اور ذخیرہ کرنے والے مقامات کے خلاف کی گئی،عطاء اللہ تارڑ

اسلام آباد:(خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ) پاکستان نے 23 ستمبر کو افغانستان سے پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ڈرونز کی مبینہ دراندازی کے بعد افغانستان میں 10 مقامات پر فضائی اور ڈرون حملے کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ کے مطابق کارروائی ان مقامات کے خلاف کی گئی جہاں سے ڈرونز لانچ اور ذخیرہ کیے جانے کی نشاندہی ہوئی تھی۔

عطاء اللہ تارڑ نے 24 ستمبر کو اپنے بیان میں کہا کہ افغانستان سے ڈرونز کا پاکستانی حدود میں داخل ہونا پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی تھی۔ ان کے مطابق پاکستان کے فضائی دفاعی نظام نے تمام درانداز ڈرونز کا بروقت سراغ لگایا، انہیں ٹریک کیا اور ان کے اپنے اہداف تک پہنچنے سے پہلے ہی ناکارہ بنا دیا۔

وزیر اطلاعات کے مطابق اس کے بعد پاکستان نے اپنے دفاع کے حق کو استعمال کرتے ہوئے افغانستان میں ان 10 مقامات پر درست اور محدود فضائی و ڈرون کارروائی کی جہاں مبینہ طور پر پاکستان میں بھیجے جانے والے ڈرونز کو لانچ اور ذخیرہ کیا جاتا تھا۔

پاکستانی مؤقف کے مطابق کارروائی دانستہ، درست، محدود اور متناسب تھی اور اسے صرف ان شناخت شدہ فوجی اہداف تک محدود رکھا گیا جو مبینہ ڈرون حملوں سے براہ راست منسلک تھے۔ حکومت نے کہا ہے کہ کارروائی کا مقصد شہری آبادی کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ پاکستان کے خلاف استعمال ہونے والے مبینہ عسکری انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنانا تھا۔

یہ کارروائی ایک روز قبل 23 ستمبر کو پیش آنے والے ڈرون واقعے کے بعد کی گئی۔ پاکستانی سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغانستان سے 8 ڈرونز پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوئے تھے، جن میں سے 4 کو طورخم سے ملحقہ علاقوں میں جبکہ دیگر 4 کو کوہاٹ سے متصل سرحدی پہاڑی علاقوں میں مار گرایا گیا۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کے فضائی دفاعی نظام نے ان ڈرونز کو بروقت شناخت کرکے ناکارہ بنایا۔

پاکستانی حکام نے اس واقعے کو محض ایک فضائی دراندازی نہیں بلکہ ملکی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ عطاء اللہ تارڑ کے مطابق پاکستان گزشتہ کئی برس سے افغان طالبان حکومت اور اس کے رابطہ کاروں کے سامنے افغانستان میں موجود مبینہ دہشت گرد پناہ گاہوں اور معاون نیٹ ورکس کے حوالے سے اپنے تحفظات پیش کرتا رہا ہے۔

پاکستانی حکومت کا کہنا ہے کہ اس کے بجائے کہ افغانستان میں موجود مبینہ دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف قابلِ اعتماد اور قابلِ تصدیق کارروائی کی جاتی، صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور پاکستان کے خلاف ڈرون کارروائیوں کا راستہ اختیار کیا گیا۔ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ افغان سرزمین سے دہشت گرد گروہوں یا کسی دوسرے فریق کی جانب سے ہونے والی کارروائیوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

یہ تازہ کارروائی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاک افغان سرحد پر کشیدگی کئی دن سے جاری ہے۔ اس سے قبل 21 ستمبر کو پاکستان نے افغانستان کے اندر تین مقامات پر فضائی کارروائیوں کا اعلان کرتے ہوئے 28 دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ تاہم افغان حکام اور اقوام متحدہ کی جانب سے ان کارروائیوں میں شہری ہلاکتوں کی بھی اطلاع دی گئی، جس سے واقعے کے اثرات پر دونوں جانب کے مؤقف میں واضح فرق سامنے آیا۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں حالیہ کارروائیوں کی بنیاد اس کی اپنی سرزمین پر ہونے والے حملوں اور سرحد پار دہشت گردی کے خدشات ہیں۔ اسلام آباد طویل عرصے سے افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دیا جائے اور وہاں موجود مسلح گروہوں کے خلاف قابلِ تصدیق اقدامات کیے جائیں۔

