ٹھنڈی گاڑی میں نماز جنازہ

بغیر تحقیق کے الزام تراشی کرنا اللہ کے نزدیک بڑا گناہ اور عذاب جہنم سے دو چار کر دینے والا عمل ہے،اسلام نے سختی سے ہدایت کی ہے کہ بغیر تحقیق کے نہ کسی پر الزام لگائو اور نہ ہی ایک دوسرے کے ساتھ تحقیق کے بغیر ناپسندیدہ باتوں کو زیر بحث لائو

سوشل میڈیا پر آج کل ایک ویڈیو بہت وائرل ہے جس میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب ، سابق وفاقی وزیر ،سینئر سیاستدان میاں منظور احمد خان وٹو کو اپنی گاڑی کے اندر بیٹھ کر نماز جنازہ پڑھتے ہوئے دکھایا گیا ہے، تمام لوگ صفیں بنا کر نماز جنازہ میں براہ راست شریک ہیں جبکہ میاں منظور احمد خان وٹو لوگوں کے درمیان کھڑے ہونے کی بجائے اپنی ٹھنڈی گاڑی کے اندر بیٹھ کر نماز جنازہ ادا کررہے ہیں ، تبصرے ہو رہے ہیں کہ ہماری ایلیٹ سیاسی کلاس لوگوں کے ساتھ کھڑا ہونا بھی پسند نہیں کرتی، کچھ تبصرے یہ ہیں کہ عام لوگ تو یہ گرمی برداشت کر لیتے ہیں مگر ہماری نازک ایلیٹ گرمی برداشت نہیں کر سکتی اور اب تو جنازے بھی لینڈ کروزر کے اندر پڑھے جارہے ہیں۔ سوشل میڈیا کے محاذ پر ایک خاص مہارت رکھنی والی سیاسی جماعت نے بھی اس ویڈیو کو اپنے پیج پر شیئر کیا ہے اور دھڑا دھڑ یہ ویڈیو شیئر ہورہی ہے جویقینا شدید گرمی اور مہنگی ترین بجلی کے ستائے ہوئے لوگوں کے غم و غصے کا نشانہ بن رہی ہے، اس ویڈیو کے ذریعے اشتعال کی سی کیفیت پیدا ہورہی ہے ۔

سوشل میڈیا کے جہاں بہت سارے فوائد ہیں وہاں اس کے تباہ کن نتائج بھی ہیں ، سوشل میڈیا کی آمد نے ہر شخص کو صحافی کے مقام پر بٹھا دیا ہے، ہر شخص کے ہاتھ میں موبائل ہے، اُس کاایک فیس بک ہے، اُس کا ٹویٹر اکائونٹ ہے، اُس کاانسٹا گرام کا اکائونٹ ہے، وہ جو چاہے ان سوشل ٹولز پرمواد اپ لوڈ کر سکتا ہے، قطع نظر اس کے کہ وہ مواد کس حد تک سچا اور غلط فہمی سے پاک ہے، میں اتفاق سے 3روز قبل میاں منظور احمد خان وٹو سے اُن کی رہائش گاہ پر محترم نوراللہ صدیقی نائب ناظم اعلیٰ میڈیا افیئرز منہاج القرآن کے ہمراہ ملا،میاں منظور احمد خان وٹو صاحب کی عمر 80سال کے لگ بھگ ہے اور وہ گزشتہ ایک سال سے زیر علاج ہیں، وہ ٹھیک طرح سے نہیں چل سکتے اور سہارے کےبغیر زیادہ دیر کھڑے نہیں ہو سکتے، پیرانہ سالی کے باعث شدید ضعف کا بھی شکار ہیں، اللہ رب العزت اُن کو مکمل صحت دے۔

اسے بھی پڑھیں: اختلاف رائے کا مطلب سیکھنا ہے لڑنا نہیں

گزشتہ روز حویلی لکھا اروڑہ جاگیر میںمیاں منظور احمد خان وٹو کے ایک دیرینہ دوست محمد نواز وٹو کا انتقال ہو گیا، دوستی اور تعلق نے علالت کے باوجود میاں منظوراحمدوٹو کو نماز جنازہ میں شرکت اور آخری سانس تک دوستی کا حق ادا کرنے کی تحریک دی اور وہ اپنی صحت کی پروا کئے بغیر نماز جنازہ میں شریک ہوئے ۔جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ میاں منظور احمد وٹو شدیدعلیل ہیں، وہ سہارے کے بغیر کھڑے نہیں ہو سکتے اور پھر یہ شدیدگرمی اُن کے علاج کے پراسیس کو ڈسٹرب کر سکتی تھی کیونکہ وہ خون اور آکسیجن کی کمی کے کسی عارضہ میں مبتلا ہیں اور یہ شدید گرمی اور حبس کا موسم یقینا ان کے مرض کو بڑھا دیتا تو انہوں نے طبی نکتہ نظر سے گاڑی کے اندر ہی بیٹھ کر نماز جنازہ ادا کر لی، ہم جس دین کے پیروکار ہیں وہ آسانیاں بانٹنے والا دین ہے، اس حوالے سے قرآن مجید کی آیات اور احادیث مبارکہ موجود ہیں، شریعت کا حکم ہے کہ آپ کسی تکلیف کی وجہ سے کھڑے ہو کر نماز نہیں پڑھ سکتے تو بیٹھ کر پڑھ لیں اگر بیٹھ کر نہیں پڑھ سکتے تو لیٹ کر پڑھ لیں اور لیٹ کر بھی نہیں پڑھ سکتے تو اشاروں میں پڑھ لیں۔ حج فرض ہے اگر آپ کے وسائل نہیں ہیں تو آپ کی کوئی گرفت نہیں ہو گی۔ قربانی فرض ہے مگر آپ کے پاس وسائل نہیں ہیں تو آپ کی گرفت نہیں ہو گی۔ اسی طرح اللہ رب العزت نے مسافر کو فرائض نمازوں میں بھی تخفیف کی ہے کہ اگر آپ حالت سفر میں صرف دو فرض بھی ادا کر لیں گے تو آپ کا فرض ادا ہو جائے گا، شرعی اعتبار سے گاڑی میں نماز جنازہ ادا کرنے میں کوئی عار نہیں ہے، بے شمار لوگ وہیل چیئر پر بھی نماز پنجگانہ اور دیگر نوافل ادا کرتے ہیں۔

