کراچی میں کبوتروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والی پھیپھڑوں کی بیماری میں تشویشناک اضافہ

ایک نجی اسپتال میں برڈ فینسرز لنگز کے ہفتہ وار 15 سے 20 کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں

کراچی میں کبوتروں سے پھیلنے والی پھیپھڑوں کی ایک بیماری تیزی سے بڑھ رہی ہے، جس سے خاص طور پر خواتین متاثر ہو رہی ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پرندوں کے قریب رہنا خطرناک ہو سکتا ہے اور احتیاطی تدابیر نہ اپنائی گئیں تو مرض سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں کبوتروں سے انسانوں کو لگنے والی پھیپھڑوں کی بیماری میں واضح اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اس بیماری کو "برڈ فینسرز لنگز” کہا جاتا ہے، جو کہ پرندوں کے پروں اور فضلے سے پیدا ہونے والے ذرات کے باعث پھیلتی ہے۔

نجی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے ماہر امراض تنفس ڈاکٹر محمد عرفان نے بتایا کہ ایک نجی اسپتال میں برڈ فینسرز لنگز کے ہفتہ وار 15 سے 20 کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں، اور اس بیماری سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں خواتین شامل ہیں۔

ڈاکٹر محمد عرفان کے مطابق کبوتر کے پروں اور فضلے کے چھوٹے ذرات سانس کی نالی میں داخل ہو کر الرجی اور پھیپھڑوں میں سوجن کا باعث بنتے ہیں۔ یہ ذرات گھروں میں کھڑکیوں اور ایئر کنڈیشنرز کے ذریعے داخل ہو جاتے ہیں، جس کے بعد لوگ اس بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بعض مریضوں کی حالت اس حد تک بگڑ سکتی ہے کہ انہیں اسٹیرائڈز، آکسیجن یا یہاں تک کہ پھیپھڑوں کی پیوند کاری کی بھی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ بیماری سے بچاؤ کے لیے ضروری ہے کہ لوگ کبوتروں سے فاصلہ رکھیں اور مناسب احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ متاثرہ افراد کو پرندوں کے قریب جانے سے فوری گریز کرنا چاہیے۔

دوسری جانب سول اسپتال کے حکام کا کہنا ہے کہ روزانہ سانس کی بیماریوں کے متعدد کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں، لیکن ان میں کسی مخصوص بیماری کی درجہ بندی نہیں کی جاتی۔ اسپتال حکام کے مطابق خواتین مریضوں میں بغیر کسی ظاہری بیماری کے سانس پھولنے کی شکایت فی الحال سامنے نہیں آئی ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین