انسانی دماغ کا “ری سیٹ بٹن” دریافت؟ ڈپریشن کے علاج میں نئی امید پیدا ہوگئی

یہ کوئی جادوئی عمل نہیں بلکہ ایک پیچیدہ طبی طریقہ کار ہے،ماہرین

لندن / زیورخ (ویب ڈیسک: خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)طبی ماہرین اور نیورو سائنٹسٹس نے انسانی دماغ کے اندر ایک ایسے حصے کی نشاندہی کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو کسی “ری سیٹ بٹن” کی طرح کام کر سکتا ہے، اور مستقبل میں ڈپریشن، ذہنی تھکن اور شدید ذہنی دباؤ کے علاج میں انقلابی پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔

تحقیق کے مطابق دماغ کے ایک مخصوص حصے Nucleus Accumbens کو ایک خاص فریکوئنسی کے ذریعے متحرک کر کے شدید ذہنی دباؤ، ڈپریشن اور برن آؤٹ کی علامات کو فوری طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔

برطانوی اور سوئس ماہرین کی مشترکہ تحقیق میں بتایا گیا کہ مسلسل ذہنی دباؤ کے باعث دماغ کے جذباتی سرکٹس بعض اوقات “منجمد” یا غیر متوازن ہو جاتے ہیں، جس سے انسان مستقل ذہنی تھکن، بے چینی اور مایوسی کا شکار رہتا ہے۔

ماہرین نے اس نئی ٹیکنالوجی کو Deep Brain Stimulation یا DBS کا جدید ورژن قرار دیا ہے۔

اس طریقہ کار میں دماغ کے مخصوص حصے میں ہلکی برقی لہر بھیجی جاتی ہے، جو دماغی کیمیکلز کے توازن کو دوبارہ ترتیب دینے میں مدد دیتی ہے۔

تحقیق کے دوران بعض مریضوں نے بتایا کہ اس عمل کے بعد انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے ان کا ذہن اچانک ہلکا، تازہ اور بوجھ سے آزاد ہو گیا ہو۔

ماہرین نے واضح کیا کہ یہ کوئی جادوئی عمل نہیں بلکہ ایک پیچیدہ طبی طریقہ کار ہے، اور فی الحال اسے صرف ان مریضوں پر آزمایا جا رہا ہے جن پر روایتی ادویات یا تھراپی مؤثر ثابت نہیں ہوئیں۔

ابتدائی نتائج کے مطابق مستقبل میں ذہنی امراض کا علاج برسوں کی ادویات کے بجائے چند سیکنڈ کی مخصوص برقی تحریک سے ممکن ہو سکتا ہے۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق دماغی بیماریوں کے علاج میں یہ تحقیق مستقبل کی میڈیکل سائنس کیلئے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔

غلام مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں ڈپریشن، ذہنی دباؤ اور برن آؤٹ کے کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں، ایسے میں اگر واقعی دماغی سرکٹس کو “ری سیٹ” کرنے جیسی ٹیکنالوجی مؤثر ثابت ہوتی ہے تو یہ لاکھوں مریضوں کیلئے امید کی نئی کرن بن سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تاہم اس طرح کی تحقیقات کے حوالے سے احتیاط بھی ضروری ہے کیونکہ ابتدائی نتائج ہمیشہ حتمی علاج کی ضمانت نہیں ہوتے۔

ان کے مطابق عام لوگوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ ٹیکنالوجی ابھی تجرباتی مراحل میں ہے اور اسے فوری یا عام علاج کے طور پر پیش کرنا قبل از وقت ہوگا۔

عوامی ردعمل

سوشل میڈیا پر اس خبر نے غیر معمولی توجہ حاصل کی۔ کئی صارفین نے اسے “دماغی بیماریوں کے علاج میں انقلاب” قرار دیا جبکہ بعض افراد نے اس ٹیکنالوجی پر حیرت اور تشویش دونوں کا اظہار کیا۔

کچھ صارفین نے کہا کہ اگر مستقبل میں ذہنی دباؤ کا علاج چند سیکنڈ میں ممکن ہو گیا تو یہ جدید سائنس کا بڑا معجزہ ہوگا۔

دوسری جانب بعض افراد نے سوال اٹھایا کہ کیا دماغ میں برقی مداخلت انسانی شخصیت یا جذبات پر منفی اثر ڈال سکتی ہے؟

تجزیہ نگار کیا کہتے ہیں؟

طبی ماہرین کے مطابق Depression اور ذہنی دباؤ کے علاج میں DBS پہلے بھی محدود پیمانے پر استعمال ہوتی رہی ہے، تاہم نئی تحقیق اس ٹیکنالوجی کو مزید مؤثر بنانے کی کوشش ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت، نیورو سائنس اور دماغی برقی تحریک کی ٹیکنالوجیز مل کر ذہنی بیماریوں کے علاج کا طریقہ بدل سکتی ہیں۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق اگر یہ تحقیق کامیاب رہی تو نفسیاتی علاج، ادویات اور ذہنی صحت کے شعبے میں ایک نئی طبی انقلاب آ سکتا ہے۔

آپ کے خیال میں کیا مستقبل میں واقعی ذہنی بیماریوں کا علاج چند سیکنڈ میں ممکن ہو سکے گا؟

متعلقہ خبریں

مقبول ترین