کبھی کبھی ایک لفظ، ایک جملہ، یا ایک جھوٹا الزام کسی کا سب کچھ چھین لیتا ہے۔ بیانیہ بظاہر ایک خیال ہوتا ہے، مگر جب اسے زبان مل جائے جب اسے سماجی حمایت حاصل ہو جائے تو وہ ایک ایسا طوفان بن جاتا ہے جو صرف دیواریں نہیں گراتا انسان توڑ دیتا ہے۔ ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں سچ بولنا جرأت اور سچ سننا قربانی بن چکی ہے۔ روایتیں، اقدار، عزت، شرافت یہ سب وہ روشن چراغ ہیں جو نسلوں سے ہمارے معاشرے کو مہذب رکھتے آئے تھے، لیکن آج جھوٹے بیانیے کی یلغار نے ان چراغوں کو بجھانے کی ٹھان لی ہے۔
ذرا سوچیے ایک باپ جس نے عمر بھر اپنی بیٹی کے لیے حلال کمایا، صرف ایک جھوٹے الزام کی وجہ سے مجرم بنا دیا جاتا ہے۔ ایک بیٹی جو سچائی اور عصمت کی علامت ہو، اس پر محض افواہوں کی بنیاد پر شک کیا جاتا ہے۔ ایک نوجوان جس کی آنکھوں میں خواب ہوں، اسے "باغی”، "ملحد” یا "ایجنٹ” قرار دے کر دیوار سے لگا دیا جاتا ہے۔ یہ سب کیا ہے؟ یہ بیانیے کی جنگ ہے جہاں سچائی کی آواز دبانے کے لیے جھوٹ کو منظم انداز میں پھیلایا جاتا ہے۔
افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس جنگ میں صرف دشمن نہیں لڑتےاکثر اپنوں کے تیر ہی سب سے کاری ثابت ہوتے ہیں۔ کبھی رشتہ دار، کبھی دوست، کبھی ہمسائے اور کبھی سوشل میڈیا کے انجان چہرے، ایک شخصیت کی پوری زندگی کو لمحوں میں راکھ کر دیتے ہیں اور پھر جب سچ سامنے آتا ہے، تو یا وہ انسان مر چکا ہوتا ہے یا اندر سے اتنا ٹوٹ چکا ہوتا ہے کہ جینے کی خواہش ہی باقی نہیں رہتی۔ ایسا کرنا صرف ظلم نہیں بلکہ بدترین معاشرتی جرم ہے ایک ایسا جرم جو نہ صرف انصاف کو قتل کرتا ہے بلکہ آئندہ نسلوں کو بھی بے یقینی، خوف اور خاموشی کا غلام بنا دیتا ہے۔
ہماری اقدار اور روایات وہ بنیادیں ہیں جن پر ہماری عزتیں، ہمارا خاندانی نظام اور ہمارے معاشرتی اصول قائم ہیں۔ جب ان بنیادوں کو جھوٹے بیانیے کی چالاکی سے کھوکھلا کیا جاتا ہے تو صرف فرد نہیں، پوری نسلیں برباد ہوتی ہیں۔ یہ عمل خاموشی سے ہماری روح کو چاٹتا ہے اور ہمیں اس مقام پر لا کھڑا کرتا ہے جہاں ہم نہ خود پر یقین رکھتے ہیں، نہ دوسروں پر۔
لیکن کیا ہم بے بس ہیں؟ نہیں۔ ہمیں اپنی زبان کو تلوار بننے سے بچانا ہے اور اپنے قلم کو انصاف کا چراغ بنانا ہے۔ ہمیں اپنے اندر یہ حوصلہ پیدا کرنا ہو گا کہ ہم سچ کے ساتھ کھڑے ہوں، چاہے دنیا مخالفت کرے۔ ہمیں وہ معاشرتی کردار بننا ہے جو سچائی کا پرچار کرے، نہ کہ افواہوں کا سوداگر۔
اسلام نے ہمیں سکھایا کہ بغیر تحقیق کے کوئی بات نہ پھیلاؤ۔ قرآن کہتا ہے: "اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی سے نقصان پہنچا دو اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو جاؤ۔” یہی اصول اگر ہم اپنی زندگی، سوشل میڈیا، خاندان اور معاشرت میں اپنا لیں تو بیانیے کی یہ جنگ اپنے انجام کو پہنچ سکتی ہے۔
ہمیں اپنے رویوں میں انصاف، الفاظ میں احتیاط، اور خیالات میں شفافیت لانی ہو گی۔ ہمیں یاد رکھنا ہو گا کہ زبان کی بے لگامی، قلم کی بدنیتی، اور سوشل میڈیا کی غیر ذمہ داری کئی زندگیوں کو برباد کر سکتی ہے۔ سچائی وہ چراغ ہے جو اندھیروں میں جلتا ہے، اور بیانیہ وہ دھواں جو روشنی کو دھندلا دیتا ہے۔ اگر ہم نے سچائی کے چراغ کو بچانا ہے تو ہمیں اس دھوئیں کے خلاف کھڑا ہونا ہو گا، چاہے وہ دھواں کتنا ہی دلکش اور منظم کیوں نہ لگے۔ ورنہ کل کو ہماری اپنی داستان بھی ایک جھوٹے بیانیے کا شکار ہو سکتی ہے اور تب ہمارے پاس سوائے افسوس کے کچھ نہ بچے گا۔
جھوٹا بیانیہ وقتی شور مچا سکتا ہے، مگر سچ خاموشی سے دل جیت لیتا ہے۔ سچ شاید دیر سے سامنے آئے، لیکن جب آتا ہے تو اندھیرے خودبخود چھٹ جاتے ہیں۔ اور یہی امید، یہی عزم، اور یہی سچ ہماری نجات ہے بطور فرد، بطور خاندان، اور بطور قوم۔





