اب ایک اور اہم مسئلہ کی طرف آتے ہیں کہ کیا ہمیں بطور انسان، بطور مسلمان تحقیق کے بغیر کوئی بات وائرل کرنی چاہیے یا کسی شریف آدمی کی کردار کشی مہم یااس کے محاسبہ کا ماحول پیدا کرنا چاہیے؟۔ یقینا نماز جنازہ میں شریک کسی شخص نے یہ ویڈیو بنائی اور پھر وائرل کر دی، اُس شخص نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، یقینا وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہو گا کہ میاں منظور احمد خان وٹو عمر رسیدہ اور علیل ہیں تو محض چسکے کے لئے اُسے اس قسم کی حرکت نہیں کرنی چاہیے تھی اور بالفرض اگر اُس شخص نے یہ حرکت کر بھی دی تھی تو کم از کم ذمہ دار اکائونٹ سے یہ ویڈیو شیئر نہیں ہونی چاہیے تھی، میاں منظور احمد خان وٹو ایک کہنہ مشق سیاستدان ہیں، ان کی ساری زندگی خدمت خلق کرتے ہوئے گزری ہے، آج بھی میاں منظور احمد خان وٹو سمیت اُن کے جملہ صاحبزادگان یہاں تک کہ ان کی صاحبزادیاں بھی خدمت خلق کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں، محترمہ روبینہ شاہین وٹو مستحقین کی شادیاں کرواتی ہیں اور پچھلی ایک دہائی سے وہ اس کارخیر میں پیش پیش ہیں، بڑی تعداد میں ذہین مگر غریب طلباء کی تعلیم کے لئے وسائل بھی مہیا کرتی ہیں، اُن کے صاحبزادگان کے دروازے ضرورت مندوں کے لئے ہمہ وقت کھلے رہتے ہیں، پاکستان کے مخصوص ماحول میں یہ ایک بہت بڑی سماجی خدمت ہے کہ کسی مجبور کو پریشانی کی حالت میں کوئی ایسا کھلا دروازہ میسر ہو جہاں وہ اپنے دل کی بات کر سکے ،بلاشبہ ہمارے سیاستدانوں کے دروازے کام ہو یا نہ ہو مجبور لوگوں کے لئے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں اور اس کی ستائش ہونی چاہیے۔

میاں منظور احمد خان وٹو تین سے چار بار سپیکر پنجاب اسمبلی رہے ، دو بار وزیراعلیٰ رہے، وفاقی وزیر رہے مگر ان پر کرپشن کا کوئی داغ نہیں ہے، ہمارے ایک سابق فوجی گورنر نے ایسے داغ لگانے کی کوشش کی تھی مگر اللہ نے اُنہیں سرخرو کیا۔ صرف میاں منظور احمد خان وٹو ہی نہیں ہماری سیاست میں اور بھی بہت سارے نیک نام ہیں جنہوںنے اپنی عزت کے لئے سیاست کی اور اپنے دامن پر کوئی داغ نہیں لگنے دیا، پاکستان کی ہر جماعت میں ایسے نیک نام لوگ موجود ہیں۔ انہی کی نیک نامی کی وجہ سے ہی پاکستان میں سیاست اور جمہوریت کا تھوڑا بہت نام اور کام بچا ہوا ہے۔

قرآن مجید میں سورۃ الحجرات میں سوشل میڈیا کا ایک شاندار کوڈ آف کنڈکٹ دیا گیا ہے کہ بغیر تحقیق کے کبھی کوئی الزام نہ لگائو یہاں تک کہ اگر کوئی الزام یا کوئی بات آپ تک پہنچے تو تحقیق کئے بغیر دوسروں کے ساتھ اُسے شیئر مت کرو، کسی پر تہمت مت لگائو، کسی کا نام مت بگاڑو اگر کسی کو اللہ نے عزت سے نوازا ہے تو اُس سے حسد مت کرو اور ان تمام افعال کو گناہ اور برائیوں سے تعبیر کیاگیا ہے۔ اس حوالے سے پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے ’’ سوشل میڈیا اور ہماری زندگی‘‘ کے عنوان سے ایک نہایت خوبصورت کتاب تحریر کی ہے اگر یہ کہا جائے کہ سوشل میڈیا کی اخلاقیات پر یہ ایک پہلی اور جامع کتاب ہے بے جا نہ ہو گا۔ علمائے کرام، اساتذہ اور کاروباری و سماجی تنظیموں میں کام کرنے والے ذمہ داران بالخصوص تمام سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس ،اینکر پرسنز اور مختلف پروگراموں میں بطور مہمان شرکت کرنے والے تجزیہ نگاروں کو اس کتاب کا ضرور مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ انہیں علم ہو سکے کہ بغیر تحقیق کے الزام تراشی کرنا اللہ کے نزدیک کس قدر بڑا گناہ اور عذاب جہنم سے دو چار کر دینے والا عمل ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین