پنجاب حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان پاور شیئرنگ پر تاریخی پیشرفت

ن نے پیپلز پارٹی کو صوبائی انتظامی ڈھانچے میں مناسب حصہ دینے کی یقین دہانی کرائی ہے

لاہور: پاکستان کی سب سے بڑی صوبائی اسمبلی پنجاب میں حکومتی اتحاد کی جھنجھوڑی ایک مثبت موڑ لے رہی ہے جہاں پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان طویل عرصے سے جاری پاور شیئرنگ کی بحث بالآخر ایک بڑے بریک تھرو کی شکل اختیار کر گئی ہے اور دونوں جماعتوں کی قیادت نے اختلافی امور کو دفن کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جو صوبائی سیاست کو استحکام کی نئی بلندیوں تک لے جائے گا۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کی صوبائی قیادت نے پیپلز پارٹی کے تمام اہم تحفظات کو سنجیدگی سے سنتے ہوئے ان کی بنیادوں کو مضبوط کرنے کا وعدہ کیا ہے جس کے نتیجے میں جو مسائل برسوں سے دونوں اتحادیوں کے درمیان تلخیاں کا باعث بن رہے تھے اب حل کی طرف بڑھ رہے ہیں اور یہ معاہدہ نہ صرف صوبائی بجٹ کی منظوری کو آسان بنائے گا بلکہ ترقیاتی منصوبوں کی رفتار کو بھی تیز کر دے گا جو عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔

یہ بریک تھرو ایک ایسے دور میں سامنے آیا ہے جب پیپلز پارٹی کی پنجاب میں سیاسی جڑیں مضبوط کرنے کی کوششیں مسلم لیگ ن کی غلبہ کی سیاست سے ٹکرا رہی تھیں مگر اب دونوں جماعتوں کے درمیان پاور شیئرنگ کے معاملات بالکل طے پا چکے ہیں اور مسلم لیگ ن نے پیپلز پارٹی کو صوبائی انتظامی ڈھانچے میں مناسب حصہ دینے کی یقین دہانی کرائی ہے جو اتحاد کی بنیادوں کو مزید پختہ کرے گی۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ مسلم لیگ ن کی صوبائی قیادت نے پیپلز پارٹی کے 30 ارکان اسمبلی اور ان کے ٹکٹ ہولڈرز کے انتخابی حلقوں میں ترقیاتی فنڈز کی فوری اور باقاعدہ جاری کرنے کی ہامی بھر لی ہے جو ان حلقوں میں جاری ترقیاتی کاموں کو نئی توانائی دے گی اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں میں خوشی کی لہر دوڑا دے گی۔ اس کے علاوہ پنجاب حکومت کے محکمہ قانون میں لا آفیسرز کی بھرتیوں کے عمل میں بھی پیپلز پارٹی کو مناسب شیئر دینے کا امکان پیدا ہو گیا ہے جو صوبائی سطح پر قانونی امور کی نگرانی میں اتحادی جماعت کی شمولیت کو یقینی بنائے گا اور یہ قدم دونوں جماعتوں کے درمیان اعتماد کی بحالی کا ایک اہم سنگ میل ہے۔

اس معاہدے کی مزید دلچسپ جہت یہ ہے کہ ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹیوں میں پیپلز پارٹی کے ایم پی ایز اور ٹکٹ ہولڈرز کو شامل کیے جانے کا فیصلہ بھی ہو چکا ہے جو مقامی سطح پر انتظامی فیصلوں میں ان کی آواز کو طاقت دے گا اور صوبے بھر میں ترقیاتی پروجیکٹس کی نگرانی میں ایک متوازن نمائندگی کو یقینی بنائے گا۔ یہ اقدامات نہ صرف پیپلز پارٹی کے تحفظات کو دور کرنے کا نتیجہ ہیں بلکہ مسلم لیگ ن کی اس حکمت عملی کا حصہ بھی ہیں جو صوبائی حکومت کو مزید جامع اور عوام دوست بنانے کی طرف اشارہ کرتے ہیں جہاں اتحادی جماعتوں کی شراکت داری سے صوبے کی معاشی اور سماجی ترقی کو نئی سمت ملے گی۔ پنجاب جیسے صوبے میں جہاں سیاسی اتحاد کی بنیاد پر حکومتیں چلتی ہیں یہ بریک تھرو ایک ایسا موڑ ہے جو مستقبل کی سیاسی استحکام کی ضمانت دے سکتا ہے اور دونوں جماعتوں کو اپنے کارکنوں کے سامنے ایک کامیاب مثال پیش کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔

یہ بریک تھرو پاکستان کی کولیشن سیاست کی ایک عمدہ مثال ہے جہاں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی جیسے روایتی حریف اب اتحاد کی بنیاد پر چل رہے ہیں مگر اس کی کامیابی عمل درآمد پر منحصر ہوگی کیونکہ ماضی میں ایسے معاہدوں کی خلاف ورزیاں تلخیاں جنم دیتی رہیں ہیں۔ ایک طرف تو ترقیاتی فنڈز اور بھرتیوں میں شیئر دینا پیپلز پارٹی کی پنجاب میں جڑیں مضبوط کرے گا جو صوبائی اسمبلی میں ان کی نمائندگی کو مؤثر بنائے گا مگر دوسری طرف یہ مسلم لیگ ن کی قیادت پر دباؤ بڑھا سکتا ہے کہ وہ اپنی مرکزی گرفت کو کمزور کیے بغیر اتحادیوں کو مطمئن رکھیں جو پنجاب کی معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے۔ مجموعی طور پر یہ قدم صوبائی بجٹ کی منظوری اور مقامی انتظام کو بہتر بنا سکتا ہے مگر اگر وعدے پورے نہ ہوئے تو اتحاد کی عمریں ختم ہو سکتی ہیں جو قومی سطح پر بھی اثرات مرتب کریں گی۔

عوامی رائے سوشل میڈیا اور نیوز فورمز پر ایک مثبت لہر کی شکل اختیار کر چکی ہے جہاں لوگ اسے سیاسی استحکام کی علامت قرار دے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ معاہدہ ترقیاتی کاموں کو تیز کرے گا اور صوبے کی عوام کو فائدہ پہنچے گا جبکہ کچھ ناقدین یہ خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ یہ صرف کاغذی معاہدہ ہے اور پیپلز پارٹی کو اصل طاقت نہ ملے گی۔ پیپلز پارٹی کے حامی اسے ایک بڑی فتح سمجھتے ہیں جبکہ مسلم لیگ ن کے کارکنوں میں احتیاط کا ماحول ہے کہ اتحاد کی یہ کوشش دیرپا ثابت ہو۔ مجموعی طور پر عوام میں امید کی کرن ہے کہ یہ قدم صوبائی سیاست کو ایک نئی سمت دے گا۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین