پالتو وہیل کے ہاتھوں ٹرینر کی ہلاکت؛ وائرل ویڈیو کا اصل معاملہ کیا ہے؟

بعض کلپس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ وہیل نے ٹرینر کو مکمل طور پر نگل لیا

سوشل میڈیا پر پھیلنے والی ایک چونکا دینے والی ویڈیو نے دنیا بھر کے صارفین کو حیرت اور صدمے میں مبتلا کر دیا۔ اس ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا کہ ایک وہیل ٹرینر، جیسکا ریڈکلف، اپنی سدھائی ہوئی کلر وہیل (اورکا) کے حملے میں ہلاک ہو گئی۔ ویڈیو کے مناظر اتنی ہولناک اور حقیقت نما تھے کہ لاکھوں لوگوں نے اسے شیئر کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا۔ لیکن اب حقیقت سامنے آ چکی ہے: یہ ویڈیو مکمل طور پر جعلی ہے اور مصنوعی ذہانت (AI) کی جدید ٹیکنالوجی سے بنائی گئی ہے۔ 

ویڈیو کا منظر

وائرل ویڈیو میں دکھایا گیا کہ ایک خاتون ٹرینر، جسے جیسکا ریڈکلف کے نام سے متعارف کرایا گیا، ایک مبینہ میرین پارک ’پیسفک بلیو میرین پارک‘ میں لائیو پرفارمنس کے دوران ایک کلر وہیل کے ساتھ پرفارم کر رہی ہے۔ ویڈیو کے ابتدائی مناظر میں ٹرینر وہیل کے منہ پر کھڑی ہے، اور تماشائیوں کی تالیاں گونج رہی ہیں۔ لیکن اچانک، وہیل اپنا توازن بگاڑتی ہے، اور ٹرینر پانی میں گر جاتی ہے۔ بعض کلپس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ وہیل نے ٹرینر کو مکمل طور پر نگل لیا، جس سے تماشائی خوفزدہ ہو کر چیخنے لگے۔

اس دل دہلا دینے والے منظر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے ٹک ٹاک، ایکس، اور انسٹاگرام پر ہلچل مچا دی۔ کچھ صارفین نے دعویٰ کیا کہ جیسکا ریڈکلف، جو مبینہ طور پر 23 سالہ ٹرینر تھی، پانی سے نکالے جانے کے چند منٹ بعد دم توڑ گئی۔ کئی پوسٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ وہیل نے خون کی بو کے باعث حملہ کیا، جو ایک جذباتی اور سنسنی خیز اضافہ تھا۔

حقیقت کا انکشاف

متعدد عالمی میڈیا اداروں اور فیکٹ چیکنگ تنظیموں نے اس ویڈیو کی چھان بین کی اور تصدیق کی کہ یہ مکمل طور پر مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی ہے۔ ڈیجیٹل فورینسک ماہرین نے ویڈیو کا تجزیہ کیا اور پایا کہ اس میں استعمال ہونے والی آوازیں AI سے تیار کی گئی ہیں، جن میں غیر فطری وقفے اور یکسانیت واضح ہے۔ اسی طرح، پانی کے چھینٹوں، روشنی، اور کرداروں کی حرکات میں غیر معمولی خامیاں پائی گئیں، جو AI سے بنائے گئے ویڈیوز کی نشانی ہیں۔

سب سے اہم بات، ’پیسفک بلیو میرین پارک‘ نامی کوئی ادارہ دنیا میں کہیں بھی موجود نہیں ہے۔ اسی طرح، جیسکا ریڈکلف نامی کسی ٹرینر کے وجود کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ نہ تو میرین پارکس کے ریکارڈز میں، نہ ہی سرکاری ڈیٹابیس میں، اور نہ ہی کسی معتبر خبر رساں ادارے کی رپورٹس میں اس نام یا واقعے کا کوئی ذکر ہے۔ اگر یہ واقعہ سچ ہوتا، تو اس کی خبر عالمی سطح پر پھیلتی اور متعلقہ اداروں سے باضابطہ بیانات جاری ہوتے۔

اصلی واقعات سے چوری شدہ عناصر

یہ جعلی ویڈیو اپنی ساکھ بڑھانے کے لیے اصلی واقعات سے کچھ عناصر مستعار لیتی ہے۔ مثال کے طور پر، 2010 میں سی ورلڈ اورلینڈو میں ٹرینر ڈان برانچو کی ہلاکت، جب ایک اورکا، ٹیلی کم، نے انہیں پانی میں کھینچ کر ہلاک کر دیا تھا، اور 2009 میں لورو پارک، ٹینرائف میں ٹرینر ایلکسس مارٹینز کی موت۔ یہ دونوں واقعات حقیقت پر مبنی ہیں اور دستاویزی فلم ’بلیک فش‘ میں تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں۔ ویڈیو بنانے والوں نے ان واقعات کی شہرت کو استعمال کرتے ہوئے جیسکا ریڈکلف کی کہانی کو حقیقت نما بنانے کی کوشش کی۔

کچھ پوسٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ وہیل نے خون کی بو (خاص طور پر ماہواری کے خون) کی وجہ سے حملہ کیا، جو سائنسی طور پر بے بنیاد ہے۔ ماہرین کے مطابق، اس قسم کی تفصیلات جعلی کہانیوں میں جذباتی ردعمل پیدا کرنے کے لیے شامل کی جاتی ہیں، جو ویڈیو کے وائرل ہونے کا باعث بنتی ہیں۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

اس ویڈیو نے سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا کر دیا۔ ایکس پر ایک صارف نے لکھا، "یہ ویڈیو دیکھ کر دل دہل گیا، لیکن اب پتہ چلا کہ یہ جعلی ہے۔ سوشل میڈیا پر ہر چیز پر یقین نہیں کرنا چاہیے۔” ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، "AI ٹیکنالوجی کتنی خطرناک ہو سکتی ہے، یہ ویڈیو اس کی بدترین مثال ہے۔” کچھ صارفین نے میرین پارکس میں جانوروں کی قید کے خلاف بحث چھیڑ دی، جبکہ دیگر نے اسے محض ایک تفریحی جھوٹ قرار دیا۔

جیسکا ریڈکلف کی ویڈیو کا معاملہ AI ٹیکنالوجی کے غلط استعمال اور سوشل میڈیا پر غلط معلومات کے پھیلاؤ کی ایک خطرناک مثال ہے۔ یہ ویڈیو نہ صرف تکنیکی طور پر حقیقت نما تھی بلکہ اس نے لوگوں کے جذبات کو ہدف بنایا، جو اس کے تیزی سے وائرل ہونے کی سب سے بڑی وجہ بنی۔ یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں معلومات کی صداقت کی جانچ پڑتال کتنی ضروری ہے۔

پاکستان کے تناظر میں، جہاں سوشل میڈیا کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، اس قسم کی جعلی ویڈیوز عوام میں خوف، غلط فہمی، اور غیر ضروری بحث کو جنم دے سکتی ہیں۔ خاص طور پر، ایسی ویڈیوز جو اصلی واقعات سے ملتی جلتی ہوں، لوگوں کے اعتماد کو متزلزل کرتی ہیں اور اصل مسائل، جیسے جانوروں کی فلاح و بہبود یا میرین پارکس کی اخلاقیات، پر توجہ کو کمزور کرتی ہیں۔

اس واقعے سے یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں سوشل میڈیا پر شیئر ہونے والی ہر ویڈیو یا خبر پر فوری یقین کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ معتبر ذرائع سے تصدیق، جیسے عالمی خبر رساں اداروں یا سرکاری بیانات، ضروری ہے۔ اس کے علاوہ، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو AI سے بنائی گئی ویڈیوز کی شناخت کے لیے بہتر ٹیکنالوجیز اور سخت پالیسیوں پر عمل کرنا ہوگا تاکہ ایسی گمراہ کن معلومات کا پھیلاؤ روکا جا سکے۔

یہ ویڈیو، اگرچہ جعلی ہے، لیکن اس نے میرین پارکس میں کلر وہیلز کی قید کے بارے میں ایک اہم بحث کو جنم دیا ہے۔ اصل واقعات، جیسے ڈان برانچو اور ایلکسس مارٹینز کی ہلاکتیں، ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہیں کہ کیا ذہین اور طاقتور جانوروں کو تفریح کے لیے قید کرنا اخلاقی طور پر درست ہے۔ اس جعلی ویڈیو نے اس بحث کو دوبارہ زندہ کیا ہے، اور یہ ایک موقع ہے کہ ہم جانوروں کی فلاح و بہبود کے لیے آواز اٹھائیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین