شیر افضل مروت کے علیمہ خان سے متعلق اہم ترین انکشافات

علیمہ خان سوشل میڈیا کی بوس ہیں مجھے گالیاں دلوارہے ہیں، اب خاموش نہیں رہوں گا

اسلام آباد (محمد کاشف جان)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے ایک تہلکہ خیز انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں پارٹی سے نکالنے کا فیصلہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان نے خود کیا۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ نہ تو پارٹی مشاورت کے نتیجے میں ہوا اور نہ ہی کسی باقاعدہ نوٹس پر مبنی تھا۔ شیر افضل مروت کا کہنا ہے کہ ان کی رکنیت کیخلاف علیمہ خان نے اپنا اختیار استعمال کرتے ہوئے انہیں پارٹی سے خارج کر دیا، جس سے کارکنان میں شدید مایوسی پھیل گئی

الزامات کی تفصیل

شیر افضل مروت نے علیمہ خان پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا علیمہ خانم سوشل میڈیا کی باس ہیں، مجھے گالیاں دلوا رہی ہیں… مجھے پارٹی سے نکالا گیا … ان لوگوں نے گالی تک بات پہنچائی… اب میں خاموش نہیں رہوں گا ۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی تشہیری اور نظم و ضبط کے حوالے سے نظام درہم برہم ہو چکا ہے اور علیمہ خان کی مداخلت نے ان کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائی گئی۔

پس منظر اور اسباب

شیر افضل مروت نے اپنی پارٹی سے نکالے جانے کا پس منظر کچھ یوں بیان کیاانہوں نے کہا کہ علیمہ خان نے عمران خان سے کئی بار ملاقاتوں میں اپنی سیاسی نظرئیے کے تحت پارٹی کے اہم فیصلوں کو متاثر کیا ان کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے پارٹی میں اپنی آواز اٹھانے کی کوشش کی، مگر علیمہ خان سمیت دیگر سینئر رہنماؤں کی وجہ سے ان کے نظریات پر عمل نہیں ہونے دیا گیا

اسے بھی پڑھیں: قازقستان میں عوامی مقامات پر حجاب پر پابندی، صدر نے بل پر دستخط کر دئیے

پارٹی میں اندرونی تقسیم اور ردعمل

پارٹی اندر فرقہ وارانہ تقسیم اور فیصلہ سازی کے عمل پر تنقید کی جا رہی ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کی نظر میں اس واقعے سے پارٹی میں جبری فیصلوں اور ناقدین کے خلاف سخت رویّوں کا پتہ چلتا ہے علیمہ خان جیسے کلیدی کردار کی پارٹی کے اندر غیر رسمی قوت یہ بتاتی ہے کہ باضابطہ فیصلوں سے زیادہ بااثر حلقوں کا عمل دخل بڑھ رہا ہے۔

پارٹی رہنماؤں کا بیان

ذرائع کے مطابق ابھی تک علیمہ خان نے اپنی جانب سے کوئی باقاعدہ وضاحتی بیان جاری نہیں کیا بعض پارٹی ذرائع نے دفاع میں کہا کہ پارٹی آئین کے مطابق ہی کسی فیصلے پر عمل ہوتا ہے، اگر کسی کو نکالا گیا ہے تو اس کے لیے جواز موجود ہوگا، مگر باضابطہ نوٹس یا وضاحت موجود نہیں ۔

سوشل میڈیا کا ردعمل

ٹوئٹر، فیس بک اور انسٹاگرام پر شیر افضل مروت کے بیانات اور علیمہ خان کے کردار پر شدید بحث محور بنی ہوئی ہے۔ ملا جلا ردعمل درج ذیل ہے کچھ پی ٹی آئی کارکنان نے پارٹی کی اندرونی شفافیت اور اصولی فیصلہ سازی کا مطالبہ کیا بعض کا موقف ہے کہ یہ شیرافضل مروت کی ذاتی ناراضگی ہے، اور پوری جماعت کا معاملہ نہیں۔

شیر افضل مروت کا آئندہ لائحہ عمل

رکن اسمبلی شیر افضل مروت نے واضح کیا ہے کہ وہ خاموش نہیں رہیں گے، اور اپنی آئینی و پارٹی حقوق کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے آئندہ کوئی حکمت عملی اپنانے سے پہلے پارٹی قیادت سے رابطہ کریں گے اور شفاف ڈائیلاگ کا راستہ اپنائیں گے۔

سیاسی تجزیہ اور آئندہ ممکنہ نتائج

سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پارٹی اندرونی اختلافات کو شفاف انداز میں حل نہ کرے تو ناراض رہنما مستقبل قریب میں پارٹی سے بغاوت یا علیحدگی اختیار کر سکتے ہیں۔علیمہ خان جیسے مرکزی کردار کی یہ نوعیت کی مخالفت پارٹی کے اتحاد پر سوالات کھڑے کرتی ہے۔آئندہ وقتوں میں بدیہی طور پر ایسا بیانیہ سامنے آسکتا ہے جس میں پارٹی کے مرکزی ڈھانچے میں تبدیلی ان کی بنیادی دلیل بن سکتی ہے۔

شیر افضل مروت کا انکشاف پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی ڈھانچے اور فیصلہ سازی کے عمل میں شدید بے ضابطگی اور مداخلت کا گواہ ہے۔ اگر پارٹی جمہوری اصولوں، شفافیت، اور کارکنوں کے حقوق کو یقینی نہیں بناتی، تو یہ حالات مزید رہنماؤں کی ناراضی میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ آئندہ سیاسی بحران و اندرونی تناؤ کا ممکنہ سبب بننے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین