بلوچستان کے عوامی مسائل کے حل کیلئے سول ملٹری تعاون اور مشترکہ جدوجہد ضروری ہے، فیلڈ مارشل

آرمی چیف کو تربت پہنچنے پر کور کمانڈر بلوچستان نے پرتپاک استقبال کیا

پاک فوج کے سربراہ، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز (ملٹری)، ہلالِ جرأت، نے بلوچستان کے شہر تربت کا دورہ کیا، جس کا مقصد صوبے کی سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینا اور ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا معائنہ کرنا تھا۔ اس دورے نے سول اور عسکری اداروں کے درمیان تعاون کی اہمیت کو اجاگر کیا، جو بلوچستان کے عوام کی خوشحالی اور خطے میں پائیدار امن کے لیے ناگزیر ہے۔ فیلڈ مارشل نے اپنے خطاب میں پاک فوج کے عزم کو دہرایا کہ وہ بلوچستان کے عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ 

تربت کا دورہ

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے تربت، بلوچستان کا دورہ کیا تاکہ صوبے کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کا گہرائی سے جائزہ لیا جا سکے اور ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا مشاہدہ کیا جا سکے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، آرمی چیف کو تربت پہنچنے پر کور کمانڈر بلوچستان نے پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر انہیں سیکیورٹی ڈائنامکس، فتنہ الہندوستان کے خلاف کامیاب آپریشنز، اور جنوبی بلوچستان میں جاری ترقیاتی اور سماجی بہبود کے منصوبوں پر جامع بریفنگ دی گئی۔ یہ دورہ بلوچستان کے استحکام اور خوشحالی کے لیے سول اور عسکری اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو مزید مضبوط کرنے کی کوشش کا حصہ تھا۔

سول ملٹری تعاون

دورے کے دوران، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، چیف سیکریٹری بلوچستان، اور دیگر اعلیٰ سول حکام سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں انہوں نے اچھی حکمرانی، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے جامع ترقیاتی منصوبوں کی ضرورت پر زور دیا۔ آرمی چیف نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سول اور عسکری اداروں کا باہمی تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے پاک فوج کی جانب سے جنوبی بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی، جو صوبے کی خوشحالی اور قومی یکجہتی کے لیے اہم ہے۔

پاک فوج کا عزم

فیلڈ مارشل نے بلوچستان کے عوام کی خوشحالی اور خطے میں پائیدار امن کے لیے پاک فوج کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج ہر حال میں بلوچستان کے عوام کے ساتھ کھڑی ہے تاکہ صوبے میں امن، ترقی، اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ آرمی چیف نے زور دیا کہ سول اور عسکری اداروں کی مشترکہ کوششیں صوبے کے مسائل کے حل اور عوام کی زندگیوں میں بہتری لانے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے بلوچستان کی معاشی اور سماجی ترقی کو قومی ترقی کا اہم جزو قرار دیا۔

فوجی جوانوں کی حوصلہ افزائی

اپنے دورے کے دوران، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے فوجی جوانوں سے خطاب کیا اور ان کے بلند حوصلوں، پیشہ ورانہ تیاری، اور مادر وطن کے دفاع کے لیے غیر متزلزل عزم کی تعریف کی۔ انہوں نے مشکل حالات میں خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے میں جوانوں کے کردار کو سراہا۔ آرمی چیف نے کہا کہ پاک فوج کے جوان قومی خودمختاری کے تحفظ اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہر لمحہ تیار ہیں، اور ان کی قربانیاں بلوچستان میں امن کے قیام کی بنیاد ہیں۔

پس منظر

بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، جو اپنی جغرافیائی اہمیت اور قدرتی وسائل کی بدولت قومی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ تاہم، صوبہ طویل عرصے سے سیکیورٹی چیلنجز اور ترقیاتی مسائل کا شکار رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں، پاک فوج اور سول انتظامیہ نے مل کر صوبے میں امن کے قیام اور ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھانے کی کوششیں تیز کی ہیں۔ تربت میں قائم کیڈٹ کالج گرلز، جہاں 600 سے زائد طالبات زیر تعلیم ہیں، اور دیگر تعلیمی و ترقیاتی منصوبے اس تعاون کی روشن مثالیں ہیں۔

حال ہی میں، بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافے نے سیکیورٹی اداروں اور سول انتظامیہ کے لیے نئے چیلنجز پیش کیے ہیں۔ وفاقی حکومت نے پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کو خصوصی اختیارات دینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ صوبے میں امن و امان بحال کیا جا سکے۔ اس تناظر میں، فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ تربت نہ صرف سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے بلکہ صوبے کی ترقی کے لیے سول ملٹری تعاون کو مضبوط کرنے کی ایک اہم کوشش ہے۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورہ تربت بلوچستان کے لیے ایک اہم پیغام ہے کہ پاک فوج اور سول انتظامیہ مل کر صوبے کے عوام کی خوشحالی اور امن کے لیے پرعزم ہیں۔ آرمی چیف کا سول ملٹری تعاون پر زور دینا ایک مثبت اقدام ہے، کیونکہ بلوچستان کے پیچیدہ مسائل، جیسے دہشت گردی، معاشی پسماندگی، اور بنیادی ڈھانچے کی کمی، صرف مشترکہ کوششوں سے ہی حل ہو سکتے ہیں۔ تربت جیسے علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں، جیسے کہ کیڈٹ کالجز اور دیگر سماجی بہبود کے پروگرامز، کا معائنہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاک فوج نہ صرف سیکیورٹی بلکہ تعلیم اور معاشی ترقی کے شعبوں میں بھی اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔

تاہم، بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے صرف فوجی آپریشنز یا ترقیاتی منصوبوں پر انحصار کافی نہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صوبے میں لاپتہ افراد، بے روزگاری، اور سیاسی نمائندگی کے مسائل کو بھی حل کرنے کی ضرورت ہے۔ فیلڈ مارشل کا گڈ گورننس پر زور اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ ان چیلنجز سے آگاہ ہیں، لیکن ان مسائل کے حل کے لیے مقامی کمیونٹی کی شمولیت اور شفاف سیاسی عمل ناگزیر ہیں۔

بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے فتنہ الہندوستان اور دیگر دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف کامیاب آپریشنز قابل ستائش ہیں، لیکن طویل مدتی امن کے لیے سیاسی مکالمے اور مقامی قیادت کو بااختیار بنانے کی ضرورت ہے۔ پاک فوج کا عزم کہ وہ بلوچستان کے عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے، ایک مثبت پیغام ہے، لیکن اس عزم کو عملی جامہ پہنانے کے لیے سول اداروں کی صلاحیت کو بڑھانا اور مقامی آبادی کے تحفظات کو دور کرنا ضروری ہے۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر کا یہ دورہ بلوچستان کے عوام کے لیے ایک امید کی کرن ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ قومی قیادت ان کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ ہے۔ اگر سول اور عسکری ادارے مل کر شفاف اور عوام دوست پالیسیوں پر عمل پیرا ہوں، تو بلوچستان نہ صرف امن کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے بلکہ قومی ترقی میں بھی اپنا بھرپور کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہ دورہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ مشترکہ کوششیں اور قومی یکجہتی ہی بلوچستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین