’’قرض چڑھاؤ، حکومت چلاؤ‘‘ کی معاشی پالیسی کب تک جاری رہے گی؟:میاں ریحان مقبول

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آئی ایم ایف کا مقصد معاشی استحکام نہیں بلکہ ملک میں معاشی دباؤ اور بدحالی کو بڑھانا ہے

لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)پاکستان عوامی تحریک کے سینئر نائب صدر میاں ریحان مقبول نے کہا ہے کہ ’’قرض چڑھاؤ، حکومت چلاؤ‘‘ کی معاشی پالیسی آخر کب تک جاری رہے گی۔ ان کے مطابق حکومت کی جانب سے ہر اُس شے پر ٹیکس میں اضافہ کیا جا رہا ہے جو عام آدمی کی بنیادی ضرورت سے متعلق ہے، جس سے عوامی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آئی ایم ایف کا مقصد معاشی استحکام نہیں بلکہ ملک میں معاشی دباؤ اور بدحالی کو بڑھانا ہے، جبکہ حکمران بھی اس صورتحال سے مکمل طور پر آگاہ ہونے کے باوجود بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے مطابق بجلی اور گیس کے بل ادا کرنے کے بعد محنت کش اور یومیہ اجرت کمانے والے افراد کے پاس اپنی بنیادی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی وسائل نہیں بچتے۔

میاں ریحان مقبول نے کہا کہ تنخواہ دار اور محنت کش طبقہ ہر ماہ بجلی کے بلوں کے خوف میں مبتلا رہتا ہے، کیونکہ بلوں کی غیر یقینی صورتحال نے گھریلو بجٹ کو شدید متاثر کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے کسی بھی ملک میں اس نوعیت کی بے یقینی نہیں پائی جاتی جہاں شہری اپنی آمدن کے مطابق اخراجات کا درست اندازہ نہ لگا سکیں، جبکہ پاکستان میں بعض اوقات بجلی کا بل 5 ہزار سے بڑھ کر 50 ہزار تک پہنچ جاتا ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایسے حالات میں عام آدمی آخر کب تک جسم اور جان کا رشتہ برقرار رکھنے کی جدوجہد کرتا رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل سے کم ہو کر 95 ڈالر تک آ چکی ہے، لیکن اس کے باوجود پاکستان میں عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا جا رہا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر کم از کم 100 روپے فی لیٹر تک پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی جائے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر عالمی قیمتوں میں اضافہ ہونے پر مقامی سطح پر قیمتیں بڑھائی جا سکتی ہیں تو کمی آنے پر عوام کو ریلیف کیوں نہیں دیا جاتا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ خطے میں امن کی صورتحال بہتر ہو رہی ہے اور سفارتی سطح پر مثبت پیش رفت سامنے آ رہی ہے، اس کے باوجود ملک میں مہنگائی کا دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے، جو سمجھ سے بالاتر ہے۔

دوسری جانب پاکستان عوامی تحریک کے ایڈیشنل سیکرٹری جنرل میاں کاشف نے کہا کہ عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے باوجود پاکستان میں عام آدمی کو اس کا کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان عوامی تحریک محض تنقید برائے تنقید کی سیاست نہیں کرتی بلکہ ہمیشہ مثبت اور تعمیری کردار ادا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے مطابق آئی ایم ایف کے قرضوں پر انحصار سے ملک کی معیشت کبھی مستحکم نہیں ہو سکتی۔

