اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے لیے ایک اور مشکل صورتحال کھڑی کر دی ہے۔ عدالت نے سابق صدر ڈاکٹر عارف علوی، خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور سمیت پی ٹی آئی کے 50 سرکردہ رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔ یہ تمام وارنٹ 26 نومبر 2022 کو اسلام آباد میں ہونے والے پی ٹی آئی کے احتجاج کے تناظر میں تھانہ کراچی کمپنی میں درج مقدمہ نمبر 1193 کی سماعت کے دوران جاری کیے گئے۔
عدالت کا حکم اور پس منظر
انسداد دہشتگردی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے ان رہنماؤں کے مسلسل غیر حاضری پر وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے پولیس کو حکم دیا کہ تمام ملزمان کو فوری گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا جائے۔ عدالت کی جانب سے یہ کارروائی مقدمہ نمبر 1193 کی پیروی کے دوران کی گئی، جو 26 نومبر کو ہونے والے مبینہ پرتشدد احتجاج اور امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کے الزامات پر درج کیا گیا تھا۔
اس مقدمے میں مجموعی طور پر اب تک 50 پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری ہو چکے ہیں۔ ان میں سے 41 کے وارنٹ عدالت نے تازہ ترین سماعت میں جاری کیے، جب کہ 9 رہنماؤں کے خلاف پہلے ہی وارنٹ جاری کیے جا چکے تھے۔
نامزد رہنما کون ہیں؟
اس فہرست میں شامل اہم شخصیات میں سابق صدر ڈاکٹر عارف علوی کا نام سب سے نمایاں ہے۔ وہ پی ٹی آئی کے بانی اراکین میں سے ہیں اور اس وقت عدالتی کارروائی سے دوچار ہونے والے اعلیٰ ترین سابق عہدیدار ہیں۔ ان کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا کے موجودہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے خلاف بھی وارنٹ جاری ہونا سیاسی طور پر غیرمعمولی پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
دیگر نمایاں نام درج ذیل ہیں:
سابق وفاقی وزیر شبلی فراز
فیصل جاوید (سابق سینیٹر)
سلمان اکرم راجا (معروف وکیل)
روف حسن
مراد سعید
احمد نیازی
اسد قیصر (سابق اسپیکر قومی اسمبلی)
حماد اظہر
عاطف خان
شعیب شاہین (پی ٹی آئی کے قانونی ترجمان)
اعظم سواتی (سابق سینیٹر)
عمر ایوب (سابق وزیر خزانہ)
صاحبزاہ حامد رضا
علیمہ خانم (عمران خان کی ہمشیرہ)
شیخ وقاص اکرم
کنول شوزب
شاندانہ گلزار
شیرافضل مروت
یہ تمام رہنما پی ٹی آئی کی قیادت اور پالیسی سازی میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔
26 نومبر کا احتجاج: ایک یادگار دن
26 نومبر 2022 کو پاکستان تحریک انصاف نے اسلام آباد میں "حقیقی آزادی مارچ” کے تحت بڑا احتجاج کیا تھا۔ اس مارچ کو حکومت کے خلاف ایک فیصلہ کن اقدام کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ تاہم، سیکیورٹی اداروں نے اسے غیر قانونی قرار دیتے ہوئے متعدد علاقوں میں رکاوٹیں کھڑی کیں، جس کے نتیجے میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔
اس دن اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں توڑ پھوڑ، سیکیورٹی اہلکاروں پر حملے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جس پر پولیس نے بعد ازاں مختلف تھانوں میں مقدمات درج کیے۔ ان مقدمات میں دہشتگردی کی دفعات بھی شامل کی گئیں۔
راولپنڈی میں درج دیگر مقدمات
یہ بات بھی اہم ہے کہ راولپنڈی ڈویژن میں 24 اور 26 نومبر 2022 کے درمیان کم از کم 32 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ ان مقدمات میں تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت سمیت متعدد کارکنان کو نامزد کیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک اہم مقدمہ تھانہ ٹیکسلا میں درج وہ کیس ہے جس میں ایک کانسٹیبل کی ہلاکت ہوئی تھی۔ اس مقدمے میں عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی بھی ملزم نامزد ہیں، جو قانونی ماہرین کے مطابق پی ٹی آئی کی قیادت کے خلاف مقدمات کے دائرے کو وسیع کرنے کی ایک مثال ہے۔
قانونی ماہرین کی رائے
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ وارنٹ گرفتاری جاری ہونا ایک معمول کا قانونی عمل ہے، تاہم اتنی بڑی تعداد میں پی ٹی آئی کی قیادت کے خلاف اس قسم کی کارروائی سیاسی اعتبار سے غیر معمولی ہے۔ یہ وارنٹ عدالت میں پیش نہ ہونے پر جاری کیے گئے ہیں، لیکن اس بات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ ان مقدمات کی نوعیت اور ان پر لگنے والی دفعات بہت سنگین ہیں، جن میں انسداد دہشتگردی ایکٹ کی شقیں بھی شامل ہیں۔
سیاسی ردعمل اور آئندہ امکانات
تازہ ترین عدالتی کارروائی کے بعد پی ٹی آئی کی جانب سے تاحال کوئی باقاعدہ بیان سامنے نہیں آیا، تاہم پارٹی کے ذرائع نے عندیہ دیا ہے کہ یہ کارروائی موجودہ حکومت کی "انتقامی سیاست” کا حصہ ہے۔ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پارٹی قیادت جلد اس معاملے پر قانونی و سیاسی حکمت عملی طے کرے گی۔
عدالتی حکم کے بعد پولیس کو قانونی طور پر اختیار حاصل ہو گیا ہے کہ وہ ان تمام نامزد افراد کو فوری گرفتار کرے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ پی ٹی آئی کی سیاسی سرگرمیوں کے لیے ایک بڑا دھچکا ہوگا، خصوصاً ایسے وقت میں جب پارٹی دوبارہ عوامی رابطہ مہم شروع کرنے کا عندیہ دے چکی ہے۔
انسداد دہشتگردی عدالت کی جانب سے جاری کیے گئے یہ وارنٹ گرفتاری نہ صرف پی ٹی آئی کے لیے ایک نئی قانونی آزمائش ہیں بلکہ ملکی سیاست میں ایک اور کشیدگی کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔ یہ کارروائی اس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ 2022 کے احتجاجی مظاہروں کے قانونی اثرات ابھی ختم نہیں ہوئے اور آنے والے دنوں میں پی ٹی آئی قیادت کو عدالتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا سامنا کرنا پڑے گا۔





















