اسلام آباد میں ژالہ باری کے بعد ورکشاپس والوں کی چاندی

اس قدرتی آفت کے بعد ورکشاپس اور اسپیئر پارٹس مارکیٹوں میں لوٹ مار جیسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے

اسلام آباد میں ہونے والی اچانک اور شدید ژالہ باری نے دارالحکومت کے شہریوں کو نہ صرف خوفزدہ کیا بلکہ مالی طور پر بھی بڑا نقصان پہنچایا۔ انڈے کے سائز کے برف کے گولوں نے درجنوں گاڑیوں کے شیشے چکنا چور کر دیے، جبکہ سولر پینلز اور درختوں کے گرنے سے املاک کو بھی نقصان پہنچا۔ اس قدرتی آفت کے بعد ورکشاپس اور اسپیئر پارٹس مارکیٹوں میں لوٹ مار جیسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے، جہاں ونڈ اسکرینز کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں، اور ضلعی انتظامیہ ابھی تک حالات کا ادراک کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں گزشتہ روز ہونیوالی شدید ژالہ باری سے گاڑیوں کی تباہی کے باعث ورکشاپس اور ونڈ سکرین تبدیل کرنے والوں کی چاندی ہوگئی۔انڈے کے سائز کے برف کے گولوں کی بارش نے سینکڑوں گاڑیوں کے شیشے توڑ دیئے، سولر پینلز سمیت درخت گرنے سے عمارتوں کو نقصان پہنچا۔محتاط اندازوں کے مطابق سیکٹر ای11، ایف7اور میلوڈی کے قریب کم از کم 300 گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔تاہم ضلعی انتظامیہ اب تک مجموعی نقصانات کا تخمینہ لگانے میں ناکام رہی ہے اور شہریوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ نے نہ تو نقصانات کا سروے کیا اور نہ ہی متاثرین کے لیے کوئی امدادی اقدامات کیے۔

ورکشاپس پر ونڈ سکرین کی تبدیلی کے ریٹس آسمان کو چھونے لگے جبکہ مکینکس نے مجبور شہریوں سے منہ مانگے دام وصول کرنا شروع کر دیئے۔شہریوں نے شکایت کی کہ ورکشاپس پر قیمتوں کو کنٹرول کرنے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے جس سے ان کی مشکلات میں اضافہ ہوا۔شہریوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نقصانات کا فوری تخمینہ لگائے، متاثرین کیلئے امدادی پیکیج کا اعلان کر اور ورکشاپس پر قیمتوں کو ریگولیٹ کرے تاکہ شہریوں سے زیادتی نہ ہو۔انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، جس سے شہریوں میں مایوسی بڑھتی جا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین