پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو قدرتی حسن، جغرافیائی تنوع اور معدنی وسائل سے مالا مال ہے، لیکن بدقسمتی سے یہاں حکومتی سطح پر منصوبہ بندی، ہنگامی ردعمل اور انسان دوستی کے باب میں فقر و فقدان نظر آتا ہے۔ سوات میں حالیہ دل دہلا دینے والا سانحہ، جس میں کئی افراد دریا کے بے رحم بہاؤ کی نذر ہو گئے، ایک بار پھر قوم کے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑ گیا ہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ یہ جھنجھوڑا ہوا ضمیر جلد ہی معمول پر آ جاتا ہے، اور پھر کوئی نیا سانحہ ہمیں نیند سے جگانے کے لیے آن موجود ہوتا ہے۔سوال یہ ہے کہ ہم کب تک جانیں دیتے رہیں گے؟ کب تک افسوس کا اظہار” اور "اعلیٰ سطحی تحقیقات” کے بیانات قوم کو بہلاتے رہیں گے؟ کب تک قدرتی آفات کے نام پر انسانی جانوں کا ضیاع ہوتا رہے گا، اور حکومت، ضلعی انتظامیہ، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، اور دیگر ادارے محض بیانات، تصاویر اور خانہ پری پر اکتفا کرتے رہیں گے؟سانحہ سوات نیا نہیں۔ یہ اس المناک سلسلے کی ایک تازہ کڑی ہے جس میں گزشتہ دہائیوں کے دوران ہزاروں افراد بارشوں، سیلابوں، لینڈ سلائیڈنگز، اور دریاؤں کے خطرناک بہاؤ کی نذر ہو چکے ہیں۔ لیکن ہر سانحے کے بعد ہم صرف روایتی طرز کا ردعمل دیکھتے ہیں: چند افسوسناک فقرے، روایتی بیانات، وزرائے اعلیٰ کی جانب سے معطلیاں، اور بعد ازاں ایک خاموشی جو اگلے سانحے تک جاری رہتی ہے۔
پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور نے سوات سانحے پر کہا ہے کہ یہ سانحہ ناقابل برداشت قومی المیہ ہے جو حکومتی نا اہلی،غفلت اور اور بد انتظامی کا کھلا ثبوت ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ کسی بھی حکومت نے آج تک کوئی جامع پالیسی وضع نہیں کی اور نہ کوئی ہنگامی منصوبہ بندی کی گئی اور نہ ہی نچلی سطح پر تربیت یافتہ ریکیو ٹیموں کا موثر نظام موجود ہے۔خرم نواز گنڈاپور نے بیان میں جس جرأت اور سچائی سے حکومت کی غفلت کو بے نقاب کیا، وہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ ریاستی ادارے صرف نعروں اور بل بورڈز سے مسائل حل نہیں کر سکتے۔ ریاست کی ذمہ داری صرف تعمیرات نہیں، تحفظ ہے۔ اگر عوام کے جان و مال کی حفاظت یقینی نہیں بنائی جا سکتی تو حکمرانی کا جواز کیا ہے؟ہمارے ملک میں این ڈی ایم اے جیسے ادارے موجود ہیں، جو ہر سال بجٹ بھی لیتے ہیں، منصوبہ بندی کے دعوے بھی کرتے ہیں، اور آفات کے وقت چند رضاکارانہ کارروائیاں بھی کرتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر یہ ادارے اتنے مؤثر ہیں تو ہر بار عوامی جان و مال کیوں دائو پر لگتا ہے؟ اگر دریاؤں میں طغیانی کی پیشگی وارننگز موجود تھیں، تو عوام کو محفوظ مقامات پر کیوں منتقل نہ کیا گیا؟سیاحوں کو خطرناک مقام تک جانے کیوں دیا گیا؟ اگر علاقے خطرناک تھے تو ان میں داخلے پر پابندی کیوں نہ لگائی گئی؟ اگر حکومت کو اندازہ تھا کہ موسم خطرناک ہے تو سڑکیں، پل اور قیام گاہیں محفوظ کیوں نہ بنائی گئیں؟یہ صرف سوات کی کہانی نہیں، یہ ہر اُس جگہ کی کہانی ہے جہاں انسان بے بس ہے، اور ریاست غیر حاضر۔ کبھی بلوچستان میں زلزلے، کبھی سندھ میں بارشوں سے تباہی، کبھی جنوبی پنجاب میں ندی نالوں کی طغیانی، اور اب خیبرپختونخواہ میں دریاؤں کی بےرحمی ہر واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ قدرت تو اپنا کام کر رہی ہے، مگر انسانوں نے اپنی ذمہ داریوں سے منہ موڑ رکھا ہے۔آج کے جدید دور میں قدرتی آفات کی پیشگی اطلاع ممکن ہو چکی ہے۔
اسے بھی پڑھیں: موسلادھار بارش کے بعد دریائے سوات میں طغیانی، 7 مقامات سے 75 سے زائد افراد بہہ گئے
سیٹلائٹ، موسمیاتی ماڈلز، اور ہنگامی پیغامات کے ذریعے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اپنے شہریوں کو بروقت محفوظ بنا لیتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں یہ نظام یا تو صرف فائلوں میں ہے یا افسران کی تقاریر میں۔ عملی میدان میں، ہم آج بھی اسی مقام پر کھڑے ہیں جہاں سات دہائیاں قبل تھے۔سب سے بڑی غفلت منصوبہ بندی کی ہے۔ اگر پہاڑی علاقوں میں ریسکیو مراکز پہلے سے موجود ہوتے، اگر ندی نالوں کے قریب تعمیرات پر پابندی ہوتی، اگر عوامی تربیت کا نظام موجود ہوتا، اگر مقامی حکومتوں کو فعال کردار دیا جاتا، اگر ضلعی سطح پر ڈیزاسٹر ریسپانس فورسز قائم ہوتیں تو شاید سوات جیسے سانحات کو روکا جا سکتا۔یہاں صرف اداروں کی غفلت کا ذکر نہیں، بلکہ اجتماعی قومی رویے پر بھی سوال ہے۔ ہم بحیثیت قوم ان سانحات کو وقتی دکھ کی طرح محسوس کرتے ہیں، اور پھر بھول جاتے ہیں۔ جب تک عوام خود اپنے حقوق کے لیے آواز بلند نہیں کریں گے، جب تک میڈیا سنجیدہ عوامی دباؤ پیدا نہیں کرے گا، جب تک ہر سانحے پر صرف حکومت کو نہیں، اداروں کو بھی جواب دہ نہیں بنایا جائے گا، تب تک کچھ نہیں بدلے گا۔سوات جیسی جنت نظیر وادی میں ایسے افسوسناک سانحات نہ صرف انسانی جانوں کا ضیاع ہوتے ہیں بلکہ سیاحت جیسے اہم شعبے پر کاری ضرب بھی بن جاتے ہیں۔ حالیہ حادثے نے مقامی، قومی اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے سیاحتی مقامات کے محفوظ ہونے پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ مقامی ہوٹل مالکان، ٹور گائیڈز، دکانداروں اور دیگر سیاحت پر انحصار کرنے والے افراد کی معیشت اس واقعہ کے بعد سمٹ گئی ہے۔ سوشل میڈیا اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں وائرل ہونے والی تباہی کی تصاویر نے ان مقامات کا تاثر خوفزدہ کر دیا ہے۔ جب حکومت بروقت اقدامات نہ کرے، وارننگز نظر انداز ہوں، اور ریسکیو کا نظام بے بس ہو، تو سیاح وہاں جانے سے کتراتے ہیں۔ یہ محض سوات نہیں، پورے پاکستان کی سیاحتی ساکھ کو متاثر کرنے والی صورتحال ہے، جس کا ازالہ صرف تعزیتی بیانات سے نہیں، بلکہ عملی تحفظ اور جدید انفراسٹرکچر سے ممکن ہے۔ہمیں ایک ایسی قومی پالیسی کی ضرورت ہے جو صرف کاغذوں تک محدود نہ ہو۔ اس پالیسی میں خطرناک علاقوں کی نشاندہی، عوامی آگاہی مہمات، مقامی حکومتوں کو اختیارات کی منتقلی، ہنگامی بجٹ کا شفاف استعمال، اور ادارہ جاتی احتساب شامل ہو۔
ہمیں ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے دنیا کے کامیاب ماڈلز سے سیکھنا ہو گا۔یاد رکھئے، سانحہ سوات میں بہنے والی جانیں صرف پانی میں نہیں گئیں، وہ ایک بے حس نظام، غیر مؤثر اداروں اور غفلت میں ڈوبے ہوئے نظمِ حکمرانی کا شکار ہوئیں۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہو گا کہ ہم صرف ماتم کریں گے یا اصلاح کی طرف بڑھیں گے۔ ہمیں یہ بھی طے کرنا ہو گا کہ قدرتی آفات کو روک تو نہیں سکتے، مگر ان کے اثرات کو کم ضرور کر سکتے ہیں، اگر ہمارے ادارے بیدار ہوں، اور حکومتیں مخلص۔ریاست مدینہ کے دعوے کرنے والوں سے گزارش ہے کہ وہ مدینہ کے حکمرانوں سے سیکھیں کہ وہ رعایا کی ایک بکری کے لیے بھی خود کو جواب دہ سمجھتے تھے۔ آج ہمارے ہاں درجنوں جانیں چلی جاتی ہیں، مگر کوئی مستعفی نہیں ہوتا، کوئی معطل نہیں ہوتا، کوئی معافی نہیں مانگتا۔ یہ طرزِ حکمرانی قوم کو اندھے کنویں میں دھکیل رہا ہے۔اگر اب بھی ہم نہ جاگے، تو اگلا سانحہ کسی اور شہر میں، کسی اور دریا کے کنارے، اور کسی اور معصوم خاندان کی بربادی کا سبب بنے گا۔کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ ہم صرف افسوس نہ کریں، بلکہ احتساب کی ابتدا کریں؟





















