
کربلا اسلامی تاریخ کا ایک دل دہلا دینے والا سانحہ ہے جو 10 محرم الحرام 61 ہجری (680ء) کو پیش آیا۔ اس سانحہ میں نواسہ رسول امام حسین ؑ نے اپنے خاندان اور وفادار ساتھیوں کے ہمراہ حق و صداقت کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے ۔ یہ واقعہ نہ صرف ایک تاریخی سانحہ ہے بلکہ اس کے اندر انسانیت کے لیے عظیم اخلاقی پیغامات اور سبق موجود ہیں جو ہر دور میں رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔
(1)حق کے لئے ڈٹ جانا
حق و صداقت کے لیے ڈٹ کر مقابلہ کرناواقعہ کربلا کا سب سے بڑا پیغام ہے۔ جب انسان اپنے بہترین تجزیے اور اخلاص کے ساتھ یہ جان لیتا ہے کہ ظالم کس طرف ہے اور مظلوم کس طرف ہے، جھوٹ کس طرف ہے اور سچائی کس طرف ہے، اس کا علم ہو جانے کے بعد پھر مظلوم اور سچائی کے ساتھ کھڑا ہونا واجب ہو جاتا ہے ۔ قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے فرمایا سچی گواہی کو نہ چھپایا کرو چاہے اس سے آپ کی ذات یا آپ کے رشتہ داروں کو نقصان پہنچنے کا احتمال کیوں نہ ہو، یہ قرآن کا حکم ہے۔جب حق اور باطل مقابل ہوں تو خاموشی اختیار کرنے کا مطلب باطل کی ہم نوائی ہے، امام عالی مقام ؑ نے جب اپنے بہترین ذرائع کے ساتھ یہ جان لیا کہ یزیدی رجیم اخلاقی اور دینی قدروں کو ملیا میٹ کررہی ہے تو آپؑ اپنا اور تجدیدی کردار ادا کرنے کے لئے بجانب کوفہ روانہ ہوئے۔ بہت سارے لوگ کسی بڑے نقصان کے پیش نظر آپؑ کو اس سفر سے روک بھی رہے تھے مگر آپؑ نے اعلائے کلمہ حق کے قرآنی فریضہ کو انجام دینے کے لئے جان، مال کی پروا کئے بغیر کوفہ روانہ ہوئے۔ کوفیوں کا مطالبہ تھا کہ یزیدکے ہاتھ پر بیعت کر لو تو جان، مال کی حفاظت کی گارنٹی مل جائے گی مگر آپؑ نے اپنی جان پر حق کو ترجیح دی اور قیامت تک کے انسانوں کو یہ پیغام دیا اگر حق اور جھوٹ مقابل ہوں تو جان کی پروا کئے بغیر حق کا ساتھ دو۔
اسے بھی پڑھیں: یزید سانحہ کربلا میں براہ راست ملوث تھا
(2) صبر و استقامت
میدان کربلا میں معرکہ حق و باطل کے موقع پر حضرت امام حسین ؑ اور آپ کے وفادار ساتھیوں نے یزیدی افواج کے ظلم و بربریت کے سامنے ناقابل یقین صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا۔ حالانکہ پانی بند کیا گیا، بھوک و پیاس مسلط کی گئی،کم ظرف اور گھٹیا سوچ کے دشمنوں نے مذاق بھی اڑایا، عبرتناک انجام کا خوف بھی دلایا مگر قافلہ حق کے سالار امام عالی مقام جانتے تھے اُن کا مقصد اور مشن عظیم ہے، اس لئے انہوں نے کم ظرف یزیدی سالاروں کے ہر ظلم کا جوانمردی کے ساتھ سامنا کیا اور کسی بھی مرحلہ پر آپ کے پایہ استقلال میں جنبش نہ آئی، امام عالی مقام ؑ کے اس صبر و استقامت سے انسانیت کو یہ پیغام ملتا ہے کہ جب کوئی مشکل کی گھڑی آئے انسانی اعصاب اور اعضا جواب دے جائیں تو پھر بھی اللہ پر بھروسہ رکھو اور اللہ سے ہی مدد مانگو کیونکہ قرآن مجید کا یہ پیغام اور اعلان ہے کہ صبر اور نماز سے مدد طلب کرو ، امام عالی مقام نے معرکہ کربلا میں صبر کی بھی ایک نئی تاریخ مرتب کی اور نماز پنجگانہ کی بھی حفاظت کی۔
