سعودی عرب کا تاریخی تعلیمی فیصلہ، عام نصاب میں مصنوعی ذہانت شامل کرنے کی منظوری

مصنوعی ذہانت کے نصاب کی شمولیت سے طلبہ کی ڈیجیٹل لیٹریسی بڑھے گی، مستقبل کی نوکریوں کے لیے ہنر مند افرادی قوت تیار ہو گی

ریاض : سعودی عرب نے اپنے تعلیمی نظام میں ایک انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ 2025-2026 سے شروع ہونے والے تعلیمی سال سے عام تعلیم (پرائمری سے سیکنڈری) کے نصاب میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کو باقاعدہ طور پر شامل کر لیا جائے گا۔ اس فیصلے کو ماہرین نے اسٹریٹجک، دور اندیش اور جدید دور کی ضرورت قرار دیا ہے، جو مملکت کے طویل مدتی وژن اور ڈیجیٹل دنیا میں عالمی سطح پر مسابقت حاصل کرنے کی کوششوں کا واضح اظہار ہے۔

وژن 2030 اور تعلیمی میدان میں نئی سمت

یہ فیصلہ سعودی عرب کے وژن 2030 کے تحت کیے جانے والے ان اقدامات کا حصہ ہے جو علمی معیشت، ٹیکنالوجی، اور ڈیجیٹل خود کفالت کے فروغ پر مرکوز ہیں۔ سعودی وزارت تعلیم نے واضح کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا نصاب ایک جامع، مربوط اور مرحلہ وار نظام کے تحت نافذ کیا جائے گا، جس میں طلبہ کی عمر اور ذہنی سطح کے مطابق مواد شامل کیا گیا ہے۔

پرائمری سے سیکنڈری تک نصاب کی جھلک

اس نئے نصاب کی خاص بات یہ ہے کہ ابتدائی جماعتوں (پرائمری) میں طلبہ کو مصنوعی ذہانت کے بنیادی تصورات اور سادہ انٹرایکٹو ایپلی کیشنز سے روشناس کروایا جائے گا، تاکہ کم عمری میں ہی ٹیکنالوجی سے دوستی ہو سکے۔مڈل اور سیکنڈری لیول پر طلبہ کو ایڈوانسڈ موضوعات جیسے مشین لرننگ، ماڈل ڈیزائن، AI کی اخلاقیات اور پروگرامنگ زبانوں سے متعارف کروایا جائے گا۔یہ نصاب طلبہ کی تجزیاتی سوچ، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت اور ڈیجیٹل خود مختاری کو فروغ دینے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

ماہرین کی رائے

نجران یونیورسٹی کے گریجویٹ اسٹڈیز اینڈ سائنٹیفک ریسرچ کے وائس ڈین اور مصنوعی ذہانت کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر سعید الاحمری نے اس اقدام کو نوجوان نسل میں ایک معیاری سرمایہ کاری قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ محض تعلیمی نصاب میں تبدیلی نہیں، بلکہ نوجوان اذہان کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کا ایک جامع منصوبہ ہے۔ مصنوعی ذہانت کی تعلیم سے نہ صرف طلبہ کی تکنیکی شعور میں اضافہ ہو گا بلکہ قومی سطح پر ٹیکنالوجی کے میدان میں باصلاحیت ہنرمندوں کا ایک مضبوط نیٹ ورک بھی وجود میں آئے گا۔ڈاکٹر الاحمری نے مزید کہا کہ اس اقدام سے تعلیم صرف کلاس روم تک محدود نہیں رہے گی بلکہ یہ طلبہ کی عملی زندگی اور کیریئر کے انتخاب پر بھی گہرا اثر ڈالے گا۔

اسے بھی پڑھیں: کیا مصنوعی ذہانت انسانوں کا تختہ الٹنے کو تیار ہے؟

طویل المدتی فوائد

مصنوعی ذہانت کے نصاب کی شمولیت سے طلبہ کی ڈیجیٹل لیٹریسی بڑھے گی۔ مستقبل کی نوکریوں کے لیے ہنر مند افرادی قوت تیار ہو گی۔
سعودی عرب میں ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کو تقویت ملے گی۔ قومی سلامتی، صحت، زراعت، اور فنانس جیسے اہم شعبوں میں جدید حل پیدا کرنے والے نوجوان ذہن تیار ہوں گے۔

تجزیہ

سعودی عرب کا یہ فیصلہ روایتی تعلیم سے ہٹ کر جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیم کی طرف ایک واضح قدم ہے۔ آج کی دنیا میں مصنوعی ذہانت صرف ایک مضمون نہیں، بلکہ مستقبل کی زبان، معیشت اور قوت کا نام ہے۔ جو ممالک اپنی نوجوان نسل کو ابتدائی عمر سے ہی اس سمت میں تیار کرتے ہیں، وہی آنے والے وقت میں عالمی مسابقت میں سبقت حاصل کریں گے۔
یہ اقدام نہ صرف سعودی عرب کو تعلیمی میدان میں جدید اقوام کی صف میں لا کھڑا کرے گا، بلکہ علاقائی سطح پر بھی دیگر ممالک کے لیے ایک مثالی ماڈل بنے گا۔ خاص طور پر عرب دنیا میں جہاں تعلیمی اصلاحات کی اشد ضرورت ہے، یہ قدم علمی بیداری، ٹیکنالوجیکل خودمختاری اور ڈیجیٹل ترقی کی جانب ایک مضبوط آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔
اگر اس نصاب کو مؤثر طریقے سے نافذ کیا گیا، اساتذہ کو مکمل تربیت دی گئی، اور طلبہ کو عملی تجربے کے مواقع فراہم کیے گئے، تو یقیناً سعودی عرب آنے والے دہائیوں میں مصنوعی ذہانت کی عالمی دوڑ میں ایک مضبوط دعوے دار کے طور پر ابھرے گا۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین