گرمی کے دنوں میں اکثر یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ ٹھنڈا پانی پینا صحت کے لیے بہتر ہے یا نارمل درجہ حرارت والا پانی؟ دونوں کے اپنے فائدے اور نقصانات ہیں، اور درست انتخاب کا انحصار آپ کی صحت، موسم اور جسمانی حالات پر ہوتا ہے۔
یہ سوال بہت عام ہے ٹھنڈا پانی پینا بہتر ہے یا نارمل پانی؟
درحقیقت، دونوں قسم کے پانیوں کے اپنے الگ الگ فوائد اور نقصانات ہوتے ہیں، اور ان کا استعمال وقت، موسم اور صحت کی ضرورت کے مطابق ہونا چاہیے۔
گرمی کے موسم میں ٹھنڈا پانی جسم کو جلدی ٹھنڈک فراہم کرتا ہے، ورزش کے بعد یہ جسمانی تھکن کو کم کرتا ہے اور بخار یا شدید گرمی میں سکون کا باعث بنتا ہے۔
تاہم اس کے کچھ نقصانات بھی ہیں: یہ نظامِ ہضم کو سست کر سکتا ہے، گلے یا دل کے مریضوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے اور جسم کو اسے جسمانی درجہ حرارت کے مطابق ڈھالنے میں زیادہ توانائی صرف کرنی پڑتی ہے۔
نارمل یا کمرے کے درجہ حرارت کا پانی نظامِ ہضم کے لیے زیادہ سازگار ہوتا ہے، یہ گردوں کی بہتر کارکردگی میں مدد دیتا ہے اور جسمانی درجہ حرارت سے ہم آہنگی میں رہتا ہے۔ خاص طور پر صبح کے وقت نارمل پانی پینا زیادہ مفید سمجھا جاتا ہے۔
البتہ گرم موسم میں یہ فوری سکون یا تھکن کو اتنی تیزی سے دور نہیں کرتا جتنی جلدی ٹھنڈا پانی کرتا ہے۔
تجویز
عام حالات میں نارمل پانی پینا زیادہ محفوظ اور فائدہ مند سمجھا جاتا ہے۔ البتہ سخت گرمی یا سخت ورزش کے بعد ہلکا ٹھنڈا پانی پینا فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ تاہم برف والا بہت ٹھنڈا پانی مسلسل پینا نظامِ ہضم یا دیگر جسمانی نظاموں پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
اگر آپ کسی خاص طبی بیماری جیسے معدے، گلے یا دل کی کسی تکلیف میں مبتلا ہیں تو پانی کے درجہ حرارت کے انتخاب میں خاص احتیاط برتنی چاہیے۔





















