اسلام آباد:چیف آف آرمی اسٹاف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ بھارت جو پہلے ہی معرکۂ حق میں شکست کھا چکا ہے، اب فتنہ الخوارج اور فتنہ الہند جیسے پروکسی عناصر کے ذریعے پاکستان کے خلاف ہائبرڈ وار کی حکمت عملی اپنا رہا ہے۔
آئی ایس پی آر کے جاری کردہ بیان کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے 16ویں اجلاس میں شرکت کرنے والے شرکاء سے ملاقات کی اور اہم خطاب کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، قومی یکجہتی کی ضمانت ہے۔
ورکشاپ میں اراکین پارلیمنٹ، سول سوسائٹی کے نمائندے، سرکاری افسران، دانشور، صحافی اور نوجوانوں سمیت زندگی کے مختلف شعبوں سے وابستہ افراد نے شرکت کی، جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ریاستی بیانیہ صرف عسکری سطح پر نہیں بلکہ مختلف طبقات کے ساتھ مشاورت اور مکالمے کی صورت میں آگے بڑھ رہا ہے۔
فیلڈ مارشل نے مزید کہا کہ "یہ تمام فتنہ باز عناصر بھی ان شاء اللہ اسی انجام سے دوچار ہوں گے جو انہیں معرکۂ حق میں ملا تھا۔
انہوں نے بلوچستان کی سماجی و اقتصادی ترقی کو پاکستان کی سالمیت اور یکجہتی کے لیے ضروری قرار دیا۔ فیلڈ مارشل نے واضح الفاظ میں کہا کہ پاک فوج دہشتگردی کی لعنت کو جڑ سے ختم کرنے تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
بھارت کی جانب سے دہشتگرد گروہوں کی پشت پناہی کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کے محب وطن عوام، خاص طور پر بلوچ عوام کی حب الوطنی کو متاثر کرنے کی ناکام کوشش ہے۔ ان کا یہ موقف نہ صرف واضح ہے بلکہ اس بات کی نشاندہی بھی کرتا ہے کہ دشمن کس طرح مختلف چالوں کے ذریعے بلوچستان کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دہشتگردی کا کوئی مذہب، فرقہ یا نسل نہیں ہوتا، اس لیے پوری قوم کو اس کے خلاف ایک مؤثر اور متحد آواز بننا ہوگا۔ ان کے مطابق، "اجتماعی قومی عزم کے بغیر دہشتگردی جیسے سنگین خطرے سے نمٹنا ممکن نہیں۔” یہ بات قوم کو متحرک کرنے اور یکجہتی کے فروغ کے لیے نہایت اہم ہے۔
فیلڈ مارشل نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تعاون کو مزید مؤثر بنانے اور صوبے کی خوشحالی کے لیے ایک مشترکہ قومی حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کی یہ بات صوبے کے دیرپا ترقیاتی عمل کے لیے اہم سنگ میل ہے۔
علاقائی امن کے حوالے سے انہوں نے پاکستان کے پختہ عزم کو دہرایا اور کہا کہ مادرِ وطن کو درپیش کسی بھی اندرونی یا بیرونی خطرے کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ قومی وقار اور عوام کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا، جس سے فوج کی دفاعی تیاری اور عوام سے وابستگی کا اندازہ ہوتا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق، اجلاس کا اختتام فیلڈ مارشل اور شرکاء کے درمیان ایک بھرپور اور کھلے سوال و جواب کے سیشن پر ہوا، جو مکالمے اور شفافیت کے فروغ کی علامت ہے۔
یہ خطاب ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان، بالخصوص بلوچستان، کئی اندرونی و بیرونی چیلنجز سے دوچار ہے۔ دہشتگردی کے نئے روپ، ہائبرڈ وار، نفسیاتی دباؤ، اور بیرونی قوتوں کی پراکسیز پاکستان کی خودمختاری کو نشانہ بنانے کی کوششیں کر رہی ہیں۔ بھارتی ایجنسیوں کی جانب سے بلوچ شدت پسند گروہوں کی حمایت اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ ایسے میں، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے وطن کے دفاع اور بلوچستان کی ترقی پر دوٹوک مؤقف، قوم کے لیے نہ صرف امید کی کرن ہے بلکہ دشمن کے لیے ایک واضح پیغام بھی ہے۔
فیلڈ مارشل کا خطاب یہ ثابت کرتا ہے کہ پاک فوج صرف ایک دفاعی قوت ہی نہیں بلکہ قومی وحدت، معاشی ترقی، اور بین الاقوامی ساکھ کے تحفظ کی ضامن بھی ہے۔ بلوچستان کے حوالے سے آرمی چیف کی سوچ عملی اور قومی مفاد میں گہرائی سے جڑی ہوئی ہے۔ ان کا زور قومی یکجہتی پر ہے اور وہ ترقی کو صرف انفراسٹرکچر تک محدود نہیں رکھتے بلکہ سماجی ہم آہنگی، حب الوطنی، اور عوامی شرکت کے ساتھ جوڑتے ہیں۔
پاک فوج کی قربانیاں، دہشتگردی کے خلاف جدوجہد، اور ترقیاتی منصوبوں میں شمولیت اس امر کی گواہی ہے کہ عسکری ادارے نہ صرف سرحدوں کی حفاظت کر رہے ہیں بلکہ قوم کی فکری، معاشی، اور سماجی سلامتی کے نگہبان بھی ہیں۔ موجودہ بیانیہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ دشمن کی ہر سازش کا جواب صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ علم، شعور، اتحاد، اور قومی عزم سے دینا ہوگا — اور اس کے لیے ہمیں پاک فوج جیسے اداروں پر فخر ہے۔





















