کینیڈا کے صوبے البرٹا میں تتلی کی ایک بالکل نئی نسل دریافت ہوئی ہے، جو تقریباً 40,000 سال سے دوسری نسلوں سے جینیاتی طور پر الگ تھلگ ہے۔ ماہرین نے اس تتلی کو نایاب قرار دے کر اس کے تحفظ پر زور دیا ہے۔
کینیڈا کے صوبہ البرٹا میں واقع واٹرٹن لیکس نیشنل پارک میں حال ہی میں تتلی کی ایک نئی نسل دریافت ہوئی ہے، جسے سائنسی طور پر Satyrium curiosolus کا نام دیا گیا ہے۔ اس تتلی کو عام زبان میں "Curiously Isolated Hairstreak” بھی کہا جا رہا ہے۔
یہ تتلی دکھنے میں پہلے سے موجود "ہاف مون یائر اسٹریک” نسل سے مشابہت رکھتی ہے، لیکن سائنسدانوں نے جب اس کا جینیاتی تجزیہ کیا تو پتہ چلا کہ یہ ایک الگ اور بالکل منفرد نسل ہے۔
تحقیق سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ یہ تتلی تقریباً 40,000 سال سے جینیاتی طور پر دیگر تتلیوں سے الگ تھلگ ہے، جس کی وجہ سے اس کی جینیاتی ساخت میں بہت خاص خصوصیات پائی جاتی ہیں۔
یہ تتلی صرف البرٹا کے ایک مخصوص علاقے بلیکسنٹن فین میں ہی پائی گئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی جغرافیائی موجودگی بہت محدود ہے، اور یہ کسی اور جگہ قدرتی طور پر نہیں پائی جاتی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ اس تتلی کی آبادی بہت محدود ہے اور اس میں جینیاتی تنوع بھی کم ہے، اس لیے اس پر فوری توجہ اور تحفظ کی ضرورت ہے۔ ماہرین نے اسے خطرے سے دوچار نسل قرار دینے کی سفارش بھی کی ہے۔
علاوہ ازیں، سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس نسل کو دوسری مشابہت رکھنے والی تتلیوں کے ساتھ ملا کر افزائش کی کوشش کی گئی، تو یہ اس کی صحت اور وجود کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
اسی وجہ سے ماہرین نے محتاط نگرانی اور حفاظتی اقدامات کی سخت ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ اس نایاب تتلی کی نسل کو محفوظ رکھا جا سکے اور اسے معدوم ہونے سے بچایا جا سکے۔





