میاں کاشف نے تجویز دی کہ معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے قومی وسائل کا رخ زرعی ترقی اور آبی ذخائر کی تعمیر کی جانب موڑا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کم از کم دس سال کے لیے زرعی ایمرجنسی نافذ کی جائے، اس دوران بجلی، ڈیزل، کھاد اور بیجوں کی قیمتیں نصف کی جائیں اور کسانوں کو سود سے پاک قرضے فراہم کیے جائیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ زرعی شعبے کی بہتری کے لیے مارکیٹنگ کے نظام کی مکمل تنظیم نو ضروری ہے، کیونکہ جب زرعی شعبہ مضبوط ہوگا تو صنعتی ترقی بھی خود بخود ممکن ہو سکے گی۔ ان کے مطابق اس حکمت عملی سے نہ صرف معیشت کو استحکام ملے گا بلکہ ملک قرضوں کے بوجھ اور معاشی انحصار سے بھی نجات حاصل کر سکتا ہے۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیان پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال پر ایک شدید سیاسی و عوامی ردعمل کی عکاسی کرتا ہے، جس میں بنیادی نکتہ یہ ہے کہ معیشت کا نظام مسلسل قرضوں اور بیرونی مالیاتی اداروں پر انحصار کرتا جا رہا ہے۔ میاں ریحان مقبول کی تنقید اس عمومی تاثر کو اجاگر کرتی ہے کہ حکومتیں وقتی مالی استحکام کے لیے قرضوں کا سہارا لیتی ہیں، مگر اس کے نتیجے میں ٹیکسوں اور مہنگائی کا بوجھ براہ راست عام شہری پر منتقل ہو جاتا ہے، جس سے معاشی دباؤ مزید بڑھ جاتا ہے۔

بیان میں مہنگائی اور توانائی کے بحران کو مرکزی مسئلہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے، خاص طور پر بجلی اور گیس کے بلوں کی غیر یقینی اور بلند سطح کو عوامی مشکلات کی بڑی وجہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ صورتحال پاکستان کے توانائی شعبے کے ساختی مسائل سے جڑی ہوئی ہے، جن میں گردشی قرض، پیداواری لاگت میں اضافہ، روپے کی قدر میں کمی اور سبسڈی پالیسیوں میں بار بار تبدیلی شامل ہیں۔ نتیجتاً عام صارف کے لیے ماہانہ اخراجات کا اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے، جو اس بیان میں اٹھایا گیا ایک اہم نکتہ ہے۔

اسی طرح عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود مقامی سطح پر ریلیف نہ ملنے پر بھی سوال اٹھایا گیا ہے۔ یہ بحث دراصل اس معاشی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں صرف عالمی منڈی پر منحصر نہیں ہوتیں بلکہ ان میں ٹیکس، لیویز اور روپے کی قدر جیسے عوامل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں، جس کی وجہ سے عالمی کمی کا فائدہ مکمل طور پر صارف تک نہیں پہنچ پاتا۔

آئی ایم ایف کے کردار پر کی جانے والی تنقید بھی اس بیان کا اہم حصہ ہے، جس میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بیرونی قرضے وقتی سہارا تو دیتے ہیں لیکن طویل مدت میں معیشت کو خود کفالت کی طرف لے جانے میں ناکام رہتے ہیں۔ تاہم معاشی ماہرین کے مطابق یہ مسئلہ صرف قرضوں کا نہیں بلکہ ملکی آمدن اور اخراجات کے عدم توازن کا بھی ہے، جس کے باعث ہر حکومت کو سخت فیصلے کرنے پڑتے ہیں جو مہنگائی میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔

بیان میں زرعی شعبے کو معیشت کی بحالی کا بنیادی حل قرار دیتے ہوئے اس پر طویل المدتی سرمایہ کاری اور اصلاحات کی تجویز دی گئی ہے، جو ایک اہم ساختی نقطہ نظر ہے۔ میاں کاشف کی جانب سے زرعی ایمرجنسی، سبسڈی میں کمی اور کسانوں کے لیے آسان قرضوں کی تجویز اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اگر زرعی پیداوار اور دیہی معیشت کو مضبوط کیا جائے تو درآمدی انحصار کم ہو سکتا ہے اور معیشت کو استحکام مل سکتا ہے۔

مجموعی طور پر یہ بیان اس وسیع تر معاشی بحث کو سامنے لاتا ہے کہ پاکستان کی معیشت ایک ایسے ماڈل میں پھنس چکی ہے جہاں قرض، مہنگائی اور ٹیکس کا بوجھ ایک مسلسل چکر کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ اس صورتحال سے نکلنے کے لیے محض وقتی ریلیف کافی نہیں بلکہ ایک جامع ساختی تبدیلی درکار ہے، جس میں پیداوار، برآمدات اور بالخصوص زرعی و صنعتی شعبوں کی مضبوطی بنیادی کردار ادا کر سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین