وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں پنجاب حکومت نے صحت عامہ کے میدان میں ایک اور اہم سنگ میل عبور کرنے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔ امراضِ قلب جیسے مہلک بیماریوں سے نمٹنے کے لیے اب مریضوں کو بڑے شہروں کا رخ نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ پنجاب کے مختلف اضلاع میں ضلعی سطح پر جدید کیتھ لیبارٹریز قائم کی جارہی ہیں۔ یہ فیصلہ صحت کے شعبے میں ایک انقلابی اقدام تصور کیا جا رہا ہے، جو نہ صرف علاج کی سہولت کو مقامی سطح پر ممکن بنائے گا بلکہ مریضوں کی زندگی بچانے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔
کیتھ لیب کیا ہے اور اس کی اہمیت
کیتھ لیب (Cath Lab) کا مکمل نام Cardiac Catheterization Laboratory ہوتا ہے۔ یہ ایک خاص قسم کی اسپیشل میڈیکل لیبارٹری یا یونٹ ہوتی ہے جہاں دل اور خون کی نالیوں (شریانوں) سے متعلق مخصوص تشخیصی (diagnostic) اور علاجی (therapeutic) عمل انجام دیے جاتے ہیں۔ماضی میں، پنجاب کے بیشتر اضلاع کے مریضوں کو ان سہولتوں کے لیے لاہور، ملتان یا راولپنڈی جیسے بڑے شہروں کا سفر کرنا پڑتا تھا، جو نہ صرف مہنگا بلکہ وقت طلب بھی تھا۔
16 اضلاع میں کیتھ لیب کی منظوری
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اپنے ایک اور انتخابی وعدے کی تکمیل کی جانب قدم بڑھاتے ہوئے پنجاب کے 16 اضلاع میں کیتھ لیب قائم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ ان اضلاع میں اٹک، جہلم، میانوالی، قصور، جھنگ، وہاڑی، بہاولنگر، لیہ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، شیخوپورہ، خانیوال، راجن پور، بھکر، چکوال، منڈی بہاؤالدین اور حافظ آباد شامل ہیں۔ ان لیبز کی بدولت اب ہر ضلع میں دل کے مریضوں کو بروقت علاج میسر ہوگا۔
انسانی وسائل کی تعیناتی اور بین الاقوامی معیار
وزیراعلیٰ کی واضح ہدایت پر محکمہ صحت پنجاب نے کیتھ لیبز کے لیے تجربہ کار اور مستند عملے کی تعیناتی کا عمل شروع کر دیا ہے۔ ان لیبز میں ایف سی پی ایس، ایم ڈی اور امریکن بورڈ آف کارڈیالوجی سے ڈپلومہ یافتہ کارڈیالوجسٹ ڈاکٹرز کو تعینات کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ کارڈیالوجی کے تجربہ کار میڈیکل آفیسرز، نرسز، میڈیکل امیجنگ ٹیکنالوجسٹ اور کیتھ لیب ٹیکنیشنز بھی موجود ہوں گے تاکہ مریضوں کو بین الاقوامی معیار کے مطابق علاج فراہم کیا جا سکے۔
اس مقصد کے لیے حکومت نے بین الاقوامی شہرت یافتہ کارڈیالوجسٹ کی خدمات بھی حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل ہیلتھ سروسز پنجاب نے تمام عملے کی بھرتی کے لیے پراسیس کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔
عوامی ریلیف اور صحت کا انقلاب
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اس منصوبے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کیتھ لیبز کے قیام سے مریضوں کو اینجوپلاسٹی جیسے مہنگے اور اہم پروسیجرز کے لیے بڑے شہروں کا سفر نہیں کرنا پڑے گا، بلکہ وہ اپنے ضلع میں ہی یہ علاج حاصل کر سکیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر ضلع میں مرحلہ وار کیتھ لیبز قائم کی جائیں گی اور ان میں بہترین ڈاکٹرز اور عملہ دستیاب ہوگا تاکہ مریضوں کو فوری اور معیاری طبی سہولتیں اُن کے گھر کے قریب ہی میسر آسکیں۔
تاریخی تناظر اور مستقبل کی سمت
یہ منصوبہ پنجاب میں صحت کے شعبے میں ایک تاریخی موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ ماضی میں ایسے اقدامات یا تو بہت محدود رہے یا پھر ان پر عملدرآمد میں غیر معمولی تاخیر دیکھی گئی۔ تاہم موجودہ حکومت کی جانب سے صحت کے شعبے کو ترجیح دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام کی فلاح و بہبود اب محض نعرہ نہیں بلکہ عملی حقیقت بن چکی ہے۔
یاد رہے کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف اس سے قبل بھی ماں بچہ اسپتال، موبائل ہیلتھ یونٹس اور دیہی صحت مراکز کی بہتری جیسے منصوبوں کا آغاز کر چکی ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد دیہی اور پسماندہ علاقوں میں صحت کی بنیادی سہولتوں کو بہتر بنانا ہے۔
پنجاب کے مختلف اضلاع میں کیتھ لیبز کا قیام ایک شاندار، دور اندیش اور انقلابی اقدام ہے جس سے ہزاروں دل کے مریض مستفید ہوں گے۔ یہ نہ صرف صحت کے شعبے میں حکومتی سنجیدگی کا مظہر ہے بلکہ یہ اقدام پنجاب کو ایک صحت مند معاشرہ بنانے کی جانب بھی ایک اہم قدم ہے۔ اگر یہ منصوبہ کامیابی سے مکمل ہوتا ہے تو نہ صرف پنجاب بلکہ دیگر صوبے بھی اس ماڈل کو اپنا کر عوامی فلاح کی نئی راہیں کھول سکتے ہیں۔





