(3)ایثار و قربانی
قربانی اور واقعہ کربلا آپس میں جڑے ہوئے ہیں، ایثار و قربانی کی ایک ایسی تاریخ مرتب ہوئی کہ جس کی دوسری مثال آج تک سامنے نہیںآسکی، حضرت امام حسین ؓ نے اپنے خاندان، بچوں، اور جانثار ساتھیوں سمیت سب کچھ اللہ کی راہ میں قربان کر دیا۔ ان کی قربانی ہمیں سکھاتی ہے کہ جب بات حق و صداقت کی ہو ، اخلاق و کردار کی ہو ، دین متین اور اصولوں کی ہو تو پھر باطل کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کرتے چاہے اُس کے لئے جان اور مال قربان کیوں نہ کرنے پڑ جائیں، پیغمبران خدا نے اپنے اپنے ادوار میں لاتعداد مصائب و آلام کا سامنا کیا مگر وہ صبر و شکر اور ایثار و قربانی کا پیکر بن کر ڈٹے رہے، امام حسین ؑ نے پیغمبران خدا کی سنت کی پیروی کی اور ایثار و قربانی کی درخشاں مثال قائم کی۔ قربانی کا جذبہ ذاتی خواہشات سے بالاتر ہو کر اعلیٰ مقاصد کے لیے جینے کی تحریک دیتا ہے۔
(4)اعلائے کلمہ حق
واقعہ کربلا ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کا درس دیتا ہے، امام حسین ؑ نے دنیا کے اقتدار یہ مال و متاع کیلئے کوفہ کا سفر اختیار نہیں فرمایا تھا بلکہ اعلائے کلمہ حق کے لئے انہوں نے رضا کارانہ اپنا دینی فریضہ انجام دیا اور یہ پیغام دیا کہ ظلم و جبر کے سامنے خاموشی اختیار کرنا گناہ ہے۔ انہوں نے فرمایا’’ظالم کے ساتھ تعاون نہ کرو اور مظلوم کی مدد کرو‘‘۔ یہ پیغام ہر دور کے انسانوں کے لیے ہے کہ وہ ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں اور مظلوموں کا ساتھ دیں، چاہے اس کے لیے کتنی ہی مشکلات کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑے۔
اسے بھی پڑھیں: محرم الحرام : علما پر پابندیاں کیوں لگتی ہیں؟
(5)خاندانوں رشتوں کے ساتھ وفا
سانحہ کربلا میں امام عالی مقام کے ہمراہ کوفہ آنے والے عزیز و اقارب نے آخری وقت تک امام عالی مقام کے ساتھ وفا کی حالانکہ امام حسین ؑ نے چراغ گل کر دئیے تھے کہ جو لوٹنا چاہیں اُنہیں اجازت ہے مگر وفا سرشت اہل بیت اطہار کے نفوس نے ہر حال میں ساتھ نبھانے کا فیصلہ کیا اور پھر جان و مال کے نذرانے پیش کر کے ، اسیری قبول کر کے وفا داری کا عملی ثبوت پیش کیا ۔واقعہ کربلا کا یہ پیغام ہے کہ جب خاندان کے کسی فرد پر کوئی افتاد آن پڑے تو رشتہ داروں کا یہ فرض ہے کہ وہ اغراض سے بالاتر ہو کر ساتھ نبھائیں، مشکل میں اپنے کسی پیارے کو مت چھوڑیں، مشکل میں ساتھ نبھانا اللہ کے محبوب بندوں کی سرشت ہے۔ حضرت عباس ؓ، حضرت علی اکبر ؓ، حضرت قاسم ؓ اور دیگر نفوس قدسیہ نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے وفاداری اور خاندانی رشتوں کی اہمیت کو اجاگر کیا جس سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ خاندان کے افراد اور دوستوں کے ساتھ وفا اور یکجہتی کو ہر حال میں برقرار رہنا چاہیے۔
