لاہور (محمد کاشف جان) منہاج یوتھ لیگ کے مرکزی صدر رانا وحید شہزاد نے کہا ہے کہ پاکستان میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد میں ہوشربا اضافہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔ 80 لاکھ سے زائد نوجوان منشیات کی لت میں مبتلا ہو چکے ہیں جو قوم کے مستقبل کے لیے ایک خوفناک الارم ہے۔ انہوں نے کہا کہ منشیات صرف انفرادی صحت اور کردار کو تباہ نہیں کرتیں بلکہ یہ قومی سلامتی کے لیے بھی شدید خطرہ ہیںرانا وحید شہزاد نے کہا کہ منشیات نوجوانوں کی ذہنی، جسمانی اور اخلاقی تباہی کا باعث بن رہی ہیں، جس کے اثرات مستقبل میں پوری قوم کو بھگتنا ہوں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر منشیات کے خلاف سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں ایک نسل مکمل طور پر تباہ ہو جائے گی منہاج یوتھ لیگ کے صدر نے آئندہ ہفتہ کو "ہفتہ انسداد منشیات” کے طور پر منانے کا اعلان کیا ہے۔
اس سلسلے میں ملک گیر مہم چلائی جائے گی جس میں تعلیمی اداروں میں لیکچرز، آگاہی سیمینارز، انسدادی واکس اور سوشل میڈیا کیمپینز شامل ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں میں بیداری اور شعور اجاگر کیے بغیر منشیات جیسے مہلک ناسور سے نجات ممکن نہیںانہوں نے کہا کہ بین الاقوامی رپورٹس اور ملکی تحقیقاتی ادارے بار بار خبردار کر رہے ہیں کہ پاکستان میں لاکھوں نوجوان منشیات کے عادی بن چکے ہیں۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ اب نشہ آور اشیاء تعلیمی اداروں، تفریحی مقامات، اور یہاں تک کہ گھروں کے اندر تک پہنچ چکی ہیں۔ یہ رجحان نہایت خطرناک اور افسوسناک ہےانہوں نے کہا کہ اس بگاڑ کی بڑی وجوہات میں بے روزگاری، ذہنی دباؤ، خاندانی ٹوٹ پھوٹ، اخلاقی تربیت کی کمی، اور نشہ آور اشیاء کی آسان دستیابی شامل ہیں۔ نوجوان الجھن، بے مقصدی اور محرومی کا شکار ہو کر منشیات کا رخ کرتے ہیں، جس کا فائدہ منشیات فروش مافیا اٹھا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی ضروری ہےرانا وحید شہزاد نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ منشیات کے خلاف قومی سطح پر ایمرجنسی نافذ کی جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ انسداد منشیات کے قوانین پر سختی سے عمل کیا جائے اور تمام متعلقہ اداروں کو متحرک کیا جائے۔
اسے بھی پڑھیں: طلبہ پیزا کیساتھ منشیات بھی منگوالیتے ہیں، عدالت کا تعلیمی اداروں میں براہ راست اشیاء کی ڈیلیوری روکنے کا حکم
انہوں نے کہا کہ مؤثر قانونی کارروائی، بارڈر کنٹرول کی نگرانی، تعلیمی اداروں میں آگاہی، بحالی مراکز کا قیام، خاندانی نظام کی بحالی اور یوتھ تنظیموں کی فعال شرکت سے ہی یہ جنگ جیتی جا سکتی ہےانہوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے حالیہ فیصلے کو بھی سراہا جس میں عدالت نے منشیات کی تعلیمی اداروں میں رسائی روکنے کے لیے براہ راست اشیاء کی ڈیلیوری پر پابندی لگانے کا حکم دیا۔ رانا وحید شہزاد نے کہا کہ عدالت کے مشاہدے کے مطابق طلبہ پیزا اور دیگر اشیاء کے ساتھ منشیات بھی منگوا لیتے ہیں، جو کہ ایک سنگین خطرہ ہے۔
کورئیر اور ڈلیوری سروسز کے ذریعے منشیات کی فراہمی اب ایک عملی حقیقت ہے، جسے روکنے کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیںانہوں نے زور دیا کہ جو اسکول یا کالج اس عدالتی حکم پر عمل نہیں کرتا، اس کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے تاکہ یہ رجحان جڑ سے ختم ہو۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ ساتھ والدین، اساتذہ، علمائے کرام اور سماجی کارکنوں کو بھی اپنے کردار کا بھرپور ادراک کرنا ہوگاآخر میں انہوں نے اعلان کیا کہ منہاج یوتھ لیگ انسداد منشیات مہم کو صرف ایک ہفتہ نہیں بلکہ ایک جاری تحریک کے طور پر لے گی، تاکہ نوجوانوں کو ایک صحت مند، باکردار اور بااعتماد زندگی کی طرف راغب کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم آج متحد ہو کر منشیات کے خلاف کھڑے نہ ہوئے، تو کل ایک نسل ہمیں معاف نہیں کرے گی۔





















