خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ )فورٹ پورٹل: یوگنڈا کی روایتی تورو سلطنت میں ایک سابق ٹی وی صحافی اور نیوز اینکر کو نیا بادشاہ منتخب کرلیا گیا ہے۔ پرنس) ایڈورڈ روکیدی کیجانانگوما کو شاہی بابیٹو قبیلے کی 21 رکنی کمیٹی نے نئے بادشاہ کے طور پر منتخب کیا، جس کے بعد انہیں شاہی نام ایڈورڈ روکیدی نیابونگو اول دیا گیا ہے۔
56 سالہ ایڈورڈ روکیدی کیجانانگوما طویل عرصے تک یوگنڈا کے سرکاری نشریاتی ادارے میں نیوز اینکر اور ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ صحافت کے شعبے سے طویل وابستگی رکھنے والے ایڈورڈ کا تعلق تورو کے شاہی خاندان سے ہے اور وہ سابق بادشاہ اویو نیِمبا کے کزن بھی ہیں۔
تورو سلطنت میں نئے بادشاہ کا انتخاب سابق بادشاہ اویو نیِمبا کی وفات کے بعد عمل میں آیا۔ سابق بادشاہ 27 اگست 2026 کو 34 سال کی عمر میں کینسر کے باعث انتقال کر گئے تھے۔ وہ 1995 میں صرف تین سال کی عمر میں تورو کے بادشاہ بنے تھے اور طویل عرصے تک سلطنت کی علامتی اور روایتی قیادت کرتے رہے۔
نئے بادشاہ ایڈورڈ روکیدی نیابونگو اول کی تاج پوشی فورٹ پورٹل میں روایتی رسومات کے ساتھ کی گئی۔ تاج پوشی کی تقریبات میں تورو سلطنت کی روایتی اقدار اور ثقافت کی عکاسی کرنے والی مختلف رسومات ادا کی گئیں، جن میں روایتی جنگ کی ایک علامتی رسم بھی شامل تھی۔
تاہم نئے بادشاہ کے انتخاب کے معاملے پر شاہی خاندان کے اندر اختلاف بھی سامنے آیا ہے۔ سابق بادشاہ اویو نیِمبا کی والدہ ملکہ کیمیگسا اور خاندان کے بعض دیگر افراد نے ایڈورڈ کے انتخاب پر اعتراض کیا ہے۔
ملکہ کیمیگسا اور ان کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ مرحوم بادشاہ اویو نیِمبا نے ایک کم عمر بیٹا چھوڑا تھا اور ان کی مبینہ وصیت میں اسی بیٹے کو آئندہ بادشاہ کے طور پر جانشین قرار دیا گیا تھا۔ اس مؤقف کے مطابق کم عمر وارث کو شاہی جانشینی کا حق حاصل ہونا چاہیے تھا۔
دوسری جانب شاہی بابیٹو قبیلے کی 21 رکنی کمیٹی کا کہنا ہے کہ مذکورہ مبینہ وارث کو ان کے سامنے باضابطہ طور پر پیش نہیں کیا گیا، جس کے باعث روایتی جانشینی کے طریقہ کار کے تحت نئے بادشاہ کے انتخاب کا عمل آگے بڑھایا گیا۔
اس طرح تورو سلطنت میں نئے بادشاہ کی تاج پوشی ایک طرف روایتی شاہی نظام کے تسلسل کی علامت ہے تو دوسری جانب شاہی خاندان کے اندر جانشینی کے معاملے پر موجود اختلاف نے اس عمل کو مزید اہم بنا دیا ہے۔
ایڈورڈ روکیدی نیابونگو اول کا بادشاہ بننا اس اعتبار سے بھی منفرد واقعہ ہے کہ وہ شاہی خاندان سے تعلق رکھنے کے باوجود طویل عرصے تک صحافت سے وابستہ رہے۔ ایک نیوز اینکر اور ایڈیٹر کے طور پر ان کا کیریئر انہیں عام شاہی جانشینوں سے مختلف پس منظر فراہم کرتا ہے۔
تورو سلطنت یوگنڈا کی روایتی بادشاہتوں میں شامل ہے۔ اگرچہ جدید یوگنڈا میں روایتی بادشاہتوں کا کردار بنیادی طور پر ثقافتی اور روایتی نوعیت کا ہے، تاہم مقامی سطح پر ان شاہی اداروں کو تاریخی اور سماجی اہمیت حاصل ہے۔
ایڈورڈ روکیدی نیابونگو اول کا انتخاب اس لحاظ سے غیر معمولی ہے کہ نئے بادشاہ نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ صحافت میں گزارا۔ تاہم ان کے انتخاب کے ساتھ ہی سابق بادشاہ کے ممکنہ جانشین سے متعلق اعتراضات بھی سامنے آئے ہیں۔ اس معاملے میں روایتی جانشینی کے طریقہ کار اور شاہی خاندان کے دعووں کے درمیان اختلاف مستقبل میں بھی اہم موضوع رہ سکتا ہے۔
عوامی رائے
نئے بادشاہ کا انتخاب تورو سلطنت کی روایتی زندگی میں ایک اہم تبدیلی ہے۔ سابق صحافی کا بادشاہ بننا اس واقعے کو مزید منفرد بناتا ہے، جبکہ جانشینی کے معاملے پر سامنے آنے والے اختلافات نے بھی عوامی توجہ حاصل کی ہے۔
ماہرین کی رائے
روایتی بادشاہتوں میں جانشینی کے اصول ہر معاشرے کی اپنی تاریخی روایات اور قبائلی طریقہ کار کے مطابق مختلف ہوسکتے ہیں۔ تورو سلطنت کے معاملے میں بھی نئے بادشاہ کے انتخاب کو اسی روایتی نظام کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، تاہم خاندان کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات اس عمل کی مزید وضاحت کی ضرورت کو ظاہر کرتے ہیں۔
یوگنڈا کی تورو سلطنت میں ایک سابق نیوز اینکر کا بادشاہ منتخب ہونا ایک منفرد واقعہ ہے۔ ایڈورڈ روکیدی نیابونگو اول کے انتخاب نے جہاں سلطنت کی روایتی قیادت میں ایک نیا باب کھولا ہے، وہیں جانشینی سے متعلق اختلاف نے شاہی خاندان کے اندر موجود مختلف مؤقف بھی سامنے لائے ہیں۔
اس خبر کا سب سے منفرد پہلو ایک صحافی کا روایتی بادشاہ بننا ہے۔ تاہم نئے بادشاہ کی تاج پوشی کے ساتھ سامنے آنے والے جانشینی کے اعتراضات بھی اہم ہیں۔ آئندہ صورتحال میں روایتی طریقہ کار اور شاہی خاندان کے دعووں سے متعلق مزید وضاحت سامنے آنا اس معاملے کو سمجھنے میں مدد دے گا۔





