(6)عدل و انصاف
واقعہ کربلا سے عدل و انصاف کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے، ا مام حسین ؓ کی جدوجہد کا ایک بڑا مقصد عدل و انصاف کا قیام تھا یعنی آپ ؑ چاہتے تھے کہ اقتدار شخصی نہیں قرآن و سُنت کے احکامات کے تابع چلے، کسی کی آواز کو طاقت کے زور پر دبایا نہ جائے، دینی قدروں کو بزور شمشیر مٹایا نہ جائے ۔ قومی وسائل فرد واحد کی دسترس تک محدود نہ ہو جائیں، انصاف اشرافیہ کی لونڈی بن کر نہ رہ جائے اور جمہور کی خواہش کے برعکس حاکم مسلط نہ ہوں۔ اقربا پروری اور ملوکیت اسلام کے خلافتی نظام پر حاوی نہ ہو۔ تاریخ سے یہ ثابت شدہ ہے کہ یزید کی حکومت نے معاشرے میں بدعنوانی اور ناانصافی کو فروغ دیا تھا، جس کے خلاف امام حسین ؑ نے آواز اٹھائی۔
(7)اللہ پر کامل بھروسہ
حضرت امام حسین ؑ کو میدان کربلا میں اللہ کے سوا کسی اور کی مدد حاصل نہیں تھی، ہر طرف یزیدی سپاہ کے نیزے اور تلواریں تھیں، ظلم و بربریت کی صدائیں تھیں مگر حضرت امام حسین ؑ اور آپ کے ساتھیوں کا اللہ پر کامل بھروسہ تھا، وہی اللہ جو آتش نمرود، فرعون کے آنگن ،مچھلی کے پیٹ اور بدر کے میدان میں اپنے نیک بندوں کی مدد اور حفاظت کرتا ہے۔ امام عالیٰ مقامؑ کا صبر، استقامت اور اعلائے کلمہ حق در حقیقت اللہ پر کامل بھروسے کا مرہون منت تھا۔ اس سے ہمیں یہ پیغام ملتا ہے کہ جب کوئی مشکل آن پڑے ، نمٹنے کے وسائل دستیاب نہ ہوں تو پھر صبر اور نماز کے ذریعے اللہ کی مدد طلب کریں اور اللہ کوہی حقیقی کارساز جانیں۔
(8)انسانیت کا احترام
واقعہ کربلا کا سب سے خوبصورت پیغام انسانیت کی خدمت اور احترام ہے۔ تاریخ کربلا میں یہ واقعہ ملتا ہے کہ جب یزیدی فوج کا ایک سپاہی مجاہدین حق کے حصار میں آگیا خوف اور دہشت سے اس کے ہونٹ اور گلا خشک ہو گئے ، اس خوفزدہ یزیدی سپاہی نے پانی مانگا تو حضرت عباس ؓ نے اسے پانی پلایا۔ یہ عمل انسانیت کے احترام کی ایک عظیم مثال ہے۔ کسی کو پانی پلانا حسینی عمل ہے اور کسی کا پانی بند کرنا یزیدی عمل ہے کیونکہ جب اہل بیت اطہار کے پاس خوراک اور پانی کے ذخائر ختم ہو گئے اور انہوں نے معصوم بچوں کے لئے پانی حاصل کرنے کی کوشش کی تو یزیدیوں نے نیزوں اور بھالوں سے مشکیزوں کو پھاڑا اور بازئوں کو قلم کر دیا، حضور نبی اکرم ؐ جب فاتح کی حیثیت سے شہر مکہ میں داخل ہوئے تو آپؐ کا پہلا حکم یہ تھا کہ بچوں، عورتوں اور بوڑھوں پر تلوار نہ اٹھائی جائے، جو نہ لڑنا چاہے اس پر تلوار نہ اٹھائیں اور یہاں تک کہ دشمنان اسلام کے گھروں میں پناہ لینے والوں کو بھی امان دی، فتح مکہ کی اس عظیم سنت کو واقعہ کربلا کے دوران حسین ؑ اور آپ کے وفادار جانثار ساتھیوں نے زندہ رکھا۔





