دوسری جانب افغانستان پاکستان کی سرحد پار کارروائیوں کی مخالفت کرتا رہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان اس معاملے پر شدید اختلافات موجود ہیں۔ تازہ حملوں کے بعد کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ بھی پیدا ہوگیا ہے، جبکہ دونوں جانب سے ایک دوسرے پر الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔

پاکستانی حکام نے اپنے بیان میں یہ بھی واضح کیا ہے کہ اسلام آباد خطے میں کشیدگی نہیں چاہتا اور علاقائی امن، مذاکرات اور تعمیری رابطے کے عزم پر قائم ہے۔ تاہم پاکستانی مؤقف کے مطابق امن اور مذاکرات کی خواہش کو کمزوری یا دشمنانہ کارروائیوں کو برداشت کرنے کی علامت نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کیلئے ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔ انہوں نے افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان کے خلاف تمام دشمنانہ سرگرمیاں فوری طور پر روکے اور افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف کارروائیوں کو روکنے کیلئے مؤثر، ٹھوس، قابلِ تصدیق اور مستقل اقدامات کرے۔

تازہ صورتحال میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ 10 مقامات پر ہونے والی کارروائی کے بعد پاک افغان سرحد پر کشیدگی کس سمت جاتی ہے۔ پاکستان نے مزید کسی اشتعال انگیز کارروائی کی صورت میں مضبوط جواب دینے کا عندیہ دیا ہے، جبکہ افغانستان کی جانب سے بھی پاکستانی کارروائیوں پر اعتراضات سامنے آتے رہے ہیں۔

حالیہ واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاک افغان کشیدگی اب صرف سرحدی جھڑپوں تک محدود نہیں رہی بلکہ ڈرون اور فضائی کارروائیاں بھی اس تنازع کا حصہ بن رہی ہیں۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ 10 اہداف پر کارروائی مخصوص فوجی مقامات تک محدود تھی، تاہم ایسی کارروائیوں کے بعد سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ شہری آبادی کو نقصان سے محفوظ رکھا جائے اور صورتحال کو مزید وسیع تصادم کی طرف جانے سے روکا جائے۔

عوامی رائے

پاکستانی عوام کیلئے بنیادی تشویش ملک کی خودمختاری اور شہریوں کا تحفظ ہے۔ سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگ چاہتے ہیں کہ دہشت گردی اور کسی بھی قسم کی دراندازی کا مؤثر سدباب ہو، تاہم ساتھ ہی یہ توقع بھی کی جاتی ہے کہ کشیدگی کو مزید پھیلنے سے روکنے کیلئے سفارتی رابطے جاری رکھے جائیں۔

ماہرین کی رائے

سکیورٹی ماہرین کے مطابق ڈرون ٹیکنالوجی اب سرحدی تنازعات میں ایک اہم عنصر بن چکی ہے، جس کے باعث فضائی نگرانی اور دفاعی نظام کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ تاہم پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجودہ صورتحال کا مستقل حل صرف عسکری اقدامات سے نہیں بلکہ سکیورٹی، سرحدی انتظام اور سفارتی رابطوں کے امتزاج سے ہی ممکن ہوگا۔

روزنامہ تحریک کے نزدیک پاکستان کی جانب سے اپنے دفاع اور شہریوں کے تحفظ کیلئے اقدامات کا مؤقف اپنی جگہ اہم ہے، لیکن پاک افغان سرحد پر مسلسل بڑھتی ہوئی کشیدگی پورے خطے کیلئے تشویش کا باعث ہے۔ دونوں جانب ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جو دہشت گردی کے خطرے کو کم کرنے کے ساتھ کشیدگی کو مزید پھیلنے سے بھی روکیں۔

میرے نزدیک موجودہ صورتحال کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ڈرونز کے واقعے کے بعد معاملہ فوری طور پر افغانستان میں 10 اہداف تک پہنچ گیا ہے۔ یہ کشیدگی کے بڑھتے ہوئے دائرے کی نشاندہی کرتا ہے۔ پاکستان کیلئے اپنی سرزمین اور شہریوں کا دفاع بنیادی ذمہ داری ہے، لیکن ساتھ ہی ضروری ہے کہ ہر کارروائی کے اہداف اور نتائج کے بارے میں قابلِ تصدیق معلومات سامنے لائی جائیں اور سفارتی راستے بھی کھلے رکھے جائیں تاکہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی اور علاقائی امن دونوں کو ساتھ لے کر آگے بڑھا جاسکے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین