حسن ابدال ،سیلابی ریلے نے خوشیوں کو غم میں بدل دیا ،4خواتین جاں بحق

شادی میں شرکت کے بعد واپس گھر جانے والی خاندان برساتی نالے کو عبور کرتے ہوئے اچانک آئے زور دار سیلابی ریلے میں پھنس گئی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے پانی میں بہہ گئی

پنجاب کے ضلع اٹک میں پیش آنے والا ایک افسوسناک واقعہ اہلِ علاقہ اور پورے ملک کے لیے دل دہلا دینے والا منظر بن گیا۔یہ دل خراش سانحہ حسن ابدال کے قریب پیش آیا جہاں ایک خاندان، جو شادی کی خوشیوں میں شریک ہونے کے بعد واپس جا رہا تھا، قدرتی آفت کی لپیٹ میں آ گیا۔ ان کی ویگو گاڑی اچانک برساتی نالے میں آئے شدید سیلابی ریلے کی زد میں آ گئی اور بہہ گئی۔

حادثے کی تفصیلات

واقعے کے مطابق واہ کینٹ سے تعلق رکھنے والا یہ خاندان حسن ابدال کے علاقے میں ایک عزیز کی شادی میں شرکت کے بعد واپس اپنے گھر جا رہا تھا۔ واپسی کے دوران ان کی گاڑی ایک برساتی نالے کو عبور کرتے ہوئے اچانک آئے زور دار سیلابی ریلے میں پھنس گئی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے پانی میں بہہ گئی۔
ضلع اٹک کے ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) راؤ عاطف کے مطابق متاثرہ گاڑی میں مجموعی طور پر 10 افراد سوار تھے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 اور دیگر امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور فوری طور پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کا آغاز کر دیا گیا۔

ریسکیو آپریشن: زندگی اور موت کی کشمکش

ریسکیو ٹیموں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے 5 افراد کو زندہ بچا لیا، جنہیں فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔ بچ جانے والے افراد میں صدمے کی کیفیت نمایاں تھی، کیوں کہ ان کے عزیز ریلے میں بہہ چکے تھے۔
بدقسمتی سے امدادی کارروائی کے دوران 4 افراد کی لاشیں بھی نکال لی گئیں، جن میں تین سگی بہنیں نازیہ، صابرہ بی بی اور ایمن بی بی شامل تھیں۔ ان کی لاشیں جب پانی سے باہر نکالی گئیں تو فضا سوگوار ہو گئی، اہلِ خانہ پر قیامت گزر گئی۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق ایک 4 سالہ بچہ مصطفیٰ تاحال لاپتا ہے، جس کی تلاش جاری ہے۔ بچے کی بازیابی کے لیے غوطہ خور ٹیمیں اور مقامی رضاکار مسلسل کوشش کر رہے ہیں، لیکن پانی کے تیز بہاؤ کے باعث ریسکیو آپریشن کو مشکلات کا سامنا ہے۔

قدرتی آفات اور ہماری تیاری

یہ واقعہ نہ صرف ایک خاندان کی ٹوٹتی امیدوں کی کہانی ہے بلکہ ایک اجتماعی سوال بھی اٹھاتا ہے کہ آیا ہم موسمی تغیرات، غیر متوقع بارشوں اور سیلابوں کے لیے بطور قوم کتنے تیار ہیں؟ ہر سال مون سون میں ملک کے مختلف علاقوں میں سیلابی ریلے لوگوں کی جانیں نگلتے ہیں، مگر حفاظتی اقدامات اور انفراسٹرکچر کی صورتحال جوں کی توں رہتی ہے۔
نہ صرف دیہی بلکہ شہری علاقوں میں بھی بارش کے بعد نالوں کا اُبلنا، پانی کا گلیوں میں داخل ہونا، اور لوگوں کا پھنس جانا ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔ ایسے میں حسن ابدال جیسے حادثات کسی بھی وقت کسی بھی جگہ رونما ہو سکتے ہیں۔

عوامی آگاہی اور انتظامی غفلت

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ریسکیو ادارے ہمیشہ بروقت اپنی خدمات فراہم کرتے ہیں، مگر ان کے وسائل اور افرادی قوت اکثر ایسے بڑے واقعات کے لیے ناکافی ثابت ہوتے ہیں۔ عوامی آگاہی کا فقدان، برساتی نالوں کی نشان دہی نہ ہونا، اور موسمی پیش گوئیوں کو سنجیدہ نہ لینا ایسے سانحات کو جنم دیتا ہے۔
حادثے کا شکار ہونے والے خاندان کے قریبی افراد کا کہنا ہے کہ اگر مقامی انتظامیہ نے خطرناک نالوں پر وارننگ سائنز لگا دیے ہوتے یا بارش کے دوران ان راستوں کو بند کر دیا جاتا، تو شاید یہ قیمتی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔

تاریخ کے آئینے میں ایسے واقعات

پاکستان میں سیلاب کے باعث ہونے والی ہلاکتیں کوئی نئی بات نہیں۔ 2010 کا بدنامِ زمانہ سیلاب ہو یا حالیہ برسوں میں خیبرپختونخوا، بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں آنے والے طوفانی ریلے، ہر سال درجنوں خاندان اس عذاب سے دوچار ہوتے ہیں۔ صرف گزشتہ پانچ سالوں میں مون سون کے دوران مختلف حادثات میں سیکڑوں افراد جاں بحق اور ہزاروں متاثر ہو چکے ہیں۔

حکومتی اقدامات کی ضرورت

ایسے واقعات حکومت وقت کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔ مقامی انتظامیہ کو چاہیے کہ بارشوں کے دوران ہائی الرٹ جاری کرے، خطرناک گزرگاہوں پر حفاظتی بندوبست کرے، اور عوام میں سیلاب سے متعلق آگاہی مہمات چلائے۔ اس کے علاوہ ندی نالوں پر پُل اور مضبوط راستے بنانے کی بھی اشد ضرورت ہے تاکہ ایسے حادثات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

ایک خاندان کی بکھرتی کہانی

حسن ابدال کے سانحے میں جاں بحق ہونے والے تمام افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا۔ وہ خوشیوں بھری تقریب سے واپس آ رہے تھے، کسی کو خبر نہ تھی کہ یہ واپسی ان کی زندگی کی آخری سفر بن جائے گی۔ ان کے اہلِ خانہ اور محلے دار آج گہرے صدمے میں مبتلا ہیں۔ جن بہنوں نے ایک ہی گھر میں بچپن گزارا، وہ ایک ساتھ ہی موت کی آغوش میں چلی گئیں۔ 4 سالہ مصطفیٰ کی ماں اب ہر آہٹ پر چونک جاتی ہے، شاید اسے اپنے لختِ جگر کی آواز سنائی دے۔
یہ حادثہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ قدرت کے سامنے انسان کی حیثیت کچھ نہیں۔ مگر بہتر منصوبہ بندی، موثر رسپانس سسٹم اور عوامی شعور کے ذریعے ہم نقصان کی شدت کو کم ضرور کر سکتے ہیں۔ امید ہے کہ یہ واقعہ متعلقہ اداروں کو جھنجھوڑے گا اور آئندہ ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین