انگلینڈ کیخلاف 5ویں ٹیسٹ میں جیت؛ بھارت نے اہم کامیابی سمیٹ لی

میچ کے آخری دن انگلینڈ کو صرف 35 رنز درکار تھے اور اس کے پاس چار وکٹیں باقی تھیں

کراچی: انگلینڈ کے خلاف پانچویں ٹیسٹ میچ میں بھارت نے ایک ناقابل فراموش فتح حاصل کر لی، جب اوول کے تاریخی میدان میں صرف 6 رنز سے کامیابی نے شبمن گل کی قیادت والی ٹیم کو ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ (WTC) 2025-27 کے پوائنٹس ٹیبل پر تیسری پوزیشن پر پہنچا دیا۔ یہ فتح نہ صرف سیریز کو 2-2 سے برابر کرنے کا باعث بنی بلکہ بھارتی کرکٹ ٹیم کے عزم اور صلاحیت کی ایک شاندار مثال بھی ثابت ہوئی۔ اس رپورٹ میں میچ کی تفصیلات، ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ میں تازہ تبدیلیوں، اور اس فتح کے اثرات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

اوول کا ڈرامائی معرکہ

لندن کے کیننگٹن اوول میں کھیلا گیا پانچواں ٹیسٹ میچ کرکٹ کی تاریخ کے سنسنی خیز مقابلوں میں سے ایک تھا۔ بھارت نے انگلینڈ کو جیت کے لیے 374 رنز کا ہدف دیا تھا، جو اوول کے میدان پر اب تک کا سب سے بڑا رن چیس ہوتا اگر انگلینڈ کامیاب ہو جاتا۔ میچ کے آخری دن انگلینڈ کو صرف 35 رنز درکار تھے اور اس کے پاس چار وکٹیں باقی تھیں، لیکن بھارتی بولرز، خاص طور پر محمد سراج کی قیادت میں، نے ایک شاندار واپسی کی۔ سراج نے اپنی تباہ کن بولنگ سے 5 وکٹیں حاصل کیں (5-104)، اور آخری لمحات میں گس ایٹکنسن کی آف اسٹمپ اڑا کر بھارت کو 6 رنز سے فتح دلائی۔ یہ بھارت کی ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں رنز کے لحاظ سے سب سے کم مارجن کی فتح تھی۔

انگلینڈ کی جانب سے جو روٹ (105) اور ہیری بروک (111) نے شاندار سنچریاں اسکور کیں، جبکہ بین ڈکٹ (54) نے بھی نصف سنچری بنائی۔ تاہم، بھارتی بولرز کی مسلسل دباؤ نے انگلینڈ کے مڈل آرڈر کو توڑ دیا، اور کرس ووکس، جو کندھے کی چوٹ کے باوجود ایک ہاتھ سے بیٹنگ کے لیے میدان میں اترے، اپنی بہادری کے باوجود ٹیم کو فتح نہ دلا سکے۔

بھارت کی دوسری اننگز میں یشسوی جیسوال کی 118 رنز کی شاندار سنچری، اور آکاش دیپ (66)، رویندرا جڈیجہ (53)، اور واشنگٹن سندر (53) کی نصف سنچریوں نے بھارت کو 396 رنز تک پہنچایا، جو انگلینڈ کے لیے ایک مشکل ہدف ثابت ہوا۔ پہلی اننگز میں کرن نائر کی 57 رنز کی اننگز نے بھی بھارت کو مقابلے میں رکھا، جبکہ انگلینڈ کی جانب سے گس ایٹکنسن نے 5 وکٹیں حاصل کیں۔

ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ

اوول میں اس فتح نے بھارت کو ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ 2025-27 کے پوائنٹس ٹیبل میں تیسری پوزیشن پر پہنچا دیا۔ بھارت نے اس سیریز سے 12 قیمتی پوائنٹس حاصل کیے، جس سے اس کے مجموعی 28 پوائنٹس ہو گئے، اور پوائنٹس فیصد (PCT) 46.67 ہوا۔ اس فتح سے پہلے بھارت چوتھے نمبر پر تھا، لیکن انگلینڈ کے ساتھ جگہوں کی تبدیلی کے بعد وہ تیسری پوزیشن پر آ گیا۔

انگلینڈ، جو اس سیریز سے قبل تیسری پوزیشن پر تھا، اب 26 پوائنٹس اور 43.33 فیصد PCT کے ساتھ چوتھے نمبر پر چلا گیا۔ انگلینڈ کو لارڈز ٹیسٹ میں سست اوور ریٹ کی وجہ سے 2 پوائنٹس کی کٹوتی کا سامنا کرنا پڑا، جس نے ان کی پوزیشن پر اثر ڈالا۔ آسٹریلیا 36 پوائنٹس اور 100 فیصد PCT کے ساتھ بدستور سرفہرست ہے، جبکہ سری لنکا 16 پوائنٹس اور 66.67 فیصد PCT کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ بنگلہ دیش پانچویں پوزیشن پر ہے، جبکہ نیوزی لینڈ، پاکستان، اور دفاعی چیمپیئن جنوبی افریقہ نے ابھی اس سائیکل میں کوئی میچ نہیں کھیلا۔

سیریز کا سفر

بھارت اور انگلینڈ کے درمیان یہ پانچ میچوں کی سیریز، جسے اب اینڈرسن-تیندولکر ٹرافی کے نام سے جانا جاتا ہے، کرکٹ کے شائقین کے لیے ایک رولر کوسٹر ثابت ہوئی۔ سیریز کا آغاز انگلینڈ کی فتح سے ہوا، لیکن بھارت نے ایجبیسٹن ٹیسٹ میں شاندار واپسی کی۔ لارڈز میں انگلینڈ کی دوسری جیت کے بعد بھارت 2-1 سے پیچھے تھا، لیکن اولڈ ٹریفورڈ میں ایک یادگار ڈرا نے سیریز کو زندہ رکھا۔

اولڈ ٹریفورڈ ٹیسٹ میں شبمن گل (103)، رویندرا جڈیجہ (107)، اور واشنگٹن سندر (101) کی سنچریوں نے بھارت کو 311 رنز کے خسارے سے باہر نکالا، اور 203 رنز کی ناقابل شکست شراکت نے میچ ڈرا کر دیا۔ اس ڈرا نے بھارت کے حوصلے بلند کیے، اور اوول میں سراج کی شاندار بولنگ نے سیریز کو 2-2 سے برابر کر دیا۔

محمد سراج

محمد سراج اس میچ کے ہیرو رہے، جنہوں نے اپنی جارحانہ اور دباؤ ڈالنے والی بولنگ سے انگلینڈ کے بیٹنگ آرڈر کو تہس نہس کر دیا۔ ان کی 5 وکٹوں نے نہ صرف میچ کا پانسہ پلٹا بلکہ انہیں پلیئر آف دی میچ کا ایوارڈ بھی دلایا۔ سیریز میں سراج نے 23 وکٹیں حاصل کیں، جو انگلینڈ میں کسی بھی بھارتی بولر کی ایک سیریز میں سب سے زیادہ وکٹوں کے برابر ہے۔

کپتان شبمن گل نے میچ کے بعد کہا، "ہماری ٹیم کو اس سیریز میں کوئی موقع نہیں دیا جا رہا تھا، لیکن ہم نے ہر میچ میں لڑائی کی اور 2-2 کا نتیجہ حاصل کیا۔ یہ نتیجہ ہمارے مستقبل کے لیے بہت اہم ہے، اور ہم اس سے سیکھ کر آگے بڑھیں گے۔”

سوشل میڈیا پر ردعمل

اوول میں بھارت کی اس شاندار فتح نے سوشل میڈیا، خاص طور پر ایکس پر، جوش و خروش کی لہر دوڑا دی۔ ایک بھارتی فین نے لکھا، "سراج نے آج دل جیت لیا! یہ فتح بھارتی کرکٹ کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔” پاکستانی شائقین نے بھی اس مقابلے کی تعریف کی، ایک صارف نے لکھا، "یہ ٹیسٹ کرکٹ کی خوبصورتی ہے۔ بھارت نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔” کچھ پاکستانی شائقین نے انگلینڈ کے ’بیزبال‘ انداز پر تنقید کی، اور کہا کہ "بیزبال ہمیشہ کام نہیں کرتا، خاص طور پر جب آپ کے سامنے سراج جیسا بولر ہو!”

اوول میں بھارت کی یہ فتح صرف ایک میچ کی جیت نہیں بلکہ ٹیسٹ کرکٹ میں اس کی صلاحیت اور عزم کا مظہر ہے۔ شبمن گل کی قیادت میں بھارتی ٹیم نے اس سیریز میں مشکلات کا سامنا کیا، خاص طور پر رشبھ پنت، جیسپریت بمراہ، اور دیگر کھلاڑیوں کی انجریوں کے باوجود۔ تاہم، گل کی شاندار بیٹنگ، سراج کی بولنگ، اور جڈیجہ، جیسوال، اور سندر جیسے کھلاڑیوں کی کارکردگی نے ثابت کیا کہ یہ ٹیم کسی بھی حالات میں لڑ سکتی ہے۔

ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کے تناظر میں، یہ فتح بھارت کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔ 46.67 فیصد PCT کے ساتھ تیسری پوزیشن اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بھارت 2027 کے فائنل تک رسائی کے لیے مضبوط امیدوار ہے۔ تاہم، آسٹریلیا اور سری لنکا جیسے حریفوں سے مقابلہ آسان نہیں ہوگا، اور بھارت کو اپنی بولنگ اور بیٹنگ میں تسلسل برقرار رکھنا ہوگا۔

پاکستان کے تناظر میں، یہ فتح ایک سبق ہے کہ مضبوط قیادت اور ٹیم ورک کس طرح بڑے نتائج لا سکتے ہیں۔ پاکستان، جو ابھی اس سائیکل میں اپنا پہلا میچ کھیلنے جا رہا ہے، کو بھارت کی اس جارحانہ اور لچکدار کارکردگی سے سیکھنا چاہیے۔

محمد سراج کی کارکردگی اس سیریز کی سب سے بڑی کہانی ہے۔ انہوں نے نہ صرف اپنی بولنگ سے انگلینڈ کے بیزبال انداز کو چیلنج کیا بلکہ یہ بھی دکھایا کہ جذبہ اور محنت کس طرح میچ کا رخ موڑ سکتے ہیں۔ بھارت کی یہ فتح ٹیسٹ کرکٹ کی جادوئی خوبصورتی کو اجاگر کرتی ہے، اور یہ سیریز کرکٹ کے شائقین کے ذہنوں میں ایک طویل عرصے تک زندہ رہے گی۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین